’میں نے کہا تھا ناں کہ پھنس جائیں گے؟‘

جمعرات 2 اپریل 2026
author image

رعایت اللہ فاروقی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کئی سال ہوئے اعجاز منگی نے ہم سے پوچھا تھا

کھرے اور وفادار دوست کی پہچان کیا ہے؟‘

ہم ٹھہرے مولوی، سو مولویانہ جواب دیا کہ کھرا اور وفادار دوست وہ ہوتا ہے جو آپ کا بھلا چاہے، آپ کو غلط چکروں میں نہ پڑنے دے بلکہ روکے۔ یہ سن کر اعجاز نے ایک ’تلخ گھونٹ‘ بھرا اور پھر ہماری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا:

’کھرا دوست وہ ہے جو آپ کے ساتھ لاک اَپ کی دیوار سے ٹیک لگائے ناراض بیٹھا ہو، اتنا ناراض کہ آپ کی طرف دیکھ بھی نہ رہا ہو، اور شدیدی دکھی لہجے میں کہے، میں نے کہا تھا ناں کہ پھنس جائیں گے؟‘

جنریشن زی کا دور ہے، سو اعجاز کے اس بے مثل قول کی وضاحت بھی کرنی پڑے گی، ورنہ سردار کو تو بات سمجھنے میں 24 گھنٹے لگتے ہیں، لیکن جنریشن زی 24 مہینوں میں بھی نہیں سمجھ پاتی۔ لاک اَپ والا ناراض دوست درحقیقت وہ شخص ہے جسے 100 فیصد یقین تھا کہ پھنس جائیں گے، اس نے دوست کو یہ بات سمجھا بھی دی تھی، مگر جب دوست پھر بھی نہ مانا تو وہ بھاگا نہیں بلکہ ہر حال میں دوست کا ساتھ دیا۔

اب اسی بات کو ایک اور مثال سے سمجھیں۔ فرض کیجیے آپ کی گلی محلے میں کسی سے تلخی ہوگئی، پولیس آئی اور آپ کو لے گئی۔ آپ لاک اَپ میں پریشان کھڑے ہیں کہ آپ کے دو دوست پہنچ گئے، آپ سے واقعے کی تفصیل پوچھی اور اس کے بعد ایک پولیس اور دوسرا وکیل کی طرف روانہ ہوگیا۔ ان دونوں کی بھاگ دوڑ کے نتیجے میں تین دن بعد آپ رہا ہوکر گھر آگئے۔ اسی شام آپ کے دو مزید دوست آئے، ان میں سے ایک نے کہا ’مجھے تو آج پتا چلا کہ تمہیں پولیس لے گئی تھی‘ دوسرے نے مؤقف اختیار کیاکہ وہ تو شہر میں ہی نہیں تھا ورنہ تھانے حاضر ہوجاتا۔ مان لیجیے کہ یہ دونوں ہی بکواس کررہے ہیں۔ اپنے ایمان سے بتائیے ان چار دوستوں کے ساتھ آپ کے تعلقات کی نوعیت یکساں رہ سکتی ہے؟

سمجھنے والی بات یہ ہے کہ جیو پالیٹکس میں بھی دوستوں کی درجہ بندی اسی طرح ہوتی ہے۔ مگر اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ جیوپالیٹکس مذہب یا مسلک کی بنیاد پر نہیں چلتی۔ ریاست نظریاتی ہوسکتی ہے، اور یہ نظریہ اسلامی وغیر اسلامی کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ مگر جب ریاست کسی دوسری ریاست کے ساتھ دوستی یا دشمنی کا معاملہ کرتی ہے تو اس میں مذہب و مسلک نہیں صرف قومی مفاد دیکھتی ہے۔

اگر جیو پالیٹکس میں مذہب کا عمل دخل چلتا تو پاکستان آزاد ہی دو قومی نظریے کی بنیاد پر ہوا تھا، اور سنی اکثریتی ملک کے طور پر وجود میں آیا تھا۔ اس نومولود ریاست کا واحد سنی پڑوسی افغانستان تھا۔ کیا اس نے باہیں پھیلا کر ہمیں ’پخیر راغلے‘ کہا تھا؟ نہیں بلکہ وہ ہمارا پہلا آفیشل دشمن ثابت ہوا۔ اس نے اقوام متحدہ میں ہماری ممبر شپ کی بھی مخالفت کی اور پھر دہشتگردی کے کیمپ قائم کرکے 1948 سے 1975 تک پاکستان میں متواتر دہشتگردی بھی کرائی۔ اور اسے تب تک سکون نہ آیا جب تک اس نے اپنا ملک ہمارے ہی ہاتھوں کھنڈر نہ بنوا لیا۔ سچائی یہ ہے کہ عقل انہیں اس لمحہ موجود تک نصیب نہ ہوسکی۔ یہ وہ افغانستان ہے کہ جب پاکستان کی آزادی کا اعلان ہوا تو کابل میں ’خلائی تحقیق‘ کا مرکز کام کر رہا تھا۔ آج وہی افغانستان کہاں کھڑا ہے یہ بتانے کی ضرورت ہی نہیں، اور یہ سب ڈیورنڈ لائن کا زہریلا لولی پاپ چوسنے کا نتیجہ ہے۔

اب اسی پاکستان کا ایک اور سین دیکھیے۔ سرشاہنواز بھٹو شیعہ مکتب فکر سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے صاحبزادے لیجنڈری ذوالفقار علی بھٹو کبھی مذہب و مسلک کے چکر میں ہی نہ پڑے۔ یہ ان کی نظریاتی ضرورت تھی، لیکن اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ وہ شیعہ فیملی سے تھے۔ جب اسی بھٹو نے اسلامی سربراہ کانفرنس منعقد کروائی تو شاہ ایران کو زیادہ قریب رکھا یا شاہ فیصل کو؟ بھٹو اور شاہ فیصل کی قربت کی آج بھی مثالیں دی جاتی ہیں۔ جب بھٹو کو پھانسی کی سزا ہوئی تو انہیں بچانے کے لیے سرتوڑ کوششیں ایرانی نہیں سعودی سفیر ریاض الخطیب نے کی تھیں۔ اپنے ایمان سے بتائیے کیا مسلک بیچ میں آیا تھا؟

اگر کسی کو لگتا ہے کہ سعودی عرب سے پاکستان کی قربت محض سنی ہونے کی وجہ سے ہے تو یہ ایک سنگین غلط فہمی کے سوا کچھ نہ ہوگا۔ سعودی عرب ہمارا وہ دوست ہے کہ کئی بار ادھر عالمی پولیس مین امریکا نے ہم پر ہاتھ ڈالا، اور ادھر سعودی عرب آ پہنچا، اور جب تک ہمیں چھڑا نہ لیا سکون سے نہ بیٹھا۔ کسی بھی ماہر معاشیات سے پوچھ لیجیے کہ کسی ملک کا سب سے بڑا بل کس چیز کا ہوتا ہے؟ سب ایک ہی جواب دیں گے کہ ایندھن یعنی تیل و گیس کا ہی بل سب سے بڑا اور ہیوی ہوتا ہے۔ امریکا نے جب بھی ہم پر پابندیاں لگائیں، ہر بار سعودیوں نے ہمیں اپنے سب سے بڑے بل یعنی تیل کے خرچے سے ہی بے فکر کردیا۔ یوں امریکی پابندیوں سے ہماری معیشت کو نقصان تو ہوا مگر ڈوبنے سے ہر بار بچی۔

اب آجائیے تیسرے سین کی جانب، پاکستان وہ ملک ہے جس کے آئین میں درج ہے کہ حاکمیت اعلیٰ صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی ہے۔ اور یہ کہ یہاں قرآن و سنت سے متصادم قانون سازی نہیں ہوسکتی، لیکن اسی ملک کا اسٹریٹیجک لحاظ سے سب سے بڑا پارٹنر وہ چین ہے جو دنیا کی واحد آفیشل ملحد ریاست ہے۔ کیا چینیوں نے کبھی ہم سے کہاکہ تم نے تو حاکمیت اعلیٰ ہی اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی مان رکھی ہے، اور ہم خدا کے منکر ہیں، لہٰذا ہم اور آپ دوست نہیں ہوسکتے؟

اب ذرا، ان دونوں ممالک سے ہماری بے پناہ قربت کا فائدہ دیکھیے، عراق نے ایٹم بم بنانے کی کوشش کی نتیجہ کیا نکلا؟ لیبیا نے ایٹمی طاقت بننے کی جسارت کی تو قذافی اور لیبیا دونوں کا انجام کیا ہوا؟ ایرانی فتویٰ دے چکے کہ ایٹم بم حرام ہے، محض پُرامن ایٹمی پروگرام پر اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ ہم تو ایٹم بنا کیا پھاڑ بھی چکے، کوئی ہمارا کچھ بگاڑ سکا؟ کبھی سنا ہمارا کوئی ایٹمی سائنسدان مارا گیا ہو؟ کسی حساس تنصیب پر میزائل چھوڑیے پتھر بھی کوئی پھینک سکا؟ اگر نہیں تو سوال تو بنتا ہے کہ کیوں نہیں؟ ہمارا کوئی کچھ کیوں نہ بگاڑ سکا؟ آئینی طور پر مسلم نظریہ رکھنے والا ملک ہونے کے باوجود ہم ایٹمی طاقت بننے میں کیا بس اپنے ہی دست و بازو سے کامیاب ہوگئے؟ اللہ کے فضل کے بعد اگر کوئی سبب ہے تو بس یہ کہ ہماری پشت پر چین اور سامنے کی رخ پر بطور ڈھال سعودی عرب کھڑا تھا۔

یاد کیجیے جب پاک سعودی دفاعی معاہدہ ہوا تو دنیا میں پہلی ہی بحث یہ چھڑ گئی تھی کہ اس میں ایٹمی شیلڈ بھی شامل ہے یا نہیں؟ حقیقت کیا ہے وہ تو پاکستان اور سعودی قیادت کو ہی معلوم ہوگی مگر تجزیہ کاروں کا مؤقف یہی تھا کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا تو بل ہی سعودی عرب نے پے کیا ہے، یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ایٹمی شیلڈ شامل نہ ہو؟ کیا اس کی پاکستان یا سعودی عرب سے تردید آئی؟

اب آجائیے چوتھے سین کی جانب۔ انقلاب ایران کی تاریخ سے لے کر مارچ 2023 تک ایران ہمارے ہاں انقلاب ایکسپورٹ کرنے کی سرتوڑ کوششیں کرتا رہا ہے، جس کے ہم نے خمیازے بھگت رکھے ہیں۔ لیکن صد شکر کہ یہ ایران ہی ہے جس نے مارچ 2023 میں بیجنگ معاہدے کی صورت اپنی اس پالیسی سےمکمل یوٹرن لے لیا ہے۔ آج کی تاریخ میں اس کا آفیشل مؤقف یہ ہے کہ وہ پاکستان اور سعودی عرب دونوں کو ’برادر‘ کہتا ہے۔

آمدم برسر مطلب کہ علامہ سنی ہو یا شیعہ، انہیں دو باتیں اچھی طرح سمجھ لینی چاہییں۔ پہلی یہ کہ ممالک کے رشتوں میں مذہب و مسلک کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ دوسری یہ کہ قوموں کی زندگی میں 3 سال فقط تین گھنٹے ہوتے ہیں۔ یوں تبدیل شدہ ایران کے ساتھ ہمارے نئے رشتے کی عمر 3 گھنٹے ہے، اور ان تین گھنٹوں میں دونوں ممالک نے اچھی پیش رفت کر رکھی ہے۔ جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ ہم ایران پر اور ایران ہم پر مکمل اعتماد کررہا ہے۔ کیا آپ کو اتنی سی بات بھی سمجھ نہیں آرہی کہ سیاسی حمایت تو ایران کی کئی ممالک کررہے ہیں، تو کیا وجہ ہے کہ اظہار تشکر نام لے کر وہ صرف پاکستان سے کررہے ہیں؟ ہر بات بتانے والی نہیں ہوتی، کچھ باتیں سگنلز کی شکل میں ہوتی ہیں، انہیں کیچ کرنا پڑتا ہے۔

ہمیں یہ بات اچھی طرح سمجھنی ہوگی کہ پاکستان تلوار کی دھار پر چل کر سفارتکاری کررہا ہے۔ ایک طرف اس کی تاریخ کے ہر مشکل لمحے کا دوست ہے، دوسری طرف اس کا عمر بھر کا پڑوسی۔ اور پاکستان کا ہدف یہ ہے کہ دونوں کو ایک بدمست ہاتھی کے شر سے بچانا ہے، دونوں کی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ ایسا پاکستان کسی سنی علامے کے لیے کررہا ہے اور نہ ہی شیعہ علامہ کے لیے۔ ہم فارغ التحصیل عالم دین کی حیثیت سے کہہ رہے ہیں کہ جیو پالیٹکس میں علامہ گیری نہیں چلتی۔ بحران کے ان لمحوں میں اپنی قیادت پر سیاسی و مسلکی وابستگی سے بالاتر ہوکر اعتماد کرنا وقت کا تقاضا ہے۔ پاکستان کا مفاد ہر چیز پر مقدم رہےگا، ہمیں بالکل نہیں لگتا کہ ایران اور سعودی عرب کے مابین تصادم کی نوبت آئے گی، لیکن اگر خدا نخواستہ یہ لمحہ آیا تو ہمارا جھکاؤ اسی کی طرف ہوگا جس نے لاک اَپ کی دیوار سے ٹیک لگائے کہا تھا، ’میں نے کہا تھا ناں کہ پھنس جائیں گے؟‘ سو ایران بھی میزائلوں کے بٹن پریس کرنے میں تھوڑی احتیاط برتے۔ امن کی راہ تلاش کرتے پاکستان کے لیے مسائل پیدا کرنا دانشمندی نہ ہوگی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مغربی ہواؤں کا نیا سلسلہ داخل، ملک بھر میں بارشیں، آندھی اور ژالہ باری کی پیشگوئی

ترکیہ کی آئینی عدالت کے صدر کا دورۂ پاکستان، عدالتی تعاون کا معاہدہ طے پانے کا امکان

آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے برطانیہ کا بڑا اقدام، 35 ممالک کا اجلاس طلب

شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 8 خوارج ہلاک

سپریم کورٹ کا مطیع اللہ جان کے مقدمے میں اہم حکم، ٹرائل کورٹ کو فردِ جرم عائد کرنے سے روک دیا

ویڈیو

سعودی عرب سے ترسیلات اور حجاز مقدس سے متعلق شہریوں کے خیالات

حج اور عمرہ کی یادیں جو آنکھوں کو نم کر دیں

پیغام پاکستان بیانیہ، محراب و منبر کی اصلاح اور عدالتی انصاف شدت پسندی ختم کر سکتا ہے: علّامہ عارف الواحدی

کالم / تجزیہ

ہز ماسٹرز وائس

ایران یا سعودی عرب: پاکستان کو مشکل فیصلہ کرنا پڑ سکتا ہے؟

ایران جنگ: اسٹریٹیجک حقائق اور عالمی طاقتوں کے دعوے