ایک تازہ سروے کے مطابق روس کے تقریباً 81 فیصد افراد کم از کم ایک مافوق الفطرت مخلوق کے وجود پر یقین رکھتے ہیں، جبکہ اکثریت نے اپنی زندگی میں کسی نہ کسی جادوی یا روحانی عمل کو آزمایا ہے۔ یہ بات روسی پبلک اوپینین ریسرچ سینٹر (VCIOM) کی رپورٹ میں سامنے آئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:تھائی لینڈ سرحد پر نفسیاتی جنگ کے لیے بھوتوں کی آوازیں استعمال کررہا ہے، کمبوڈیا کا الزام
رپورٹ کے مطابق 1,600 بالغ افراد پر کیے گئے سروے میں دو تہائی افراد (66 فیصد) نے کہا کہ وہ سنتوں یا اعلیٰ طاقتوں پر یقین رکھتے ہیں جو خطرے یا جنگ کے دوران لوگوں کی حفاظت کرتی ہیں۔ نصف سے زائد (57 فیصد) افراد کا کہنا تھا کہ وہ ایسے روحانی محافظوں یا دیوتاؤں پر یقین رکھتے ہیں جو فوجیوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ 50 فیصد نے ‘ڈومووئے’، یعنی گھریلو محافظ روح پر ایمان ظاہر کیا، اور 48 فیصد بچوں اور جانوروں کے لیے حفاظتی روحوں پر یقین رکھتے ہیں۔ صرف 22 فیصد افراد نے مرمیڈز یا نائفیمپس پر یقین ظاہر کیا۔

روس کے شہری مختلف جادوی اور روحانی رسومات کو بھی قبول کرتے ہیں، 85 فیصد افراد نے کہا کہ انہوں نے کم از کم ایک جادوی عمل آزمایا ہے۔ 59 فیصد افراد نے مقدس شفا بخش چشموں کا دورہ کیا، 52 فیصد نے نجومی یا ہوروسکوپ مشورے لیے، 37 فیصد نے قسمت آزمایی کی، 36 فیصد نے مقدس مقامات پر عبادت کی، اور 25 فیصد افراد نے روحوں یا قدرتی قوتوں سے جڑے تعویذ یا طلسمات پہن رکھے تھے۔
یہ بھی پڑھیں:پشاور: سنسان راتوں میں چڑیل کا گشت، بسیرا قبرستان، معاملہ کیا نکلا؟
عمر کے ساتھ مافوق الفطرت مخلوقات پر یقین میں اضافہ دیکھا گیا، 60 سال سے زائد عمر کے 93 فیصد افراد کم از کم ایک مافوق الفطرت مخلوق پر یقین رکھتے ہیں، جبکہ 25 سے 34 سال کی عمر کے افراد میں یہ شرح 65 فیصد ہے۔ جادوی رسومات میں شمولیت نسلوں کے درمیان تقریباً یکساں رہی، جو 80 سے 88 فیصد کے درمیان رہی۔
VCIOM کی سیاسی تحقیقاتی ڈپارٹمنٹ کی سینیئر ماہر ماریا گریگوریوا نے نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ رجحانات جاری جغرافیائی و سیاسی عدم استحکام اور مستقبل کی غیر یقینی صورتحال سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خرافات ایک عالمی نفسیاتی میکانزم ہیں، یہ غیر یقینی صورتحال کے دباؤ کو کم کرتی ہیں، جو اضطراب کا بنیادی سبب ہے۔ جتنی کم لوگوں کے پاس اپنی زندگی پر کنٹرول ہوگا، اتنا زیادہ ان کا یقین مضبوط ہوگا۔

گریگوریوا نے مزید کہا کہ روس میں موجودہ جغرافیائی سیاسی اور اقتصادی دباؤ اضطراب کو بڑھا رہے ہیں اور روحانی رجحانات کو جنم دے رہے ہیں، جس کے نتیجے میں لوگ زیادہ تر نجومی، قسمت کے مشورے اور گھریلو محافظ روحوں پر انحصار کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایمان ایک نفسیاتی ڈھال کے طور پر کام کرتا ہے، خاص طور پر جاری فوجی خطرات کے دوران۔










