نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار چین کے سرکاری دورے پر روانہ ہوگئے ہیں، مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اس دورے کو انتہائی اہم قرار دیا جارہا ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق یہ دورہ چینی وزیر خارجہ وانگ یی کی دعوت پر کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: اسحاق ڈار کا 31 مارچ کو دورۂ چین، اہم علاقائی و عالمی امور پر بات چیت متوقع
پاکستان اور چین کے درمیان ہر موسم میں قائم رہنے والی اسٹریٹجک شراکت داری مضبوط بنیادوں پر قائم ہے، جس میں علاقائی اور عالمی معاملات پر باقاعدہ مشاورت اور قریبی رابطہ شامل ہے۔
اس دورے کے دوران دونوں ممالک علاقائی صورتحال، دوطرفہ تعلقات اور عالمی امور میں باہمی دلچسپی کے موضوعات پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا حالیہ کندھے کے معمولی فریکچر کے باوجود یہ دورہ کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو کس قدر اہمیت دیتا ہے۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا بیجنگ کا دورہ
اسحاق ڈار ایک روزہ دورے پر اسلام آباد سے چین روانہ
پاک چین تعلقات کا جائزہ لیا جائے گا، اہم امور پر گفتگو متوقع ہے
علاقائی اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا@asifbashirch @iamabidmalik #China pic.twitter.com/On4dzlCxaF— Media Talk (@mediatalk922) March 31, 2026
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے کہ جب مشرق وسطیٰ شدید کشیدگی کی لپیٹ میں ہے، اور پاکستان اس دوران امن کے داعی کے طور پر سامنے آیا ہے، اور خطے میں قیام امن کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔
پاکستانی قیادت کی کاوشوں سے اسلام آباد میں پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کی اہم بیٹھک ہوئی، جس میں علاقائی کشیدگی کم کرنے لیے جاری کوششوں کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی اور امن قائم کرنے کے موضوع پر مفصل بات چیت ہوئی اور متعدد تجاویز پر غور کیا گیا، جس کے دوران تمام فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔
مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہوگیا ہے جبکہ اگلا دور جلد شروع کیا جائے گا، جس میں دی گئی تجاویز پر ہونے والی پیشرفت کے بارے میں ایک دوسرے کو آگاہ کیا جائےگا۔
دوسری جانب چین نے بھی تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازع میں فوجی کارروائیاں فوری طور پر روک دی جائیں اور مذاکرات کی میز پر مسائل کا حل نکالا جائے۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان کا کہنا تھا کہ اگر دشمنی مزید بڑھی اور حالات بگڑتے گئے تو پورا خطہ افراتفری کا شکار ہو جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ طاقت کا استعمال صرف بحران کو گہرا کرے گا، یہ جنگ شروع ہی نہیں ہونی چاہیے تھی۔
لن جیان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تمام متعلقہ ممالک کشیدگی کم کرنے اور پرامن حل کی کوششیں فوری طور پر تیز کریں تاکہ مشرق وسطیٰ میں استحکام قائم رہے اور عالمی شپنگ کے لیے اہم پانی کے راستے آبنائے ہرمز کا محفوظ استعمال یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیاکہ عالمی امن و استحکام کے لیے ضروری ہے کہ فوجی کارروائیاں بند کی جائیں اور سیاسی مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کیے جائیں تاکہ خطے میں مزید انسانی اور اقتصادی نقصان سے بچا جا سکے۔
پاکستان امریکا سے لے کر ایران تک، اور سعودی عرب سے چین تک تمام ممالک کے ساتھ بہترین مراسم رکھتا ہے، اور حالیہ کشیدگی کے دوران امن کے لیے پاکستان کی سفارتکاری کو عالمی سطح پر بھی سراہا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا دورہ چین خطے کی موجودہ صورت حال کے تناظر میں انتہائی اہم ہے۔
صدر مملکت آصف زرداری کی زیرصدارت آج اسلام آباد میں ہونے والے اہم اجلاس میں بھی نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خطے کی موجودہ صورتحال میں پاکستان کی سفارتکاری پر بریفنگ دی۔
مزید پڑھیں: مشرق وسطیٰ کشیدگی، اسحاق ڈار کا چینی ہم منصب سے رابطہ، امن کی بحالی اور استحکام پر اتفاق
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے اجلاس کو حکومت کی فعال سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا، جس میں ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کی قیادت کے ساتھ حالیہ رابطے اور تنازع میں شامل دیگر ممالک کے رہنماؤں سے ملاقاتیں شامل ہیں۔ انہوں نے اپنے آئندہ دورہ بیجنگ کی تفصیلات بھی اجلاس میں پیش کیں۔














