اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے نوجوانوں کے لیے ایک نیا فریم ورک متعارف کرادیا جس کے تحت 13 سے 18 سال کی عمر کے نوجوان اب خود اپنے بینک اکاؤنٹ اور ڈیجیٹل والٹس کے مالک اور آپریٹر بن سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: مہنگائی کے خدشات: اسٹیٹ بینک کا شرح سود برقرار رکھنے کا اعلان
مذکورہ اقدام کا اعلان بدھ کے روز کیا گیا جس کا مقصد نوجوانوں میں مالی شعور پیدا کرنا اور انہیں معیشت میں مؤثر حصہ لینے کے لیے تیار کرنا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق اس فریم ورک کے تحت نوجوان اپنے اکاؤنٹس اور والٹس خود منظم کریں گے جس سے ان میں ذمہ داری اور مالی خود مختاری کا شعور بڑھے گا۔
مزید پڑھیے: سابق گورنر اسٹیٹ بینک شمشاد اختر انتقال کر گئیں
نئے نظام میں حفاظت اور منظم رسائی کو یقینی بنایا گیا ہے تاکہ نوجوان محفوظ طریقے سے رسمی مالیاتی خدمات استعمال کر سکیں اور ڈیجیٹل معیشت کے لیے ضروری مہارت حاصل کریں۔
In a move to build a financially savvy young generation, SBP has launched a new framework for teenagers’ accounts, enabling them to independently own and operate bank accounts and digital wallets. See PR: https://t.co/lOgGG3kxJe pic.twitter.com/bwIgWIcOOf
— SBP (@StateBank_Pak) April 1, 2026
بیان میں مزید کہا گیا کہ ملک میں تقریباً 26 ملین نوجوان اس فریم ورک کے مستفید ہونے والے ہیں جو مستقبل میں مالیاتی لحاظ سے ماہر اور ڈیجیٹل طور پر ماہر نسل کی نشوونما میں مددگار ثابت ہوگا۔
مزید پڑھیں: پاکستان کے بیرونی اور مقامی قرضے کہاں تک پہنچ گئے؟ اسٹیٹ بینک نے اعداد و شمار جاری کردیے
اس اقدام کے ذریعے نوجوانوں کو مالیاتی اداروں کی پیش کردہ خدمات تک خود مختارانہ اور مؤثر رسائی حاصل ہوگی اور پاکستان میں مالی شمولیت کا ایک مضبوط اور نوجوان دوست نظام قائم ہوگا۔














