ایران یا سعودی عرب: پاکستان کو مشکل فیصلہ کرنا پڑ سکتا ہے؟

بدھ 1 اپریل 2026
author image

عامر خاکوانی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مشرق وسطیٰ ایک بار پھر بارود کے ڈھیر پر کھڑا ہے۔ اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں اور جنگ کا دائرہ پھیل گیا تو پاکستان کے لیے غیر جانبدار رہنا شاید ممکن نہ رہے۔ ایسے میں اصل سوال یہ نہیں ہوگا کہ ہم کس کے قریب ہیں، بلکہ یہ ہوگا کہ ہم کس کے بغیر زندہ رہ سکتے ہیں؟

آج پاکستان کی پالیسی یہ ہے کہ وہ اس جنگ میں غیر جانبدار رہے۔ پاکستانی عوام اور حکومت دونوں چاہتے ہیں کہ ایران میں رجیم چینج نہ آئے، ایران کو سرنڈر نہ کرنا پڑے، دوسرے لفظوں میں ایرانی حکومت گر نہ پڑے مگر عالمی سیاست میں پاکستان جیسے ملکوں کے سامنے بعض ایسے لمحے، ایسے مرحلے آتے ہیں جب ان کے پاس انتخاب کی آزادی یا عیاشی نہیں رہتی۔ تب ان کے لیے صرف اپنی بقا کا سوال اہم ہوجاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مانیں نہ مانیں، پاکستان نے کرشمہ تو دکھایا ہے

مڈل ایسٹ میں بڑھتی کشیدگی پاکستان کو ایک ایسے ہی موڑ کی طرف لے جا رہی ہے۔ یہ کوئی نظریاتی بحث نہیں، ایک کھردری، بے رحم حقیقت ہے۔ مجھے ذاتی طور پر یہ خدشہ لگ رہا ہے کہ بہت جلد، شاید چند دنوں میں پاکستان کو ایک بڑا اور مشکل فیصلہ کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایران یا سعودی عرب میں سے کسی ایک کو چننا پڑ سکتا ہے۔ تب پاکستان کیا کرے گا؟ یہ ملین ڈالر سوال ہے۔ پاکستان کو فیصلہ کرنے سے پہلے 4 چیزیں ذہن میں رکھنا ہوں گی۔ وہ 4 فیکٹرز کیا ہیں؟

  اکانومی، انرجی، اوورسیز پاکستانی اور حرمین شریفین 

  پاکستان میں خواہ کوئی بھی حکومت ہو، وہ اپنی معیشت کے تقاضے نظرانداز نہیں کر سکتی۔ پاکستانی معیشت کی یہ صورتحال ہے کہ اگر آج سعودی عرب، امارات اور چین سے لیے گئے قرضے رول اوور نہ ہوں تو پاکستان ایک مہینے میں ڈیفالٹ ہوجائے۔ ہمارے پاس زرمبادلہ کے ذخائر ہی ختم ہوجائیں گے۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اگر سعودی عرب اپنا قرض واپس مانگ لے تب بھی 2 سے 3 ہفتے  میں پاکستان ڈیفالٹ ہوجائے گا۔ یاد رہے کہ  آئی ایم ایف سے قرضہ بھی تب ملتا ہے جب یہ دوست ممالک پاکستان کو اپنا دیا گیا قرض رول اوور کرنے یا اسے پینڈنگ کرنے کی یقین دہانی کراتے ہیں۔

انرجی سیکٹر 

  پاکستان کے لیے دوسرا بڑا مسئلہ انرجی ہے یعنی ملکی ضرورت کے مطابق لیا گیا تیل، گیس وغیرہ۔ پاکستان اپنی ضرورت کا اسی سے 85 فیصد تیل درآمد کرتا ہے۔ اس لحاظ سے ہر سال تقریباً 16 سے 18 ارب ڈالر کا تیل درآمد کیا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ تیل کی قیمت میں 10 ڈالر کا اضافہ اس امپورٹ بل میں ڈیڑھ 2 ارب ڈالر کا اضافہ کر دیتا ہے۔ آج کل ریٹ زیادہ ہیں تو پاکستان 20 ارب ڈالر سالانہ کے لگ بھگ تیل امپورٹ کرے گا۔ یہ تیل ہمیں سعودی عرب دیتا ہے اور زیادہ تر یہ ڈیفر پیمنٹ پر یعنی بعد میں آسانی سے ادا ہونے والی ادائیگی پر فراہم کرتا ہے۔

  پاکستان ایران سے تیل اس لیے نہیں لے سکتا کہ ایک تو کئی قسم کی عالمی  پابندیاں عائد ہیں، جبکہ ایرانی آئل، سعودی آئل کی طرح اچھی کوالٹی کا نہیں ۔ کوئٹہ میں ایرانی پیٹرول استعمال کرنے والے یہ بات جانتے ہیں۔ ایرانی تیل کی صفائی کے لیے الگ قسم کی ریفائنریز بنانا پڑتی ہیں جن پر الگ سے اربوں ڈالر کا خرچ آتا ہے۔ بھارت تو یہ ریفائنریز بنا چکا ہے، اس لیے وہ ایرانی، روسی تیل لینا افورڈ کر سکتا ہے۔ پاکستان نہیں۔ پاکستان نے روسی تیل بھی لے کر دیکھا تھا، تب بھی یہی مسئلہ آیا اور اس سے صرف ہم فرنس آئل ہی بنا پائے تھے جو بجلی بنانے کے کام آتا ہے، ٹرانسپورٹ وغیرہ میں وہ استعمال نہیں ہوا۔

اوورسیز پاکستانی

  پاکستان کے لیے تیسرا بڑا مسئلہ اوورسیز پاکستانی ہیں۔ تقریباً 25 سے 30 لاکھ پاکستانی سعودی عرب میں روزگار سے وابستہ ہیں جبکہ متحدہ عرب امارات میں تقریباً 15 سے 20 لاکھ پاکستانی کام کر رہے ہیں یعنی صرف ان دونوں ممالک میں 50 لاکھ کے لگ بھگ پاکستانی کام کر رہے ہیں۔ کویت، قطر، بحرین، اومان وغیرہ کو شامل کر لیں تو یہ تعداد 60 لاکھ تک پہنچ جاتی ہے۔ یہ 60 لاکھ افراد نہیں بلکہ ساٹھ لاکھ گھرانے ہیں۔ ہر پاکستانی گھرانے میں اوسطاً 6-7 لوگ ہوتے ہیں، میاں بیوی بچے ، ماں باپ جبکہ اکثر عرب ممالک میں مقیم لوگ اپنی بہن بھائیوں کی بھی مالی مدد کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:وہ چراغ جو راستے میں بجھ گئے

  یوں سمجھ لیں کہ سیدھی سادی 5 کروڑ پاکستانی آبادی کو ان اوورسیز پاکستانیوں نے سنبھالا ہوا ہے۔ پاکستان میں تازہ ترین اعداد وشمار کے مطابق بیرون ممالک سے آنے والا زرمبادلہ یا ریمنٹیسز 38 ارب ڈالر سالانہ ہے، اس میں سعودی عرب سے پاکستانی تقریباً 9 ارب ڈالر سالانہ، متحدہ عرب امارات سے تقریباً 7 ارب ڈالر سالانہ بھیجتے ہیں۔ یعنی کل زرمبادلہ کا 40 فیصد سے زیادہ صرف ان 2 ممالک سے وصول ہوتا ہے، باقی خلیجی ممالک کو بھی شامل کر لیں تو یہ 18-20 ارب ڈالر ہوجاتے ہیں۔

  اگر ہم ملک کو اوورسیز پاکستانیوں سے حاصل ہونے والے کل ریمنٹیسز 38 ارب ڈالر میں سے عرب ممالک کے 18-20 ارب ڈالر نکال لیں تو یہ سمجھ لیں کہ پاکستان کی معیشت فوری تباہ ہوجائے، 5 کروڑ پاکستانی اچانک سڑک پر آجائیں، زرمبادلہ کے ذخائر صفر ہوجائیں اور ملک فوری ڈیفالٹ ہوجائے۔

ملک ڈیفالٹ ہونا کیا ہوتا ہے؟

  ہم میں سے بہت سے لوگ ڈیفالٹ کا مطلب نہیں سمجھتے ۔ ڈیفالٹ کامطلب یہ ہے کہ ملک باہر سے کوئی بھی چیز نہ منگوا سکے کیونکہ ہر چیز باہر سے ڈالروں میں خریدی جاتی ہے۔ ہمارے پاس تیل نہیں ہوگا یعنی بجلی کے کارخانے  نہیں چلیں گے، ہر طرف تاریکی ہوگی، فیکٹریاں بند ہوجائیں گے، گاڑیاں، موٹر سائیکل، بسیں، ٹرک بھی نہیں چل پائیں گے۔ کھاد باہر سے آتی ہے، فصلوں پر کرنے والا اسپرے بھی جبکہ کوکنگ آئل بھی باہر سے آتا ہے، چائے کی پتی تک امپورٹ کرتے ہیں ہم، اس کے علاوہ ہر قسم کا خام میٹریل بھی باہر سے آتا ہے۔ ڈیفالٹ ہونے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یکا یک 15-20 کروڑ لوگ بیروز گار ہوجائیں، فیکٹریاں بند ہوجانے سے مزدور بیروزگار اور کسان بھی ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائیں۔ تصور کر لیں کہ کیا منظر ہوگا۔

تحفظ حرمین شریفین

پاکستانی حکومت اور عوام کے لیے چوتھا اور اہم ترین مسئلہ حرمین شریفین کا تحفظ ہے۔  پاکستان کی سعودی عرب سے ہمیشہ کی کمٹمنٹ ہے کہ پاکستانی فوج اور پاکستان حرمین شریفین کا ہمیشہ تحفظ کرے گا، سعودی سرزمین کا بھی تحفظ کرے گا ۔ ہم میں سے ہر ایک کے لیے حرمین کا تحفظ اپنی زندگی اور جان سے بھی زیادہ بڑھ کر ہے۔ پاکستان کا سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ بھی ہے، مگر حرم کا تحفظ ہر قسم کے  معاہدے سے بالاتر اور افضل ہے۔ جب معاہدہ نہیں تھا تب بھی خانہ کعبہ کی حفاظت کے لیے پاکستانی فوجی فوری پہنچ گئے تھے ۔

  یہ حقیقت ہے کہ کوئی بھی پاکستانی حکومت ان تمام وجوہات کی بنا پر سعودی عرب کی حمایت سے منہ نہیں موڑ سکتی۔ یہاں پر  خواہ  شریف فیملی حکمران ہو، بھٹو یا زرداری خاندان یا بے شک عمران خان وزیراعظم ہوتا، یا کوئی اور حکمران ہر ایک کا فیصلہ سعودی عرب کے حق میں ہوتا۔

ایران کو کیا کرنا چاہیے؟

  پاکستان کی شدید خواہش ہے کہ ہمیں یہ مشکل چوائس نہ کرنا پڑے اور ہم جنگ میں غیر جانبدار رہیں مگر یہ ایران پر منحصر ہے۔ ایران کو یہ جنگ ہر حال میں خلیجی ممالک تک نہیں پھیلانی چاہیے۔ یہ ایران کی تباہ کن غلطی ہوگی۔ ایران مسلسل عرب ممالک پر حملے کرتا آ رہا ہے اور اس کا کمزور جواز دے رہا ہے۔

 ایران کا کہنا ہے کہ مشرقی وسطیٰ میں امریکی اڈے اس کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں۔ یہ درست کہ ان ممالک میں امریکا کے اڈے موجود ہیں، مگر اس کی ذمہ داری خود ایران پر عائد ہوتی ہے۔ ایران ہمیشہ ان عرب ممالک کے خلاف ایک تھریٹ اور خطرہ رہا ہے۔ ایران نے ہمیشہ عرب ممالک میں اپنی پراکسیز استعمال کیں۔ لبنان میں حزب اللہ کی صورت میں، یمن میں حوثی، عراق میں شیعہ گروپ جبکہ بحرین اور سعودی عرب میں بھی ایران نے شیعہ آبادی کو اکسانے اور متحرک کرنے کی کوششیں کیں۔ اسی خطرے کے باعث خلیجی عرب ممالک کو امریکا کی طرف جانا پڑا۔

یہ بھی پڑھیں:ہم احتجاج میں اپنے ملک کو نقصان کیوں پہنچاتے ہیں؟

  ایران کے برعکس پاکستان نے اپنے نیوکلیر ہتھیاروں، اپنے میزائلوں کو کبھی مسلم دنیا کے لیے خطرہ نہیں بنایا۔ اسی وجہ سے پاکستان ایران سے بدرجہا زیادہ قوت رکھنے کے باوجود کبھی سعودی عرب، عرب امارات، کویت، قطر، اومان، بحرین، اردن وغیرہ کے لیے پریشانی کا باعث نہیں بنا، خود ایران کے لیے کبھی پاکستان خطرہ نہیں رہا۔ اگر ایران بھی ایسا کرتا اور اپنے میزائل پروگرام کو خطے کے حق میں استعمال کرتا تو شاید آج منظر ہی اور ہوتا۔

ایران پر حملے کہاں سے ہو رہے ہیں؟

ویسے فیکٹس یہ بتاتے ہیں کہ ایران پر ہونے والے زیادہ تر حملے خلیجی عرب ممالک سے نہیں ہو رہے۔ امریکی طیاروں کی نقل وحرکت پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق ایران کے بہت سے علاقوں پر بمباری بی ٹو امریکی طیاروں نے کی ہے۔ یہ طیارے براہ راست امریکا سے آتے ہیں اور واپس بھی امریکا ہی جاتے ہیں۔ ایران میں بعض ٹارگٹس کو بی ون بی لانسر یا پھر بی باون طیارے نشانہ بناتے ہیں، یہ دونوں برطانیہ سے ٹیک آف کرتے ہیں، تاہم اب چونکہ یورپ کے کئی ممالک امریکا کو ایئر اسپیس نہیں دے رہے تو یہ لمبا چکر لگا کر مشرق وسطیٰ میں داخل ہوتے ہیں جبکہ مشہور طیارہ ریپٹر اور چند ایک دیگر امریکی فائٹر طیارے اسرائیل میں مستقل طور پر ہیں اور یہ زیادہ تر ریفیولرز کے ساتھ حفاظت کے طور پر ساتھ رہتے ہیں۔

  کہا جاتا ہے کہ جنوبی اسرائیل میں عودہ ایئربیس کو امریکی استعمال کر رہے ہیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ ایک امریکی بڑا کیریئر جہاز عمان اور یمن کے قریب کہیں موجود ہے۔ ایران پر حملہ کرنے والے ایف 35، ایف 18 اور ہاک آئی اواکس طیارے وہیں سے آتے ہیں۔ خلیجی ممالک میں زیادہ تر ریفیولرز ایواکس، اے 10 اور  ایف 16 تعینات ہیں جن کا ایران پر حملوں میں مرکزی کردار نہیں۔

ایران ٹریپ ہونے سے گریز کرے

   ایران کو چاہیے کہ اگر امن مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو وہ اپنا ٹارگٹ اپنے اصل دشمن کو بنائے جس کا مقصد عرب ایران جنگ کرانا ہے۔ اگر ایران سعودی عرب کو نشانہ نہ بنائے تو پاکستان کے لیے صورتحال بہت آسان اور سادہ رہے گی۔ ہم بدستور غیر جانبدار رہیں گے۔ اگر ایران سعودی تیل کے ذخائر اور دیگر اہم تنصیبات کو نشانہ بنائے گا تو پھر پاکستان کو سعودی سائیڈ پر کھڑا ہونا پڑے گا۔ یہ پاکستان کی مجبوری ہوگی، خوشی ہرگز نہیں۔ کاش ایران حالات کی نزاکت کو سمجھے اور وہ کام نہ کرے جس سے اس کا ازلی دشمن اسر ائیل خوش ہو۔ ایرانیوں کو اسرا ئیلی اور امریکی منصوبہ ناکام بنانا چاہیے نہ کہ اس میں ٹریپ ہو کر پورے عالم عرب کو اپنا دشمن بنا لے۔ اب یہ ایرانی قیادت پر ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں۔

  پاکستان کے لیے چوائس کرنا مجبوری ہوگی، خوشدلی سے یہ فیصلہ نہیں کیا جائے گا، لیکن آخری تجزیے میں اگر سعودی عرب اور ایران میں انتخاب کرنا پڑا تو وہ سعودی عرب ہی ہوگا۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کون سی حکومت آج ہے۔ ماضی، حال اور مستقبل، ان سب میں جو بھی حکومت پاکستان میں ہے یا ہوگی، اس نے اوپر بیان کیے 4 فیکٹرز کی بنیاد پر سعودی عرب کےساتھ ہی کھڑا ہونا ہے۔ یہ پاکستان کا مقسوم اور مقدر ہے۔ ایران البتہ چاہے تو پاکستان کو اس آزمائش سے بچا سکتا ہے۔ ایرانیوں کو بچ نکلنے کا راستہ ڈھونڈنا ہوگا، اپنے لیے بھی اور پورے عالم عرب کے لیے بھی۔ وہ سنگین آزمائش میں ہیں، مگر ایسے میں ان کے کیے گئے فیصلے ہی ان کے مستقبل کو طے کریں گے۔ اللہ ہم سب پر رحم فرمائے اور بہترین فیصلہ کرنے کی توفیق دے، آمین۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp