پاکستان کی پوری کوشش ہے کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان تصادم کی نوبت نہ آئے اور جنگ ٹل جائے لیکن سوال یہ ہے کہ اگر خدا نخواستہ یہ کوششیں کامیاب نہ ہو سکیں تو کیا ہو گا؟
پاکستان اس وقت سفارتی سرگرمیوں کا مرکز و محور بنا ہوا ہے اور بلاشبہ یہ خوش آئند بات ہے لیکن مجھے یہ محسوس ہو رہا ہے کہ پاکستان کا امتحان ختم نہیں ہوا۔ بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ پاکستان اپنی تاریخ کے اہم ترین اور پیچیدہ ترین امتحان سے دوچار ہےاور بات طول پکڑتی جا رہی ہے ۔
پاکستان کے ایک طرف ایران ہے ، پڑوسی ملک ہے اور برادر اسلامی ملک ہے ، تعلقات میں دھوپ چھاؤں ضرور رہی لیکن ہمارے بیچ کوئی دشمنی نہیں ہے ۔ اچھے تعلقات ہیں ۔ 900 کلومیٹر طویل سرحد مشترک ہے ۔ پاکستان اس سے تعلقات کیسے خراب کر سکتا ہے۔ ہمارے ایک طرف بھارت جیسا دشمن ہے ، دوسری جانب افغانستان سے کشیدگی ہے ، ایسے میں 900 کلومیٹر طویل اس سرحد پر بھی کشیدگی ہو جائے تو پاکستان سٹریٹیجک سینڈ وچ بن جائے۔ یہی نہیں بلکہ ایران کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ شیعہ پاکستان کے شہری ہیں ۔ یہ ڈر بھی ہے کہ مشرق وسطیٰ کی فرقہ وارانہ فالٹ لائن پاکستان کو بھی اپنی لپیٹ میں نہ لے لے۔
دوسری جانب سعودی عرب ہے۔ یہ پاکستانیوں کی محبت اور عقیدت کا مرکز بھی ہے ، ایک بڑی تعداد میں پاکستانی یہاں بر سر روزگار بھی ہیں ۔ شاید سب سے زیادہ زر مبادلہ یہیں سے آتا ہے ۔ ہمارے اچھے برے کا ساتھی ہے ۔ باہمی تعلقات پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے لیکن خلاصہ یہ ہے کہ تعلقات کی نوعیت مثالی رہی ہے۔ پاکستان سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ بھی کر چکا ہے۔ معاہدہ بھی معمولی نہیں ہے کہ کچھ اسلحہ دے دلا کر کام چلا لیا جائے ۔ یہ نیٹو کی طرز پر ہونے والا معاہدہ ہے ۔ صاف لکھا ہے کہ ایک ملک پر حملہ دوسرے ملک پر حملہ تصور ہو گا۔
یہ معاہدہ کرتےو قت کس نے سوچا ہو گا کہ جلد ہی ایسے حالات پیدا ہو جائیں گے کہ ایران اور سعودی عرب ایک روز آمنے سامنے کھڑے ہوں گے۔ ان معاملات میں تو ہم اتنے محتاط تھے کہ ہم نے یمن کے معاملے میں سعودی عرب کی جانب سے فوجی مدد کی درخواست قبول نہیں کی تھی ۔ اس انکار کے بعد یہ معاہدہ ہوا۔ چین کے ذریعے ایران اور سعودی عرب کے تعلقات بہتر ہونا شروع ہوگئے تھے ۔ دور دور تک کوئی امکان نہ تھا کہ ایران اور سعودیہ یوں آمنے سامنے ہوسکتے ہیں ۔
اب اس معاہدے سے پیچھے ہٹنے کی ایک قیمت ہو گی ۔ یہ معمولی قیمت نہیں ہو گی۔ تعلقات میں معمولی سے تناؤ کا مطلب یہ ہو گا کہ بیک جنبش قلم پاکستان کے وہ لاکھوں لوگ بے روزگار ہونے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا جو وہاں کام کر رہے ہیں۔ ضروری نہیں کہ ایسا ہو لیکن ایسا ہو سکتا ہے۔ بلکہ اس سے زیادہ ہو سکتا ہے ۔
بات اگر سنبھلتی نہیں تو یہ صرف سعودیہ اور ایران کا تنازعہ نہیں ہے ، یہ ساری عرب ریاستوں کا تنازعہ ہے۔ سعودی عرب کے ناراض ہونے کا مطلب ساری عرب دنیا کی ناراضی ہے۔ خلیجی ریاستوں کی ناراضی تو شاید ہم گوارا کر لیں لیکن سعودی عرب کا کیا کریں گے؟ وہاں تو مقامات مقدسہ بھی ہیں ۔ وہاں ہلکی سی چنگاری جل اٹھی تو پاکستانیوں کے دل سلگ جانے ہیں۔
یہ بہت نازک مرحلہ ہے ۔ یہ بہت کٹھن امتحان ہے ۔ پاکستان سفارتی سرگرمیوں کا محور ضرور ہے جو اچھا بھی لگ رہا ہے لیکن اس کے پیچھے جو چیلنجز ہیں وہ بھی بہت بڑے ہیں۔ ان ہی چیلنجز سے نبٹنے کے لیے پاکستان نے اپی تمام تر صلاحیتیں جھونک دی ہیں کہ ایران اور سعودیہ میں جنگ نہ ہونے پائے۔
پاکستان یقیناً آخری دم تک کوشش کرے گا کہ ان میں جنگ نہ ہو۔ پاکستان کو یہ کوشش کرنی بھی چاہیے کہ یہ جنگ ٹل جانا ہمارے لیے بہت ضروری ہے ۔ پاکستان کی یہ کوششیں فی الوقت کامیاب بھی ہیں ۔ اس کا اعتراف ایران بھی کر رہا ہے اور سعودی عرب بھی۔ یہ پاکستان ہی ہے جس کی وجہ سے بات ابھی تک تصادم تک نہیں پہنچی۔ لیکن ایک طالب علم کے طور پر میں اس سوال کی گرفت میں ہوں کہ اگر بات نہ سنبھل سکی تو کیا ہو گا؟
پاکستان کی پالیسی سینیٹ کے اجلاس میں بیان کر دی گئی ہے ۔ اسحاق ڈار نے سینیٹ میں کھڑے ہو کر بتایا ہے کہ ہمارا سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ ہے اور ساری دنیا کو یہ بات معلوم ہے۔ ہم نے ایران سے کہا ہے کہ ہمارا سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ ہے ، اس کا خیال رکھا جائے ۔
ایران نے اس کا خیال رکھا بھی ہے اور ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ سعودی عرب سے کہا جائے وہ ہمارے خلاف کسی کو اپنی زمین استعمال کرنے نہ دے۔ سعودی عرب نے بھی یقین دہانی کرائی کہ ایسا نہیں ہو گا۔ لیکن اس کے باوجود بات بڑھ رہی ہے ۔ سعودی عرب پر روز کوئی نہ کوئی میزائل یا ڈرون فائر ہو جاتا ہے ۔ یہی شکایت ترکیہ کو بھی ہے ۔ ترک وزیر خارجہ جس کا اظہار کر چکے۔
خدا نخواستہ اگر مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے ، اگر ایران پر کوئی بڑا حملہ ہوتا ہے اور ایران اس کے جواب میں سعودیہ کو بھی نشانے پر رکھ لیتا ہے ، اور ان حالات میں اگر سعودیہ پاکستان سے دفاعی معاہدے کے تحت معاونت کا کہتا ہے تو پاکستان کیا کرے گا؟ کیا پاکستان یہ کہے گا کہ ہم نے ’جھوٹی موٹی‘ کا معاہدہ کیا تھا آپ نے تو سچ ہی سمجھ لیا؟ کیا پاکستان یہ کہے گا کہ ہمارے اس دفاعی معاہدے کی کوئی حیثیت نہیں ، ہم تو آپ کے لیے کچھ نہیں کر رہے ؟ کیا پاکستان لاتعلق ہو کر بیٹھ جائے گا؟
اس نازک موقع پر معاہدے سے پیچھے ہٹنے کے بعد خود پاکستان کہاں کھڑا ہو گا؟ سعودی عرب سے تعلقات تو داؤ پر لگیں گے ہی ، پاکستان کی ساری سٹریٹیجک ارینجمنٹ کا بھی آملیٹ بن جائے گا۔ میں صف نعلین کا ایک طالب علم ہوں لیکن میری جمع تفریق میں پاکستان کے لیےاس معاہدے پر عمل کرنا اگر نقصان دہ ہو گا تو ا س سے پیچھے ہٹنا تو تباہ کن ہو گا۔
شاید ایسے ہی اندیشے اور امکانات ہتھیلی پر رکھ کر اسحاق ڈار چین کے دورے پر روانہ ہو چکے ہیں ۔ امریکا ،ایران، سعودیہ، ترکیہ، مصر، ہر ایک سے بات ہو رہی ہے۔ دعا کریں کہ یہ سفارت کاری کامیاب ہو۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













