چین کے ماہرین نے ایک منفرد پاور سوٹ متعارف کرایا ہے جو پہننے والے کو آدھا انسان اور آدھا روبوٹ بنا دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا میں چینی روبوٹس پر پابندی کے لیے قانون سازی کی تیاری
اس جدید سوٹ کو ’سینٹور‘ کا نام دیا گیا ہے جو یونانی دیومالائی مخلوق سے متاثر ہے۔
یہ پاور سوٹ دراصل ایک 2 ٹانگوں والے روبوٹ پر مشتمل ہے جو صارف کی کمر کے ساتھ منسلک ہو کر اضافی ٹانگوں کا کردار ادا کرتا ہے۔
یہ روبوٹک ٹانگیں صارف کی حرکات کے مطابق خود کو ڈھال لیتی ہیں اور رفتار و سمت میں تبدیلی کے ساتھ ہم آہنگ رہتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق روایتی پاور سوٹس کے برعکس جو جسم کے ساتھ جڑ کر حرکت میں مدد دیتے ہیں’ سینٹور‘ مکمل طور پر بوجھ خود اٹھاتا ہے۔ اس کی وجہ سے نہ صرف وزن کا دباؤ کم ہوتا ہے بلکہ صارف کی حرکت میں رکاوٹ بھی کم پیدا ہوتی ہے۔
مزید پڑھیے: امریکی بحری بیڑے میں دیواروں پر چلنے اور اڑنے والے روبوٹس تعینات کیے جائیں گے
اس سوٹ میں ایک خاص لچکدار نظام استعمال کیا گیا ہے جو کمر کے ساتھ جڑتا ہے۔ اس میں نان لائنر اسپرنگ شامل ہے جو کم دباؤ پر مضبوطی فراہم کرتا ہے اور زیادہ دباؤ کی صورت میں بھی آرام دہ رہتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس منفرد ڈیزائن کی بدولت انسان اور روبوٹ کی حرکات ایک دوسرے پر اثر انداز نہیں ہوتیں۔
تحقیقی ٹیم کے مطابق اگر کوئی شخص تقریباً 20 کلوگرام وزن کے ساتھ چلے تو اس سوٹ کے استعمال سے جسمانی توانائی کی کھپت میں تقریباً 35 فیصد کمی آتی ہے جو عام ایکسو اسکیلٹن کے مقابلے میں کہیں زیادہ مؤثر ہے۔
یہ روبوٹ نہ صرف وزن اٹھاتا ہے بلکہ آگے بڑھنے میں بھی مدد فراہم کرتا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ مستقبل میں جہاں مکمل خودکار روبوٹس عام ہو سکتے ہیں وہیں انسان اور روبوٹ کے اشتراک پر مبنی ایسے نظام زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: چین میں روبوٹس کے گانے، رقص اور دیگر مہارتوں نے نئے سال کی تقریب کو چار چاند لگادیے
یہ پاور سوٹ صرف چلنے میں مدد دینے تک محدود نہیں بلکہ اس کے متعدد عملی استعمال بھی ہو سکتے ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد بھاری وزن اٹھانے میں مدد فراہم کرنا ہے کیونکہ یہ بوجھ کو خود برداشت کرتا ہے اور انسان پر جسمانی دباؤ کم کر دیتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ لمبے فاصلے طے کرنے والے افراد جیسے فوجیوں یا ہائیکرز کے لیے بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے جہاں وزن اٹھا کر چلنا ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔
مزید برآں یہ سوٹ صنعتی شعبوں جیسے فیکٹریوں، گوداموں اور تعمیراتی مقامات پر کام کرنے والے افراد کے لیے بھی کارآمد ہو سکتا ہے جبکہ ہنگامی حالات اور ریسکیو آپریشنز میں بھی اس کی مدد سے بھاری سامان یا زخمی افراد کو منتقل کرنا آسان ہو سکتا ہے۔ ساتھ ہی یہ انسانی تھکن کو کم کرنے میں بھی مدد دیتا ہے کیونکہ یہ نہ صرف وزن اٹھاتا ہے بلکہ آگے بڑھنے میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ویب سمٹ میں چینی روبوٹ نے دھوم مچا دی
تاہم اس پاور سوٹ پر عوام کی جانب سے ملا جلا ردعمل ملا ہے۔ کچھ لوگوں نے اس کی افادیت پر سوال اٹھاتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر کوئی شخص دوڑتے ہوئے گر جائے تو یہ سوٹ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے جبکہ بعض نے اسے مذاق میں ’پہیوں کے بغیر رکشہ‘ بھی قرار دیا۔














