برطانوی وزیراعظم نے اپنے تازہ خطاب میں واضح کیا کہ برطانیہ کو ایران جنگ میں گھسیٹنے نہیں دینگے۔ ساتھ ہی انہوں نے توانائی کے بلوں میں کمی، اجرتوں میں اضافے، مزدوروں کے حقوق کے تحفظ اور معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے بڑے اقدامات کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ طویل مدتی قومی مفاد کے لیے یورپی اتحادیوں کے ساتھ قریبی تعلقات ضروری ہیں۔
وزیراعظم کیئر اسٹریمر نے لندن میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ اپنے قومی مفاد کے لیے کھڑا رہے گا اور ملک کو تحمل اور منصوبہ بندی کے ساتھ اس مشکل دور سے نکالنے کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ برطانیہ کو ایران جنگ میں گھسیٹنے نہیں دینگے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر دنیا غیر مستحکم راہ پر گامزن رہی تو طویل مدتی قومی مفاد کے لیے یورپی اتحادیوں کے ساتھ شراکت داری لازمی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کے ایران جنگ سے نکلنے کے اعلان کے بعد عالمی اور پاکستان اسٹاک مارکیٹس میں تیزی
انہوں نے توانائی کے بڑھتے مسائل سے نمٹنے کے لیے قابلِ تجدید توانائی پر زور دیا اور کہا کہ اسی حکمت عملی کے تحت عوام کو ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے۔ توانائی کی قیمتیں اب جولائی تک مقرر کر دی گئی ہیں، جس سے بلوں میں کمی آئے گی اور عوام کو غیر یقینی صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
برطانوی وزیراعظم نے نیشنل لیونگ ویج پر کام کرنے والے افراد کی تنخواہوں میں اضافے کا اعلان کیا، جس سے لاکھوں افراد کو فائدہ ہوگا، اور تقریباً 4 لاکھ 50 ہزار بچوں کو غربت سے نکالنے کا ہدف حاصل کیا جائے گا۔
انہوں نے مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک بڑی قانون سازی بھی اگلے ہفتے نافذ العمل ہونے کا کہا، جسے ایک نسل میں سب سے بڑی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔ علاوہ ازیں حکومت پہلے ہی صاف توانائی کے فروغ کے لیے سرمایہ کاری کر چکی ہے اور مستقبل میں بھی یہی پالیسی جاری رکھی جائے گی تاکہ ملک کو توانائی کے جھٹکوں سے محفوظ رکھا جا سکے اور معیشت کو مستحکم بنایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران جنگ کی غیر یقینی صورتحال، عالمی توانائی مارکیٹس میں ہلچل
وزیراعظم نے اعلان کیا کہ آنے والے ہفتوں میں یورپی اتحادیوں کے ساتھ ایک نئے سمٹ کا انعقاد کیا جائے گا۔ اس موقع پر برطانیہ صرف گزشتہ سال کے سمٹ میں کیے گئے موجودہ وعدوں کی توثیق نہیں کرے گا بلکہ مستقبل میں تعاون اور مفادات کے حوالے سے نئے اقدامات بھی سامنے لائے جائیں گے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ تیل پر محصولات (Fuel Duty) کے حوالے سے جو فیصلے ستمبر میں نافذ ہونے تھے، ان کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ عوام کے مفاد کو یقینی بنایا جا سکے۔














