امریکی کانگریس کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ’پاکستان کاکس‘ کے زیرِ اہتمام پاک امریکا تعلقات پر ایک تاریخی سمپوزیئم کا انعقاد کیا گیا، جس میں دونوں ممالک کے ماضی، حال اور مستقبل کے تعلقات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
یہ اہم نشست کیپٹیل ہل کی تاریخی عمارت میں منعقد ہوئی جو تقریباً چار گھنٹے جاری رہی۔ سمپوزیئم کا اہتمام پاکستان کاکس کے چیئرمین کانگریس مین ٹام سوازی اور جیک برگ مین کی قیادت میں پاکستانی سفارتخانے کے تعاون سے کیا گیا۔
سمپوزیئم میں سیکیورٹی اور اقتصادی تعلقات کے موضوعات پر خصوصی سیشنز رکھے گئے، جن میں امریکی وزارتِ خارجہ کے اعلیٰ حکام، تھنک ٹینکس، سابق سفرا اور سیکیورٹی و معاشی ماہرین نے شرکت کی۔ امریکی انتظامیہ کی نمائندگی اسسٹنٹ سیکرٹری برائے جنوبی و وسطی ایشیا پال کپور نے کی۔
یہ بھی پڑھیے پاک امریکا پارٹنر شپ، نئے امکانات دھندلا نہ جائیں
اپنے بیان میں ٹام سوازی نے کہا کہ اس سمپوزیئم کا مقصد پاک امریکا دوطرفہ تعلقات کی تاریخ، سیکیورٹی اور اقتصادی پہلوؤں کا جائزہ لے کر ایک بہتر مستقبل کی راہ ہموار کرنا ہے۔ امریکی وزارتِ خارجہ نے بھی اس اقدام کا خیر مقدم کیا۔
پال کپور نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کے دور میں پاک امریکا تعلقات میں مثبت پیش رفت ہوئی، جس سے اقتصادی شعبوں خصوصاً معدنیات میں باہمی شراکت داری کو فروغ ملا۔
اس موقع پر امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے کانگریس کی پاکستان کاکس، خصوصاً ٹام سوازی اور جیک برگ مین کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاک امریکا شراکت داری نہ صرف تاریخی اہمیت رکھتی ہے بلکہ علاقائی اور عالمی امن کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔
سفیر پاکستان کا کہنا تھا کہ دنیا کے دو بڑے آبادی والے ممالک کے درمیان تعاون ایک آپشن نہیں بلکہ وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے پاکستان کے جغرافیائی محل وقوع، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کردار اور عالمی امن کے لیے خدمات کو اجاگر کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ماضی میں تعلقات کا محور سیکیورٹی رہا ہے، تاہم اب اقتصادی تعاون کی اہمیت بھی بڑھ چکی ہے۔ امریکا پاکستان کی سب سے بڑی تجارتی منڈی ہے اور پاکستان وسیع البنیاد اقتصادی شراکت داری کا خواہاں ہے۔
رضوان سعید شیخ نے پاکستان کی نوجوان، تعلیم یافتہ اور ہنر مند افرادی قوت کو آئی ٹی کے شعبے میں امریکا کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اہم قرار دیا، جبکہ امریکا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کو دونوں ممالک کے درمیان ایک مضبوط پل قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیے پاک امریکا تعلقات میں گرمجوشی، اعلیٰ سفارتی دورہ، تعلیمی روابط اور اسپورٹس ڈپلومیسی نمایاں
کانفرنس میں معروف معاشی ماہرین نے پاکستان کی معاشی استعداد اور دوطرفہ اقتصادی تعاون کے امکانات پر تفصیلی گفتگو کی، جبکہ پاکستان میں امریکی سفارتخانے کی ناظم الامور نٹالی بیکر نے بھی خطاب کیا۔
سمپوزیئم کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاک امریکا تعلقات پر اس نوعیت کے مکالمے کو باقاعدگی سے جاری رکھا جائے گا، تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔













