پاکستان میں جاری سیاسی تعطل کو ختم کرنے کے لیے اپوزیشن اتحاد ‘تحریک تحفظِ آئین پاکستان’ نے مصالحانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے حکومت کو مذاکرات کی باقاعدہ پیشکش کر دی ہے۔ اتحاد نے واضح کیا ہے کہ ملکی بقا اور پارلیمنٹ کی خودمختاری کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو ایک میز پر بیٹھنا ہوگا، جس کے لیے محمود خان اچکزئی کی سربراہی میں کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔
سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے انکشاف کیا ہے کہ محمود خان اچکزئی نے اپوزیشن چیمبر میں حکومتی وفد سے ملاقات کی اور انہیں بحران سے نکلنے کے لیے بہتر راستہ نکالنے کی تجویز دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملاقات کے دوران یہ تاثر ملا کہ حکومتی نمائندے بھی حالات میں بہتری اور کسی درمیانی راستے کی تلاش میں سنجیدہ دکھائی دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم کی مذاکرات کی پیشکش: تحریک تحفظ آئین پاکستان نے بات چیت پر آمادگی ظاہر کردی
ایک نجی ٹیلیویژن پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے علامہ راجہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ محمود خان اچکزئی نے تمام سیاسی جماعتوں کو ایک نکتے پر جمع ہونے کا پیغام دیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، مولانا فضل الرحمان اور دیگر تمام گروہوں کو آئین کی بالادستی اور شفاف انتخابات جیسے اہم معاملات پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا چاہیے۔
مذاکرات کے لیے غیر مشروط پیشکش
اپوزیشن لیڈر کے مطابق محمود خان اچکزئی نے وزیراعظم کو خط لکھ کر غیر مشروط مذاکرات کے آغاز کی دعوت دی ہے، تاہم ابھی تک وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان براہِ راست ملاقات کے حوالے سے کوئی عملی پیشرفت سامنے نہیں آ سکی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہمارا بنیادی مقصد پارلیمانی بالادستی اور ایک ایسی قومی حکومت کی تشکیل ہے جو ملک کو درست سمت میں ڈال سکے۔
یہ بھی پڑھیں:
تحریک تحفظِ آئین پاکستان نے موجودہ صورتحال پر غور اور مستقبل کی حکمت عملی طے کرنے کے لیے پیر کے روز اتحاد کا اہم اجلاس طلب کر لیا ہے۔ اس اجلاس میں حکومت کے ساتھ بات چیت کے ایجنڈے اور ملک گیر سطح پر آئینی بالادستی کی مہم کو حتمی شکل دی جائے گی۔














