داولتیہ فیری گھاٹ کے قریب پدما ندی میں ایک مسافر بس گرنے کے نتیجے میں کم از کم 23 افراد جاں بحق ہو گئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ لاشیں نکال کر شناخت کے بعد لواحقین کے حوالے کر دی گئی ہیں جبکہ کچھ افراد ابھی لاپتا ہیں۔
مزید پڑھیں:بنگلہ دیش میں توانائی خدشات بڑھ گئے، وزیراعظم طارق رحمان کی زیر صدارت اہم اجلاس
مقامی انتظامیہ کے مطابق حادثہ بدھ کی شام پیش آیا جب سوہارڈیا پاریبھان کی بس فیری میں سوار ہونے کے دوران قابو کھو بیٹھی اور ندی میں جاگری۔ ریسکیو ٹیموں نے بعد ازاں بس کو نکال کر 23 لاشیں بازیاب کیں۔ ہلاک شدگان میں راجباری، کُشتیہ، ژنائی دہ، گوپال گنج، دیناج پور، ڈھاکا اور دیگر اضلاع کے مسافر شامل ہیں۔
حکام نے بتایا کہ کم از کم 3 زخمی افراد قریبی اسپتالوں میں زیر علاج ہیں اور ریسکیو اہلکار خوف ظاہر کر رہے ہیں کہ مزید لوگ ابھی لاپتا ہو سکتے ہیں۔
حادثے کے زندہ بچ جانے والے افراد نے میڈیا کو بتایا کہ بس زیادہ بھر گئی تھی، تمام سیٹیں پر تھیں اور اضافی مسافر کھڑے تھے۔ کئی مسافر انجن کے قریب بیٹھے ہوئے تھے اور کچھ نے بچوں کو اپنے گھٹنوں پر اٹھا رکھا تھا۔ حادثے سے پہلے کچھ مسافر بس سے اتر گئے تھے، لیکن سوار ہونے کے دوران بس اچانک ندی میں گر گئی۔
مزید پڑھیں:بنگلہ دیش اور پاکستان کا ہوا بازی اور سیاحت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کا عزم
بس دوپہر میں کمارکھالی سے ڈھاکا کے لیے روانہ ہوئی تھی، جس میں کئی مسافر عید کی تعطیلات کے بعد اپنے کام پر واپس جا رہے تھے۔ مقامی حکام نے حادثے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔













