خیبر پختونخوا میں 25 مارچ سے جاری بارشوں نے جانی و مالی نقصان پہنچایا ہے، جہاں مختلف حادثات میں 9 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو گئے، جبکہ حکام نے امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور عوام کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے 25 مارچ سے جاری بارشوں کے باعث خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی ابتدائی رپورٹ جاری کر دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بارشوں کے نتیجے میں گھروں کی چھتیں اور دیواریں گرنے کے واقعات میں اب تک 9 افراد جاں بحق اور 47 زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق افراد میں 8 بچے اور ایک خاتون شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں 26 مرد اور 21 بچے شامل ہیں۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق متاثرہ علاقوں میں مجموعی طور پر 6 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ یہ واقعات بنوں اور شمالی وزیرستان کے اضلاع میں پیش آئے۔
یہ بھی پڑھیے خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے کتنی ہلاکتیں ہوئیں؟ اعداد و شمار جاری
ادارے کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ ادارے باہمی رابطے میں ہیں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ متاثرین کو فوری امدادی سامان فراہم کیا جائے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے خصوصاً ضلع بنوں کی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ جاں بحق افراد کے لواحقین کو جلد از جلد مالی معاونت فراہم کی جائے، جبکہ تمام ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں مزید تیز کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق صوبے کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے اور یہ منگل تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھیے شدید بارشوں اور سیلاب کے بعد خیبر پختونخوا کے 8 اضلاع میں ایمرجنسی نافذ
ادارے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، حساس اور سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں اور حکومتی اداروں کی جانب سے جاری کردہ ہدایات اور الرٹس پر عمل کریں۔
پی ڈی ایم اے کا ایمرجنسی آپریشن سنٹر مکمل طور پر فعال ہے، جبکہ شہری کسی بھی ہنگامی صورتحال یا معلومات کے لیے ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔














