امریکا آئندہ 2 سے 3 ہفتوں میں ایران جنگ سے باہر آ سکتا ہے، صدر ٹرمپ کا بڑا اعلان

بدھ 1 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا آئندہ 2 سے 3 ہفتوں میں ایران کے ساتھ جاری جنگ سے باہر آ سکتا ہے، جبکہ ان کا کہنا ہے کہ اس سے بھی پہلے کسی معاہدے کا امکان موجود ہے۔

وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا زیادہ عرصہ ایران میں نہیں رہے گا اور جنگ کا مقصد تقریباً حاصل کیا جا چکا ہے۔ ان کے مطابق اس کارروائی کا اصل ہدف ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا تھا، جو پورا ہو گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا اب کسی ملک کی مدد کے لیے موجود نہیں ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ برطانیہ اور فرانس پر برس پڑے

انہوں نے کہا کہ امریکا اپنی مرضی سے جنگ ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کے پاس ایسے تمام آپشنز موجود ہیں جن کے ذریعے بغیر کسی معاہدے کے بھی فوجی کارروائی روکی جا سکتی ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات ضروری نہیں، تاہم اگر کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو جنگ اس سے بھی پہلے ختم ہو سکتی ہے۔

اپنے بیان میں انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران میں رجیم چینج ہو چکی ہے، تاہم یہ امریکا کا بنیادی مقصد نہیں تھا۔ ان کے مطابق ایران آئندہ 4 سے 5 سال تک جوہری ہتھیار بنانے کے قابل نہیں ہوگا۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کو دوبارہ مستحکم ہونے میں 15 سے 20 سال لگ سکتے ہیں، کیونکہ اس کے پاس اس وقت مؤثر فوجی اور دفاعی صلاحیتیں موجود نہیں ہیں۔

آبنائے ہرمز سے متعلق بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ اگر فرانس یا دیگر ممالک کو تیل اور گیس کی ضرورت ہے تو انہیں اپنی حفاظت خود کرنا ہوگی، امریکا اس معاملے میں ذمہ دار نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:مذاکرات جلد کامیاب نہ ہوئے تو ایران کے توانائی مراکز کو نشانہ بنائیں گے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کے انخلا کے بعد آبنائے ہرمز خود بخود کھل جائے گی، اور امریکا کا اس تنازع سے مزید کوئی تعلق نہیں ہوگا۔

اس سے قبل ایک امریکی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں بھی صدر ٹرمپ نے عندیہ دیا تھا کہ امریکا ایران میں طویل عرصے تک موجود نہیں رہے گا اور اس جنگ کا واحد مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp