امریکا نے بنگلہ دیش میں ثقافتی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ڈھاکا یونیورسٹی میں واقع تاریخی موسیٰ خان مسجد کی بحالی کے لیے 2 لاکھ 35 ہزار ڈالر گرانٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔
مزید پڑھیں: جاپانی کمپنیوں کی اکثریت بنگلہ دیش میں کاروبار بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے
یہ فنڈنگ ایمبیسیڈرز فنڈ فار کلچرل پریزرویشن (AFCP) کے تحت فراہم کی جائے گی، جس کا اعلان ڈھاکا میں ایک تقریب کے دوران کیا گیا۔
اس منصوبے پر بنگلہ دیش کے محکمہ آثارِ قدیمہ کے اشتراک سے عملدرآمد کیا جائے گا، جس میں مسجد کے مغلیہ دور کے اصل اسلامی طرزِ تعمیر کی بحالی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ اس کے علاوہ ایک مستقل ڈیجیٹل آرکائیو بھی قائم کیا جائے گا اور نوجوان معماروں کو ورثہ کے تحفظ کی تربیت دی جائے گی۔

تقریب میں امریکی سفیر برینٹ ٹی کرسٹینسن نے گرانٹ کا اعلان کیا، جبکہ بنگلہ دیش کے وزیر ثقافت نیتائی رائے چوہدری اور محکمہ آثارِ قدیمہ کی ڈائریکٹر جنرل سبینہ عالم بھی موجود تھیں۔
مزید پڑھیں: بھارتی میڈیا کمپنی جیو اسٹار نے بنگلہ دیش میں آئی پی ایل نشریاتی معاہدہ ختم کر دیا
حکام کے مطابق، یہ اقدام امریکا اور بنگلہ دیش کے درمیان ثقافتی ورثے کے تحفظ میں دیرینہ تعاون کا حصہ ہے، جس کے تحت گزشتہ 25 برس میں ملک بھر میں 13 سے زائد منصوبوں کے لیے 10 لاکھ ڈالر سے زائد کی معاونت فراہم کی جا چکی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موسیٰ خان مسجد کی بحالی سے نہ صرف بنگلہ دیش کے اسلامی ثقافتی ورثے کو محفوظ بنانے میں مدد ملے گی بلکہ نئی نسل میں اس شعبے میں مہارت اور آگاہی بھی بڑھے گی۔














