جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملہ، جنگ کی کوریج کرنے والے مزید 3 صحافی شہید

اتوار 29 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں جنگ کی کوریج کرنے والے 3صحافی شہید ہو گئے، جس پر لبنانی قیادت اور میڈیا اداروں نے شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے صحافیوں کے خلاف سنگین جرم قرار دیا ہے۔

جنوبی لبنان میں ہفتے کے روز اسرائیلی فضائی حملے میں جنگ کی رپورٹنگ کرنے والے 3 صحافی شہید  ہو گئے۔ متعلقہ ٹی وی چینلز کے مطابق شہید ہونے والوں میں حزب اللہ کے نشریاتی ادارے المنار ٹی وی کے سینئر نامہ نگار علی شعیب بھی شامل ہیں۔

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے علی شعیب کو نشانہ بنایا کیونکہ وہ مبینہ طور پر حزب اللہ کے انٹیلیجنس آپریٹو تھے، تاہم اس الزام کے حق میں کوئی شواہد پیش نہیں کیے گئے۔

علی شعیب تقریباً 3 دہائیوں سے جنوبی لبنان میں جنگی رپورٹنگ کر رہے تھے اور انہیں ایک تجربہ کار صحافی کے طور پر جانا جاتا تھا۔

دوسری جانب بیروت سے نشر ہونے والے العربی چینل المیادین ٹی وی کے مطابق اسی حملے میں رپورٹر فاطمہ فتونی بھی اپنے بھائی محمد فتونی کے ہمراہ شہید ہوگئیں، جو ویڈیو جرنلسٹ تھے۔ بتایا گیا ہے کہ حملے سے کچھ ہی دیر قبل فاطمہ فتونی براہِ راست نشریات میں رپورٹ پیش کر رہی تھیں۔

یہ بھی پڑھیے غزہ: اسرائیل کا النصر اسپتال پر حملہ 4 فلسطینی صحافیوں سمیت 14 شہید

لبنان کی اعلیٰ قیادت نے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ صدر جوزف عون نے اسے ’کھلا جرم‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صحافیوں کے تحفظ سے متعلق تمام بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ علی شعیب جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجیوں کی پوزیشنز کو منظرعام پر لانے میں ملوث تھے اور حزب اللہ کے جنگجوؤں سے رابطے میں تھے، تاہم اس دعوے کی مزید تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔
المنار ٹی وی نے ان الزامات پر فوری ردعمل نہیں دیا، تاہم اپنے نامہ نگار کو ’پیشہ ورانہ دیانت اور مستند رپورٹنگ کا حامل‘ قرار دیا۔

اسرائیلی فوج کے یہ دعوے ماضی میں غزہ میں حماس کے خلاف کارروائیوں کے دوران فلسطینی صحافیوں کے خلاف لگائے گئے اسی نوعیت کے الزامات سے مماثلت رکھتے ہیں، جہاں اسرائیل نے بعض صحافیوں کو عسکریت پسند قرار دیا تھا۔

اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں دیگر 2 شہید ہونے والے صحافیوں کا ذکر نہیں کیا۔

حملوں اور ہلاکتوں میں اضافہ

2 مارچ سے جاری اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد اسرائیلی فضائیہ جنوبی لبنان میں متعدد شہری اہداف کو نشانہ بنا چکی ہے، جن میں المنار ٹی وی کا ہیڈکوارٹر اور النور ریڈیو اسٹیشن بھی شامل ہیں۔

یہ تازہ حملہ چند روز قبل بیروت کے وسطی علاقے میں ایک رہائشی عمارت پر کیے گئے حملے کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں المنار ٹی وی کے سیاسی پروگراموں کے سربراہ محمد شری اپنی اہلیہ سمیت جاں بحق ہو گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے مریم ابو دقہ، اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والی خاتون صحافی کون ہیں؟

ان حالیہ ہلاکتوں کے بعد رواں سال لبنان میں شہید  ہونے والے صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کی تعداد 5 ہو گئی ہے۔

ادھر ایک اسرائیلی فوجی عہدیدار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران حزب اللہ نے لبنان سے تقریباً 250 راکٹ اور گولے داغے، جن میں سے زیادہ تر جنوبی لبنان میں موجود اسرائیلی فوجیوں کو نشانہ بنانے کے لیے تھے، جبکہ صرف 23 اسرائیلی حدود میں داخل ہوئے۔

جانی نقصان میں اضافہ

بیروت میں وزارتِ صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 47 افراد جاں بحق اور 112 زخمی ہوئے، جبکہ 2 مارچ سے اب تک ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 1,189 تک پہنچ چکی ہے۔

لبنان کے وزیر صحت راکان ناصرالدین کے مطابق ہفتے کے روز اسرائیلی حملوں میں 9 طبی اہلکار بھی شہید  ہوئے، جس کے بعد صحت کے شعبے سے تعلق رکھنے والے شہداء کی تعداد 51 ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے 2025 صحافیوں کے لیے خطرناک ترین سال، دو تہائی اموات کا ذمہ دار اسرائیل نکلا

دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان میں 2 مختلف حملوں میں اس کے 9 اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بغیر نوٹیفیکیشن پڑھے بیکری بند کروانا اے سی صاحبہ کو مہنگا پڑگیا

مغربی ہواؤں کا نیا سلسلہ داخل، ملک بھر میں بارشیں، آندھی اور ژالہ باری کی پیشگوئی

ترکیہ کی آئینی عدالت کے صدر کا دورۂ پاکستان، عدالتی تعاون کا معاہدہ طے پانے کا امکان

آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے برطانیہ کا بڑا اقدام، 35 ممالک کا اجلاس طلب

شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 8 خوارج ہلاک

ویڈیو

سعودی عرب سے ترسیلات اور حجاز مقدس سے متعلق شہریوں کے خیالات

حج اور عمرہ کی یادیں جو آنکھوں کو نم کر دیں

پیغام پاکستان بیانیہ، محراب و منبر کی اصلاح اور عدالتی انصاف شدت پسندی ختم کر سکتا ہے: علّامہ عارف الواحدی

کالم / تجزیہ

’میں نے کہا تھا ناں کہ پھنس جائیں گے؟‘

ہز ماسٹرز وائس

ایران یا سعودی عرب: پاکستان کو مشکل فیصلہ کرنا پڑ سکتا ہے؟