چیئرمین پاکستان علما کونسل حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں امت مسلمہ کے اتحاد کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے اور اس میں علما کرام کو اپنا مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔
اتحادِ امت سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے حافظ اشرفی نے پاکستان کی قیادت کے مثبت کردار کو سراہتے ہوئے کہاکہ ملک عالمی امن میں بھرپور حصہ لے رہا ہے اور آج پاکستان کا پرچم عزت و وقار کی علامت بن چکا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب، ترکیہ اور مصر بھی امن کے اقدامات میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں اور ایران نے بھی پاکستان پر اعتماد ظاہر کیا ہے۔
حافظ اشرفی نے کہاکہ اسرائیل عرب ممالک کو جنگ میں دھکیلنے کی سازش کررہا ہے، مگر پاکستان نے گریٹر اسرائیل کے خواب کو ناکام بنا دیا ہے۔
جو آج نیتن یاہو اور مودی کے ساتھ کھڑا ہے، اس کے ساتھ کیا اتحاد ہو سکتا ہے؟ امیر متقی سے میرا سوال ہے کہ جس بدھا کے مجسمے کو مولا عمر نے تباہ کیا، آپ کو بھارت نے اسی مجسمے کے نیچے بٹھایا۔ آپ تو مولا عمر کی لیگیسی کے ساتھ نہیں کھڑے۔ افغانستان دشمن قوتوں کے ہاتھوں استعمال ہو رہا ہے۔… pic.twitter.com/tauRcLykoS
— WE News (@WENewsPk) March 31, 2026
انہوں نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی محنت کو سراہا اور کہاکہ ملک میں وحدت و یکجہتی قائم رکھنا علما کرام کی ذمہ داری ہے۔
حافظ اشرفی نے صہیونیت کے عزائم کو سمجھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ ایران پر حملوں کے بعد سے مسجد اقصیٰ میں نماز ادا نہیں کی جا سکی۔
انہوں نے مزید کہاکہ افغان سرزمین پاکستان میں دہشتگردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے، اور یہ اب قابل قبول نہیں کہ لاشیں اٹھائی جائیں اور مذاکرات بھی جاری رہیں۔
انہوں نے ملا ہیبت اللہ سے واضح حکم جاری کرنے کا مطالبہ کیاکہ افغان سرزمین سے پاکستان پر حملے بند کیے جائیں۔














