خیبر پختونخوا کے فنکار حکومت سے ناراض کیوں؟

اتوار 29 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبر پختونخوا کے فنکاروں کا کہنا ہے کہ فن اور فنکار کی قدر میں مسلسل کمی آ رہی ہے، جبکہ کام نہ ہونے کے باعث ان کے گھروں میں فاقوں تک کی نوبت آ چکی ہے۔

پشتو زبان کے معروف فنکار زرداد بلبل نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پشتو انڈسٹری شدید زوال کا شکار ہے۔ ان کے مطابق پشاور میں سنیما گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہے اور فنکاروں کے پاس روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب پشتو فنکار خوشحال زندگی گزار رہے تھے۔ فلمیں باقاعدگی سے بن رہی تھیں، سنیما گھر آباد تھے اور پی ٹی وی پر بھی کام کے مواقع میسر تھے، تاہم اب وہ دور ماضی کا حصہ بن چکا ہے۔

زرداد بلبل کے بقول، ’اب نہ فن کی قدر رہی ہے اور نہ فنکار کی۔ آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ نہیں، یہاں تک کہ نامور فنکار بھی مزدوری کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ پشاور میں کبھی 20 سے زائد سنیما گھر موجود تھے، جو اب کم ہو کر چند ایک رہ گئے ہیں، جبکہ عید جیسے مواقع پر بھی فلم سازی کا سلسلہ تقریباً ختم ہو چکا ہے۔

فنکاروں کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے دیے جانے والے وظیفوں کا سلسلہ بھی تعطل کا شکار ہے، اور مستحق افراد کو بھی ادائیگیاں نہیں ہو رہیں۔

مزاحیہ فنکار زرداد بلبل نے نشتر ہال کو دوبارہ کھولنے اور فنکاروں کو پروگرامز کی اجازت دینے کے حکومتی اعلان کا خیرمقدم کیا، تاہم انہوں نے اس پر تحفظات کا اظہار بھی کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اجازت نامے (این او سی) کے حصول کا طریقہ کار پیچیدہ ہے اور فیس بھی زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا، ’حکومت اعلانات تو کرتی ہے، لیکن اگر فنکار ان سے فائدہ نہ اٹھا سکیں تو ایسے اقدامات کا کیا فائدہ؟‘

مزید تفصیل اس ویڈیو میں

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp