آپ نے کبھی وہ مشہور تصویر دیکھی ہوگی ایک چھوٹا سا سفید کتا، کانوں کو تنے، گراموفون کے ہارن میں جھانک رہا ہے، جیسے وہ کسی نامعلوم آواز کی تلاش میں ہو۔ اس کی آنکھوں میں تجسس ہے، دل میں وفاداری، اور پورا جسم خاموشی میں جکڑا ہوا۔ یہ کتا نِپر (Nipper) تھا، ایک عام سا جیک رسل ٹیرئیر، مگر اس کی داستان عام نہیں۔
نِپر کی کہانی صرف وفاداری اور محبت کا پَرتو ہی نہیں کارپوریٹ دباؤ اور اشتہاری جبر کی مثال بھی ہے۔ اس کی زندگی یاد دلاتی ہے کہ خاموش وفاداری اور چھوٹے چھوٹے لمحے کس طرح صدیوں تک لوگوں کے دلوں میں زندہ رہ سکتے ہیں۔
نِپر 1884 میں انگلینڈ کے شہر برسٹل میں پیدا ہوا۔ چھوٹے قد کا، شرارتی، اور چُست، وہ اپنی چھوٹی سی دنیا میں بہت خوش تھا۔ نِپر کے پہلے مالک مارک ہنری بیروڈ تھے، جو لندن کے پرنسز تھیٹر میں منظرنامہ تیار کرتے تھے۔ مارک کی زندگی تھیٹر کے گرد گھومتی، اور نِپر ان کے چھوٹے دوست کی طرح تھا۔ نِپر اکثر مارک کی آواز پہچاننے کی کوشش کرتا، اور مارک کی چھوٹی چھوٹی باتیں کان دھر کے سنتا۔

1887 میں مارک کا انتقال ہوگیا، اور نِپر ان کے بھائی فرانسس بیروڈ کے پاس آ گیا، فرانسس آرٹسٹ تھے۔ ان کی رفاقت لگ بھگ 8 برس قائم رہی۔ نِپر 11 برس کی عمر میں 1895 میں دنیا چھوڑ گیا جبکہ نِپر کے ساتھ گزارے لمحات فرانسس کے دل میں رچ بس گئے تھے۔ نِپر کی وفاداری اور اس کے چھوٹی موٹی شرارتوں نے فرانسس کے دل میں ایک خلا پیدا کر دیا، جو صرف یادوں اور محبت کے ذریعے بھرا جا سکتا تھا۔
1895 میں نِپر کو کنگسٹن اپون ٹیمز کے ایک پارک میں دفن کیا گیا۔ آج اس پارک کی جگہ ایک بینک کی عمارت ہے، تاہم بینک کی دیوار پر نصب ایک پیتل کی تختی نِپر کی یاد تازہ کرتی ہے۔ یہاں وفاداری اور یاد کا پہلو واضح ہوتا ہے کہ ایک چھوٹا جانور، جو مر گیا، مگر اس کی یادیں اور وفا صدیوں تک باقی ہے۔
نِپر کی وفات کے 3 سال بعد فرانسس بیروڈ نے اپنی یادوں کو کینوس پر منتقل کیا۔ اس نے ایک پینٹنگ بنائی جس میں نِپر گراموفون کے سامنے بیٹھا ہے، جیسے وہ اپنے مالک کی آواز پہچاننے کی کوشش کر رہا ہو۔ تصویر کو عنوان دیا گیا: ’ہز ماسٹرز وائس۔‘

ابتدائی طور پر کئی سلنڈر فونوگراف کمپنیوں نے تصویر خریدنے سے انکار کر دیا۔ ایڈیسن بیل کمپنی نے طنزیہ کہا کہ ’کتے فونوگراف نہیں سنتے!‘۔ 1899 میں انگلینڈ میں گراموفون کمپنی کے بانی ولیم بیری اوون نے اس شرط کے ساتھ پینٹنگ خریدی کہ سلنڈر فونوگراف کی جگہ کمپنی کی ڈسک مشین دکھائی جائے۔
یوں فرانسس نے ایک سادہ تصویر کو تجارتی دنیا کی طلب میں ڈھالا اور جذبات کو مارکیٹنگ کے تابع بناتے ہوئے ہارن کو سنہری رنگ کے گراموفون میں بدل دیا، اور گراموفون کمپنی نے تصویر خریدلی۔ یہ تصویر پہلی بار دسمبر 1899 میں کمپنی کے کیٹلاگ میں استعمال ہوئی اور بعد میں گراموفونز پر بھی چھاپی گئی۔
1909 میں، گراموفون کمپنی نے پہلے کے ’ریکارڈنگ اینجل‘ ٹریڈ مارک کی جگہ کتے اور گراموفون کی تصویر کو ریکارڈ لیبلز پر چھاپنا شروع کیا، یہ ریکارڈز دنیا بھر میں ہز ماسٹرز وائس (His Master’s Voice) کے نام سے مشہور ہوئے۔
تصویر کو بین الاقوامی شہرت بھی ملنے لگی 1901 میں فرانس، 1904 میں اٹلی جبکہ ہز ماسٹرز وائس (HMV) کا پہلا ریٹیل اسٹور 1921 میں آکسفورڈ اسٹریٹ پر کھلا جو بعد ازاں چین کی شکل اختیار کر گیا۔ ہز ماسٹرز وائس (HMV) کی دکانیں، ریکارڈ کورز، پوسٹرز، اشتہارات ہر جگہ نِپر موجود تھا۔
امریکا میں RCA، جرمنی میں DGG، جاپان میں JVC، جبکہ باقی دنیا میں ہز ماسٹرز وائس (HMV) کے لوگو پر نِپر کی تصویر چھائی رہی۔ گراموفون کمپنی 1931 میں (EMI) کا حصہ بنی۔ بعد ازاں (EMI) نے عالمی سطح پر (HMV) اسٹورز قائم کیے، تاہم امریکا، کینیڈا اور جاپان میں صرف (HMV) نام استعمال ہوا۔
1985 میں بھارتی برانچ فروخت کردی گئی، مگر (HMV) ٹریڈ مارک 2003 تک استعمال ہوتا رہا۔ اسی دوران (HMV) ریکارڈ لیبل کی جگہ (EMI Classics) نے لے لی، جبکہ بھارت میں اسے سا رے گا ما (Saregama) میں تبدیل کر دیا گیا۔
1991 میں امریکی ریکارڈز کمپنی (RCA) نے نِپر کے بیٹے ’چِپر‘ (Chipper) کو متعارف کروایا۔ چِپر حقیقت میں موجود نہیں تھا محض ایک اشتہاری تصور تھا۔ ہر چند ماہ بعد ایک نیا پپی لایا جاتا تاکہ وہ ہمیشہ ننھا ’چِپر‘ نظر آئے۔ جذبات کو بار بار بیچا گیا، وفاداری کو برانڈ بنایا گیا، اور نِپر کی حقیقت کے پیچھے تخیل گھڑا گیا۔ نِپر کی خاموش وفاداری، موسیقی کی دنیا کی پہچان بن گئی، جبکہ چِپر کے ذریعے جذبات کو عالمی منڈی میں بیچا گیا۔

2010 میں، کنگسٹن کی ایک گلی کو (Nipper Alley) کے نام سے موسوم کیا گیا۔ ایک چھوٹے جانور کی وفاداری اور تصویر صدیوں سے لوگوں کے دلوں پر راج کر رہی ہے۔
نِپر (1884-1895) دنیا سے رخصت ہوا، مگر اس کی تصویر آج بھی زندہ ہے۔ HMV، RCA، اور دیگر کمپنیاں اس تصویر کو عالمی برانڈ کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔ نِپر کی خاموش وفاداری، موسیقی کی دنیا کی پہچان بن گئی۔ نِپر ایک کتا نہیں رہا، بلکہ وفاداری، یاد، موسیقی، اور تجارتی دباؤ کے ملاپ کی ایک عالمی علامت بن گیا۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













