میکسیکو میں خلیجِ میکسیکو کے قریب تیل کے بڑے اخراج پر تنازع بڑھتا جا رہا ہے، جہاں ماحولیاتی تنظیموں نے حکومت پر اس کے اصل ماخذ کے حوالے سے عوام کو گمراہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے، تاہم حکام نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ویراکروز کے ساحل کے قریب ہونے والا یہ اخراج 373 میل سے زائد رقبے تک پھیل چکا ہے، جس سے کم از کم 7 محفوظ قدرتی علاقوں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ کچھوؤں اور مچھلیوں سمیت سمندری حیات بھی متاثر ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: وزیر اعلیٰ مریم نواز کے ماحول دوست اقدامات رنگ لائے، پنجاب میں فضائی معیار میں تاریخی بہتری
مقامی ماہی گیر بھی اس صورتحال سے شدید متاثر ہوئے ہیں اور بعض اپنی روزی روٹی کمانے سے قاصر ہو گئے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ تقریباً 800 ٹن ہائیڈروکاربن فضلہ سمندر میں شامل ہوا، جس کی وجہ ایک جہاز اور قدرتی طور پر ہونے والا تیل کا اخراج ہے۔
تاہم ماحولیاتی تنظیموں کے اتحاد، جن میں ‘گرین پیس میکسیکو’ اور ‘میکسیکن سینٹر فار انوائرنمنٹل رائٹس’ شامل ہیں، نے اس مؤقف کو مسترد کر دیا ہے۔
ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اخراج سرکاری تیل کمپنی ‘پیمیکس’ سے منسلک پائپ لائن سے ہوا اور اس کا آغاز حکام کی جانب سے بتائی گئی تاریخ سے پہلے ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: تیل کی فراہمی کے تنازع پر بنگلہ دیش میں ٹرک ڈرائیور نے فلنگ اسٹیشن منیجر کو کچل کر قتل کر دیا
میکسیکن سینٹر فار انوائرنمنٹل رائٹس کی ترجمان مارگریٹا کیمپوزانو کے مطابق ‘معلومات کی اس کمی کے باعث بڑے پیمانے پر معاشی اور ماحولیاتی نقصان ہو رہا ہے اور تاحال کسی کو جوابدہ نہیں ٹھہرایا گیا’۔
دوسری جانب ‘پیمیکس’ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے سیٹلائٹ تصاویر کو ‘غلط’ قرار دیا اور کہا کہ جس جہاز کی نشاندہی کی گئی وہ معمول کے معائنے اور ہنگامی ردعمل کی کارروائیاں کرتا ہے۔
میکسیکو کی صدر کلاڈیا شینباؤم نے بھی ان الزامات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ‘ریاستی تیل کے ڈھانچے میں کسی قسم کے رساؤ کی اطلاع نہیں ملی’ اور عندیہ دیا کہ یہ اخراج قدرتی وجوہات کے باعث ہو سکتا ہے۔













