پیٹرول کی قیمت میں پمپ مالکان کا حصہ کتنا ہے، وہ اضافہ کیوں چاہتے ہیں؟

جمعرات 26 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے ساتھ ساتھ پیٹرول پمپ مالکان کی جانب سے اپنے مارجن میں اضافے کے مطالبات بھی شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ پیٹرولیم ڈیلرز کی نمائندہ تنظیم متعدد بار خبردار کر چکی ہے کہ اگر اس کے مطالبات نہ مانے گئے تو ہڑتال جیسے اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔

وی نیوز سے گفتگو میں پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے نائب صدر راجہ وسیم نے اس معاملے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت پیٹرول پمپ مالکان کو فی لیٹر پیٹرول کی فروخت پر تقریباً 2 فیصد مارجن دیا جاتا ہے، جو موجودہ قیمتوں کے حساب سے تقریباً 8 روپے فی لیٹر بنتا ہے۔

تاہم، ان کے مطابق یہ مکمل رقم بھی پمپ مالکان کے پاس نہیں رہتی۔ انہوں نے بتایا کہ اس 8 روپے میں سے تقریباً 1 روپے 30 پیسے تیل فراہم کرنے والی کمپنیاں وصول کر لیتی ہیں۔ مزید برآں، شہری علاقوں خصوصاً اسلام آباد اور راولپنڈی میں زیادہ تر ادائیگیاں ڈیجیٹل یا کارڈ کے ذریعے کی جا رہی ہیں، جن پر بینک تقریباً 2 روپے فی لیٹر تک چارجز وصول کرتے ہیں۔ یوں عملی طور پر پمپ مالکان کے پاس فی لیٹر بہت کم رقم بچتی ہے، جبکہ اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے پیٹرول کی قیمت میں کسی بڑے اضافے کا ارادہ نہیں، حکومت نے عوام کو خوشخبری سنا دی

راجہ وسیم کے مطابق پمپ مالکان کو ملازمین کی تنخواہیں، مہنگے کرائے، سکیورٹی اخراجات اور بجلی کے بھاری بل ادا کرنا پڑتے ہیں، جو بعض صورتوں میں ماہانہ 10 لاکھ روپے تک پہنچ جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں 8 روپے فی لیٹر کے مارجن سے کاروبار چلانا انتہائی مشکل ہو چکا ہے، یہی وجہ ہے کہ ایسوسی ایشن گزشتہ کئی برسوں سے مارجن بڑھانے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیلرز چاہتے ہیں کہ یہ شرح 2 فیصد سے بڑھا کر کم از کم 8 فیصد کی جائے تاکہ اخراجات پورے کیے جا سکیں۔

راجہ وسیم نے مزید انکشاف کیا کہ 2022 کے بعد سے مارجن میں اضافے کا مطالبہ مسلسل زیرِ التوا ہے، حالانکہ حکومت کے ساتھ طے پانے والے ایک معاہدے کے مطابق ہر سال 1 روپے 30 پیسے فی لیٹر مارجن میں اضافہ ہونا تھا، جو گزشتہ 2 برس سے نہیں کیا گیا۔

ایسوسی ایشن کے صدر عبدالسمیع کی جانب سے وفاقی وزیر پیٹرولیم کو متعدد بار اس مسئلے کے حل کے لیے درخواستیں بھی دی گئی ہیں، تاہم ابھی تک کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔ ڈیلرز کا کہنا ہے کہ اگر ان کے مسائل حل نہ کیے گئے تو پیٹرول کی ترسیل اور فروخت متاثر ہو سکتی ہے۔

دوسری طرف وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے پیٹرولیم ڈیلرز کی جانب سے مارجن بڑھانے کے مطالبے پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں عوام پر مزید بوجھ ڈالنا مناسب نہیں، حکومت اس مسئلے کا حل نکالنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث عوام پہلے ہی مشکلات کا شکار ہیں۔ 28 فروری کو پہلی بمباری کے بعد سے حالات غیر معمولی ہیں، لوگ عید بھی اپنے گھروں میں نہیں منا سکے۔ ایسے وقت میں قیمتوں میں اضافہ یا مارجن بڑھانے کا مطالبہ عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا کرے گا۔

یہ بھی پڑھیے حکومت کا عوام کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کے اثرات سے بچانے کے لیے اہم اقدام

علی پرویز ملک کے مطابق حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی دستیابی کو یقینی بنانے اور قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کے لیے اعلیٰ سطح پر مشاورت جاری ہے، جس میں وزیر اعظم، وزیر خزانہ اور دیگر متعلقہ حکام شامل ہیں۔

وزیر پیٹرولیم نے واضح کیا کہ حکومت نے پیٹرولیم ڈیلرز کے جائز تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیجیٹائزیشن کا ایک جامع نظام تیار کیا ہے، جس کے ذریعے نہ صرف ڈیلرز کو ان کا مناسب مارجن ملے گا بلکہ حکومتی خزانے کو بھی نقصان نہیں ہوگا۔ اس حوالے سے رپورٹ تیار ہو چکی ہے اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو سمیت متعلقہ اداروں سے منظوری بھی حاصل کی جا چکی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم ڈیلرز کے ساتھ بیٹھ کر مسائل حل کرنے کے لیے تیار ہیں، ایک دو دن میں ملاقات بھی متوقع ہے، تاہم یہ وقت ایسے فیصلوں کا نہیں کہ جب عوام پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوں اور مزید اضافہ کیا جائے۔

علی پرویز ملک نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کی اولین ترجیح عوام کو ریلیف فراہم کرنا اور ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قسم کی’بلیک میلنگ‘ یا دباؤ کے ذریعے مطالبات منوانا قابل قبول نہیں ہوگا۔

علی پرویز ملک نے کہا کہ موجودہ حالات میں قومی مفاد کو ترجیح دینا ضروری ہے اور تمام فریقین کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ عوام کو مزید مشکلات سے بچایا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران نے پاکستانی پرچم بردار مزید 20 جہازوں کو ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی، اسحاق ڈار کا انکشاف

مشرق و سطیٰ کشیدگی: آج اسلام آباد میں پاکستانی، سعودی، ترکیہ اور مصری وزرائے خارجہ کی اہم بیٹھک ہوگی

لاہور جنرل اسپتال میں کامیاب طبی کارروائی، 3 ماہ کے بچے کے معدے سے لوہے کا واشر نکال لیا گیا

خطے کی صورتحال پر چہار فریقی اجلاس،  مصری وزیر خارجہ پاکستان پہنچ گئے

’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘

ویڈیو

عمران خان کی آنکھ نہیں بلکہ پاکستان کے بارے میں ان کی سوچ اور نظر ہی خراب ہے، رکن خیبر پختونخوا اسمبلی سونیا شاہ

اسرائیل میں نیتن یاہو پر دباؤ، جے شنکر کی وجہ سے مودی حکومت پھر متنازع صورتحال میں مبتلا

گلگت بلتستان، جہاں پاک فوج کے منصوبے ترقی کی نئی داستان لکھ رہے ہیں

کالم / تجزیہ

مانیں نہ مانیں، پاکستان نے کرشمہ تو دکھایا ہے

ٹرمپ کے پراپرٹی ڈیلر

کیا تحریک انصاف مکتی باہنی کے راستے پر چل رہی ہے؟