مشرق وسطیٰ کشیدگی کے بعد پاکستان دنیا میں مرکز نگاہ بن چکا ہے، سفارتکار مسعود خالد

ہفتہ 28 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کے سابق سفیر مسعود خالد نے کہا ہے کہ بھارت نے مئی 2025 جنگ میں جو ہزیمت اُٹھائی وہ ابھی تک اُس کے اعصاب پہ سوار ہے۔ اُن کا بغض اور تعصب ختم ہی نہیں ہو رہا اور بھارتی وزیرِ خارجہ جے شنکر نے پاکستان کی مصالحتی کوشش کے بارے میں جو زبان استعمال کی وہ اُس کے اِضطراب کا مظہر ہے۔ کوئی بھی حکومتی ترجمان ہو اُس کے لیے لفظوں کے استعمال میں احتیاط لازمی ہونی چاہیے اور یہ بہت افسوس کی بات ہے۔

وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے امریکا، اسرائیل ایران جنگ کے بارے میں انہوں نے کہاکہ یہ بہت پیچیدہ جنگ ہے اور اُس کے کئی رُخ ہیں۔ اس جنگ میں کمزور ہونے کے باوجود اسرائیل اپنی شرارتیں جاری رکھے گا۔ صدر ٹرمپ کا یہ کہنا کہ وہ ایران کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کی نگرانی اور انتظام کر سکتے ہیں، امریکا کی جانب سے اُس کی معدنی تیل میں دلچسپی کے عوامل ظاہر کرتا ہے۔

مسعود خالد کے مطابق ایران کے لیے یہ سروائیول کی جنگ ہے اور وہ آخری دم تک لڑے گا۔ دیکھنا یہ ہے کہ پہلے آنکھ کون جھپکتا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ اِس وقت پاکستان دنیا میں مرکز نگاہ ہے جو پاکستان کی سفارتی لحاظ سے اچھی کامیابی ہے۔ ہماری سویلین قیادت اور چیف آف ڈیفنس فورسز بڑی کوششیں کر رہے ہیں۔ اگر پاکستان میں مذاکرات نہیں بھی ہوتے پھر بھی پاکستان کے لیے ایک بہت بڑی کامیابی ہے کہ اُس نے ایک انتہائی مثبت کردار ادا کیا۔

دونوں متحارب طاقتیں بحرحال اس جنگ سے سیف ایگزٹ چاہتی ہیں۔

ایران اور امریکا مذاکرات ہونے کا امکان کتنا ہے؟

اس سوال کے جواب میں ایمبیسیڈر مسعود خالد نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کا یہ خاصہ رہا ہے کہ وہ دھمکیاں دینے اور فریقِ مخالف کو دیوار سے لگانے کے طریقوں پر ہی یقین رکھتے ہیں۔ کل بھی اُنہوں نے کہا کہ وہ 20 فیصد حملوں میں شدّت لے کر آئیں گے۔ وہ ایران کے اوپر دباؤ ڈالنا چاہ رہے ہیں تاکہ وہ اُن کی مرضی کی شرائط پر آ جائے۔

اس وقت تو فریقین نے بات چیت کے لیے بُلند ترین اہداف رکھے ہوئے ہیں۔ امریکا نے جو 15 نکاتی تجاویز دی ہیں اُس کے مطابق تو ایرانی دفاعی نظام بالکل ہی ناکارہ ہو جاتا ہے۔ اُس میں کہا گیا ہے کہ نیوکلیئر کو رول بیک کر دیا جائے اور میزائل پروگرام میں تخفیف کر دی جائے۔ دوسری طرف ایران کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں فوجی اڈوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ یہ دونوں انتہائی نوعیت کے مؤقف ہیں لیکن اصل بات یہ ہے کہ بات چیت شروع ہو۔

اِس جنگ کے نتیجے میں اسرائیل کتنا کمزور ہوا ہے؟

اس سوال کے جواب میں ایمبیسیڈر مسعود خالد نے کہا کہ اِس جنگ میں یہ تو ثابت ہو گیا کہ اسرائیل کا آئرن ڈوم ناقابلِ شکست نہیں ہے۔ دوسرا اسرائیل کے جو اہداف تھے نہ وہ جون 2025 کی جنگ میں حاصل ہوئے نہ اِس جنگ میں۔ پچھلی بار کہا گیا کہ ایران کا جوہری توانائی انفراسٹرکچر مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔ لیکن انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کہتا ہے کہ اِس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا، دوسری طرف آئی اے ای اے یہ بھی کہتا ہے کہ ایران کے ایٹم بم بنانے سے متعلق شواہد بھی نہیں ملے۔ اسرائیل اور امریکا کا دوسرا ہدف یہ تھا کہ ایران میں رجیم چینج ہو جائے گی، وہ بھی نہیں ہوا۔ امریکا نے مضمرات کا اندازہ لگائے بغیر اسرائیل کے کہنے پر اِس جنگ کا آغاز کیا جس کا نتیجہ اب سامنے آ رہا ہے اور خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔

اس جنگ میں کمزور ہو جانے کے باوجود اسرائیل مسلم ممالک کو لڑانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

ایمبیسیڈر مسعود خالد نے کہا کہ اِس جنگ میں نقصان اُٹھانے کے باوجود آپ یہ توقع نہ رکھیں کہ اسرائیل آرام سے بیٹھ جائے گا۔ اُس کا نظریہ مسلم ممالک کو آپس میں لڑانا ہے۔ وہ کوشش کرے گا کہ شیعہ سُنی فساد کرا دے، کوشش کرے گا کہ ایران اور خلیجی ممالک کو آپس میں لڑا دے، کوشش کرے گا کہ کسی طرح سے پاکستان کو مُشکلات میں ڈالے کیونکہ اُس کا نظریہ مذہبی نوعیت کا حامل ہے وہ گریٹر اسرائیل کا نظریہ ہے۔ اگر جنگ رُک جاتی ہے تو اسرائیل اپنی طاقت دوبارہ سے مجتمع کرنے کی کوشش کرے گا۔ امریکا کبھی بھی اسرائیل کو اپنی چھتری سے محروم نہیں کرے گا۔ اس عرصے میں اسرائیل اپنی قوّت دوبارہ اکٹھی کرے گا اور دوبارہ شرارتیں کرتا رہے گا۔

عوامی رائے کی مخالفت میں امریکا کتنی دیر اِس جنگ کو جاری رکھ سکتا ہے؟

اس سوال کے جواب میں ایمبیسیڈر مسعود خالد نے کہا کہ امریکا پر بہت دباؤ ہے لیکن امریکی صدر اپنی کامیابیوں کے دعوے کرتے ہیں وہ تو کبھی یہ نہیں کہیں گے کہ وہ اپنے اہداف حاصل نہیں کر پائے۔ وہ تو کہہ رہے ہیں کہ ہم ایران میں نئی اور اُس طرح کی رجیم لے کر آئیں گے جن کے ساتھ وہ مذاکرات کر سکیں۔ لیکن ایران وینزویلا نہیں ہے۔ یہ بہت مختلف ملک ہے جس کی نظریاتی بنیادیں بڑی مضبوط ہیں۔ وہاں ایک عوام کی ایک بڑی اکثریت اُن نظریاتی بُنیادوں کو سپورٹ کرتی ہے، لیکن اس کے باوجود امریکا اور ایران کے درمیان طاقت کا فرق تو بہت بڑا ہے۔ اور اب دونوں اطراف اس جنگ سے سیف ایگزٹ چاہتے ہیں۔ اب یہ وار آف سٹیمنا ہو گئی ہے۔ اگر کہیں پر بات چیت کامیاب نہیں ہوتی تو پہلے سے زیادہ شدّت کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہو جائے گی۔

امریکا میں اسرائیل کے خلاف آوازیں اُٹھ رہی ہیں جو بڑی دلچسپ بات ہے اور لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کس طرح سے اسرائیل ہمیں جنگ کی طرف لے کر جا رہا ہے۔ لوگ سوال کر رہے ہیں کہ امریکا کیوں پرائی جنگ میں جائے جس کے نتیجے میں امریکا میں باڈی بیگز آئیں گے۔ امریکی میڈیا اور امریکا پارلیمان میں اس جنگ کے خلاف آوازیں اُٹھائی جا رہی ہیں۔

کیا جے ڈی وینس اور اسٹیو وٹکاف پاکستان آ سکتے ہیں؟

اس سوال کے جواب میں ایمبیسیڈر مسعود خالد نے کہا کہ کیوں نہیں آ سکتے وہ دینا میں کہیں بھی جا سکتے ہیں۔ امریکی صدور بھی آتے رہے ہیں لیکن سوشل میڈیا پر آنے والی افواہوں کو روکا تو نہیں جا سکتا لیکن اُن پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ میڈیا میں یہ خبریں آئیں کہ جے ڈی وینس کسی امریکی بیس پر موجود ہیں اور مذاکرات کے شروع ہونے کے منتظر ہیں۔

پسِ پردہ اس وقت بہت سی سفارتکاری ہو رہی ہے اور ترکی کا نام بھی آ رہا ہے۔  پاکستان اس میں ثالث نہیں

پاکستان اس معاملے کے اندر فریق نہیں پاکستان کا کردار سہولت کار کا ہے۔ ہم یہاں مذاکرات کی میزبانی کر رہے ہیں۔ لیکن خطّے کا امن پاکستان کی معیشت کے لئے بہت اہم ہے۔ کیونکہ تیل کی سپلائی رُکنے سے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کی بہت بڑی تعداد خلیجی ممالک میں ملازمتیں کرتی ہے۔ اگر اُن ممالک کی معیشت متاثر ہو گی تو اُس کا اثر بھی پاکستان پر پڑ سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

عمران خان کے بیٹوں نے پاکستان کے خلاف بات کی تو سپورٹ نہیں کریں گے، بیرسٹر گوہر

بنگلہ دیش حکومت کا عوام کو ریلیف، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار

امریکا اب کسی ملک کی مدد کے لیے موجود نہیں ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ برطانیہ اور فرانس پر برس پڑے

ایشین کپ کوالیفائرز: پاکستان کا خود کیخلاف گول، میانمار جیت گیا

راولپنڈی پولیس نے اغوا ہونے والا بچہ خیبرپختونخوا سے بازیاب کرالیا، ملزمان گرفتار

ویڈیو

گلگت بلتستان کے گاؤں سے وطن سے محبت اور آزادی کی قدر کا پیغام

پاکستان میں مہنگے فیول نے کیب ڈرائیورز اور مسافروں کو بھی مشکل میں ڈال دیا

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار بیجنگ پہنچ گئے، ایران پر بات کریں گے: چین

کالم / تجزیہ

پاکستان کا فیصلہ کیا ہوگا؟

ہم بہت خوش نصیب ہیں، ہم بہت بدنصیب ہیں

ایک حادثہ جس نے میڈیا کی بلوغت کا ثبوت دیا