امریکا اور یورپ کے مختلف شہروں میں ہفتے کے روز صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں اور طرزِ حکمرانی کے خلاف لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ ’نو کنگز‘ کے عنوان سے ہونے والے ان احتجاجی مظاہروں کو منتظمین نے امریکی تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں سے ایک قرار دیا ہے، جس میں 90 لاکھ سے زائد افراد کی شرکت متوقع ہے۔
امریکا سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں ہفتے کے روز لاکھوں افراد نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں شرکت کی۔ مظاہرین نے ٹرمپ کے طرزِ حکمرانی کو آمرانہ قرار دیتے ہوئے ان کی سخت گیر امیگریشن پالیسیوں، ماحولیاتی تبدیلی سے انکار اور ایران کے ساتھ کشیدگی پر شدید تنقید کی۔
منتظمین کے مطابق ملک بھر کے بڑے شہروں، مضافاتی علاقوں اور دیہی خطوں میں تین ہزار سے زائد احتجاجی تقریبات منعقد ہوئیں، جن میں مجموعی طور پر 90 لاکھ سے زائد افراد کی شرکت متوقع ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ مظاہرے امریکی تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے ICE کے خلاف احتجاج شدت اختیار کر گیا، ٹرمپ نے فوج تعینات کرنے کی دھمکی دیدی
’نو کنگز‘ کے نام سے جاری اس عوامی تحریک کے تحت ایک سال سے بھی کم عرصے میں یہ تیسرا بڑا احتجاج ہے۔
اس سے قبل گزشتہ برس جون میں ٹرمپ کی 79ویں سالگرہ کے موقع پر ملک گیر مظاہرے ہوئے تھے، جب واشنگٹن میں فوجی پریڈ بھی منعقد کی گئی تھی۔ اس کے بعد اکتوبر میں ہونے والے احتجاج میں بھی اندازاً 70 لاکھ افراد شریک ہوئے تھے۔
نیویارک میں ہفتے کے روز ہزاروں افراد نے ریلی نکالی، جس میں آسکر ایوارڈ یافتہ اداکار رابرٹ ڈی نیرو بھی شریک ہوئے۔ انہوں نے ٹرمپ کو ’امریکی آزادی اور سلامتی کے وجود کے لیے خطرہ‘ قرار دیا۔
واشنگٹن میں بھی ہزاروں مظاہرین نیشنل مال پر جمع ہوئے، جہاں ’ٹرمپ فوراً مستعفی ہو‘ اور ’فاشزم کے خلاف مزاحمت‘ جیسے نعرے درج بینرز اٹھائے گئے۔
مظاہرہ میں شریک ایک فرد نے خبر رساں ادارے سے گفتگو میں کہا کہ ’ٹرمپ مسلسل جھوٹ بولتے ہیں اور کوئی آواز نہیں اٹھاتا، یہ ایک نہایت سنگین صورتحال ہے۔‘
امریکا میں گہری سیاسی تقسیم
یہ مظاہرے امریکا میں بڑھتی ہوئی سیاسی تقسیم کی عکاسی کرتے ہیں۔ جہاں ٹرمپ کے حامی ’میک امریکا گریٹ اگین‘ تحریک کے تحت ان کی بھرپور حمایت کرتے ہیں، وہیں مخالفین ان پر صدارتی اختیارات کے بے جا استعمال، عدالتی نظام کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے اور ماحولیاتی مسائل کو نظر انداز کرنے کے الزامات عائد کرتے ہیں۔
ٹرمپ کے ناقدین ان کے نسلی و صنفی مساوات کے پروگرام ختم کرنے اور انتخابی مہم کے دوران امن کے دعوؤں کے باوجود فوجی طاقت کے استعمال پر بھی نالاں ہیں۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے ان مظاہروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ’بائیں بازو کے مالیاتی نیٹ ورکس‘ کی پیداوار قرار دیا۔ ترجمان کے مطابق ان احتجاجی مظاہروں کو عوامی حمایت حاصل نہیں بلکہ یہ صرف میڈیا کی توجہ کا مرکز ہیں۔ ریپبلکن رہنماؤں نے بھی ان مظاہروں کو ’انتہا پسندانہ سوچ کی نمائندگی‘ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیے واشنگٹن سمیت امریکی شہروں میں وینزویلا پر حملے کے خلاف احتجاج، ٹرمپ کی گرفتاری کا مطالبہ
تاہم منتظمین کا کہنا ہے کہ احتجاج میں شامل ہونے والوں کی بڑی تعداد بڑے شہروں سے باہر رہتی ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ تحریک تیزی سے پھیل رہی ہے۔
یورپ میں بھی مظاہرے
یورپ کے مختلف شہروں میں بھی ٹرمپ مخالف مظاہرے دیکھنے میں آئے۔ ایمسٹرڈیم، میڈرڈ اور روم سمیت کئی شہروں میں سخت سیکیورٹی میں تقریباً 20 ہزار افراد نے مارچ کیا۔
پیرس میں بیشتر امریکی شہریوں، فرانسیسی مزدور تنظیموں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے باسٹیل کے مقام پر احتجاج کیا۔ منتظمین کا کہنا تھا کہ یہ مظاہرے ٹرمپ کی ’غیر قانونی اور غیر ذمہ دارانہ جنگی پالیسیوں‘ کے خلاف ہیں۔
روم میں ہزاروں افراد نے امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف کارروائیوں کے خلاف احتجاج کیا، جبکہ اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی کی پالیسیوں پر بھی تنقید کی گئی۔
لندن میں بھی ایران جنگ کے خلاف مظاہرے ہوئے، جہاں ’انتہا پسند دائیں بازو کو روکو‘ اور ’نسل پرستی کے خلاف کھڑے ہو‘ جیسے نعرے لگائے گئے۔
یہ بھی پڑھیے صدر ٹرمپ کیخلاف امریکا میں 2600 سے زائد مقامات پر ریلیاں اور احتجاج، مظاہرین کیا چاہتے ہیں؟
’نو کنگز‘ تحریک جنوری 2025 میں ٹرمپ کی دوسری مدت کے آغاز کے بعد ان کے خلاف سب سے نمایاں عوامی مزاحمتی تحریک بن کر سامنے آئی ہے۔
ادھر نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات قریب آ رہے ہیں اور صدر کی مقبولیت 40 فیصد سے نیچے جا چکی ہے، جس کے باعث ریپبلکن پارٹی کو کانگریس کے دونوں ایوانوں پر اپنی گرفت کھونے کا خطرہ لاحق ہے۔













