پاکستانی روپے کی قدر بھارتی روپے کے مقابلے میں بہتر ہوگئی

جمعرات 26 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مارچ 2026 کے اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق، پاکستانی روپے (PKR) نے بھارتی روپے (INR) کے مقابلے میں گزشتہ 3 برس کی بلند ترین سطح حاصل کرلی ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق یہ پیشرفت پاکستانی معیشت میں استحکام اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کی علامت ہے۔

اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ 2023 کے اوائل میں پاکستانی روپیہ شدید دباؤ کا شکار تھا، تاہم حالیہ مہینوں میں اس نے غیر معمولی ریکوری کی ہے۔ مارچ 2023 کے مقابلے میں، پاکستانی روپے کی قدر میں بھارتی روپے کے مقابلے میں قریباً 16% اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ گزشتہ ایک ماہ (فروری سے مارچ 2026) کے دوران، روپے کی قدر میں 2.45% بہتری آئی ہے، جو 0.327 سے بڑھ کر 0.336 تک پہنچ گئی ہے۔

مزید پڑھیں: کیا یکم جنوری سے پاکستان کے کرنسی نوٹ تبدیل ہورہے ہیں؟

معاشی ماہر محمد عدنان پراچہ کے مطابق، برآمدات میں اضافہ، آئی ایم ایف (IMF) پروگرام کے تسلسل اور سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر میں استحکام نے روپے کو سہارا دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ 2023 میں 1000 پاکستانی روپے کے بدلے صرف 290 بھارتی روپے ملتے تھے۔ آج 1000 پاکستانی روپے کے بدلے 336 بھارتی روپے مل رہے ہیں، اس بہتری سے نہ صرف سرحد پار تجارت میں آسانی پیدا ہوگی بلکہ عالمی مارکیٹ میں پاکستانی کرنسی کی ساکھ میں بھی اضافہ ہوگا۔

معاشی ماہر جبران احمد کا کہنا ہے کہ یہ بہتری محض اتفاقی نہیں بلکہ چند ٹھوس معاشی عوامل کا نتیجہ ہے۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے سخت مانیٹری پالیسی اور شرح سود کو بلند سطح پر برقرار رکھنے نے روپے کو سہارا دیا۔ اس کی وجہ سے مارکیٹ میں روپے کی طلب میں اضافہ ہوا اور سٹہ بازی میں کمی آئی، جس کا براہِ راست اثر بھارتی روپے کے خلاف تبادلے کی شرح پر پڑا۔

معاشی ماہر شہریار بٹ کے مطابق قانونی ذرائع سے آنے والی ترسیلاتِ زر میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 12 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ آئی ایم ایف اور دوست ممالک سے ملنے والے فنڈز کے باعث زرمبادلہ کے ذخائر میں استحکام آیا ہے، جس نے روپے کو گراوٹ سے بچا کر بھارتی روپے کے مقابلے میں بہتر پوزیشن میں کھڑا کیا ہے۔

شہریار بٹ نے اکنامک انٹیلیجنس یونٹ کا حوالہ دے کر کہا کہ اس کے مطابق پاکستان نے اپنی درآمدات کو کنٹرول کیا اور برآمدات بالخصوص آئی ٹی اور ٹیکسٹائل کے شعبوں میں بہتری دکھائی ہے۔ جب کسی ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہوتا ہے، تو اس کی کرنسی دیگر علاقائی کرنسیوں کے مقابلے میں مضبوط ہونے لگتی ہے۔

مزید پڑھیں: خواتین کے بہتر روزگار کے لیے بلا سود قرضہ سہولت کا اجراء کیا جا رہا ہے، اسٹیٹ بینک

تجزیہ کار و معاشی ماہر سلمان نقوی کا خیال ہے کہ جہاں پاکستانی روپیہ مضبوط ہوا، وہیں بھارتی روپیہ بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اخراج کی وجہ سے معمولی دباؤ کا شکار رہا۔ اس دو طرفہ صورتحال نے تبادلے کی شرح کو 0.336 تک پہنچانے میں مدد دی۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ اگر پاکستان اپنی برآمدی پالیسی اور سیاسی استحکام کو برقرار رکھتا ہے، تو روپے کی یہ مضبوطی مستقل بنیادوں پر قائم رہ سکتی ہے۔ تاہم، عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اس استحکام کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp