لبنان میں تعینات اقوامِ متحدہ کی عبوری امن فورس نے تصدیق کی ہے کہ ملک کے جنوبی حصے میں اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی جھڑپوں کے دوران اس کا ایک امن اہلکار ہلاک اور ایک اور شدید زخمی ہے۔
عبوری امن فورس کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب القصیر کے قریب اقوامِ متحدہ کی ایک چوکی پر گولہ گرنے سے دھماکہ ہوا۔ بیان میں کہا گیا کہ ایک امن اہلکار جاں بحق اور دوسرا تشویشناک حالت میں زخمی ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملہ، جنگ کی کوریج کرنے والے مزید 3 صحافی شہید
انڈونیشیا نے بھی تصدیق کی ہے کہ اس کا ایک امن اہلکار بالواسطہ توپ خانے کی فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک جبکہ 3 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔
عبوری امن فورس کا کہنا ہے کہ گولے کا منبع تاحال معلوم نہیں ہو سکا اور واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
https://x.com/UNIFIL_/status/2038376112661676250?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2038376112661676250%7Ctwgr%5E1b1b13847f0fbb47776a5cc7af44dd6d2d64e12c%7Ctwcon%5Es1_&ref_url=https%3A%2F%2Fwww.aljazeera.com%2Fnews%2F2026%2F3%2F30%2Fun-peacekeeper-killed-as-israel-hezbollah-fighting-escalates-in-lebanon
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کریں اور ہر حال میں اقوامِ متحدہ کے عملے اور املاک کی حفاظت یقینی بنائیں۔
عبوری امن فورس کے مطابق 2 مارچ سے جاری حالیہ لڑائی کے بعد اس کی چوکیوں کو ایک سے زائد بار نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
مزید پڑھیں: لبنان میں زخمی ہمسائے کو بچانے والا مسیحی پادری اسرائیلی ٹینک کی فائرنگ سے جاں بحق
7 مارچ کو جنوبی لبنان کے ایک سرحدی قصبے میں فائرنگ سے گھانا کے 3 فوجی بھی زخمی ہوئے تھے۔
اسرائیلی فوج نے اس سے قبل حریت حریک، غبیری، لیلکی، حدث اور برج البراجنہ سمیت 7 علاقوں کو نشانہ بنانے کی وارننگ دی تھی۔
UNIFIL helicopter lands in Adshit al-Qusayr, southern Lebanon, to evacuate wounded personnel.The evacuation follows an Israeli artillery strike on an Indonesian UNIFIL position that killed one peacekeeper and injured several others (including at least one critically). #Lebanon pic.twitter.com/U9KNX8SLaL
— Strategic Lens (@StrategicLensHQ) March 30, 2026
دعویٰ کیا گیا کہ ان علاقوں میں حزب اللہ کے عسکری ٹھکانے موجود ہیں، تاہم کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا۔
اسرائیلی فوج لبنان بھر میں فضائی اور زمینی حملے جاری رکھے ہوئے ہے اور جنوبی علاقوں سمیت بیروت کے مضافات سے شہریوں کی بڑے پیمانے پر جبری نقل مکانی کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق مارچ کے آغاز سے اب تک 12 لاکھ سے زائد افراد اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکے ہیں، جس کے باعث ایک سنگین انسانی بحران کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔














