ایئر پنجاب کی پہلی پرواز نومبر تک متوقع ہے، وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان

جمعرات 2 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

صوبائی وزیر برائے ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان کا کہنا ہے کہ ایئر پنجاب کو گزشتہ ماہ لائسنس جاری کردیا گیا تاہم اب تک اس فضائی کمپنی کے لیے کوئی جہاز خریدا نہیں گیا ہے لیکن امید ہے کہ پہلی فلائٹ اس سال نومبر میں اڑان بھر لے۔

یہ بھی پڑھیں: ایئر پنجاب کی تیاری حتمی مراحل میں داخل، مارچ میں فلائٹس آپریشن شروع کرنے کا منصوبہ

وی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے بلال اکبر خان نے کہا کہ ایئر پنجکاب کے لیے جہاز خریدنے کے لیے کنسلٹنٹس ہائر کیے گئے ہیں جو دنیا میں دستیاب جہازوں کی قیمت اور پاکستان کی فضائی ضروریات کے مطابق تجاویز دے رہے ہیں۔

وزیر ٹرانسپورٹ نے بتایا کہ امریکی اور برطانوی سفارتخانے بھی اس معاملے میں تعاون کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر جہاز لیز پر لیے جائیں گے اور جن کمپنیوں سے جہاز لیے جائیں گے ان کے پائلٹس اور اسٹاف انہیں چلائیں گے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ ایئر پنجاب کے جہاز پہلے لوکل روٹس پر چلائے جائیں گے اور توقع ہے کہ پہلا جہاز اکتوبر یا نومبر میں اڑان بھرے گا۔

وزیر اعلیٰ پنجاب کے لیے جہاز کیوں خریدا گیا؟

ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر برائے ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کا جہاز تبدیل کرنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ جب سنہ 2017 میں شہباز شریف وزیر اعلیٰ تھے تو اس وقت وہ پرانا جہاز استعمال کر رہے تھے اور دورانِ سفر 2 مرتبہ جہاز کی کمیونیکیشن اچانک بند ہو گئی تھی جس کے بعد نیا جہاز خریدنے کا فیصلہ کرلیا گیا تھا۔

مزید پڑھیے: ایئر پنجاب کی پہلی پرواز کب اڑان بھرے گی؟ مریم اورنگزیب نے بتادیا

انہوں نے بتایا کہ جس کمپنی سے یہ جہاز خریدا گیا اسی کے ساتھ یہ معاہدہ بھی ہے کہ اسی کمپنی کے پائلٹس اس جہاز کو اڑائیں گے اور پائلٹس کی تنخواہیں بھی اسی معاہدے کا حصہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس جہاز کی مینٹیننس بیرون ملک ہوتی ہے اور اگر ہیلی کاپٹر وغیرہ کی مینٹیننس بھی کروانی ہو تو وہ بھی باہر سے ہی کروائی جاتی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ انہیں سمجھ میں نہیں آرہا کہ لوگ اس معاملے پر تنقید کیوں کر رہے ہیں۔

کفایت شعاری مہم

صوبائی وزیر نے بتایا کہ کفایت شعاری مہم پنجاب کے تمام محکموں میں جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ دفاتر میں گاڑیوں کے استعمال میں 50 فیصد کمی کی گئی، آفس میں بیٹھ کر کام کرنے والے اسٹاف کی تعداد میں کمی کی گئی اور سیکریٹریز اور ایڈیشنل سیکریٹریز کی نصف تعداد بھی ورک فرام ہوم کر رہی ہے۔

مزید پڑھیں: پنجاب میں ای ٹیکسی اسکیم کا آغاز ،قیمت کیا ہوگی ؟

انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کی گاڑیاں پرانی ہیں اور ہائی اوکٹین فیول استعمال نہیں ہوتا اس لیے اس کی قیمت بڑھنے سے زیادہ فرق نہیں پڑتا البتہ ڈیزل کی قیمتیں بڑھنے سے مارکیٹ متاثر ہوتی ہے۔

صوبائی وزیر نے کفایت شعاری مہم کے حوالے سے کہا کہ عید کے دنوں میں عام عوام کی تقریباً 75 ہزار گاڑیاں مری گئیں جبکہ ہزاروں گاڑیاں مالم جبہ، ناران، کاغان اور سوات کا رخ کرتی رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف عوام پیٹرول مہنگا ہونے کی شکایت کرتے ہیں جبکہ دوسری جانب غیر ضروری سفر بھی جاری رکھتے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ اس صورتحال کا احساس نہیں کر رہے۔

پیٹرول راشننگ سے بچنے کے لیے عوام تعاون کریں

انہوں نے خبردار کیا کہ جنگی صورتحال کے باعث دنیا کے کئی ممالک پیٹرول راشننگ کی طرف جا چکے ہیں اور کوٹہ سسٹم نافذ کر دیا گیا ہے اور اگر عوام نے احساس نہ کیا تو پاکستان میں بھی اسی طرح کا نظام نافذ کرنا پڑ سکتا ہے اس لیے غیر ضروری سفر سے گریز کیا جانا چاہیے۔

اسمارٹ لاک ڈاؤن، دکانوں کے اوقات کار

انہوں نے بتایا کہ تمام وزرائے اعلیٰ کی وفاق کے ساتھ ایک اہم میٹنگ ہوئی، جس میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کی تجویز پیش کی گئی تاہم وزرائے اعلیٰ نے اسے مسترد کر دیا۔

وزیر ٹراسپورٹ نے کہا کہ البتہ مارکیٹس کے اوقات کار کم کرنے پر غور جاری ہے جس کے تحت دکانیں رات 8 سے ساڑھے 8 بجے تک بند کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔

یہ بھی پڑھیے: میٹرو بس اور اورنج ٹرین کے بعد نئی سفری سہولت، لاہور میں پہلی ٹرام کب چلے گی؟

انہوں نے واضح کیا کہ موٹرویز اور نیشنل ہائی ویز کو بند کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں۔

وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا کہ کفایت شعاری مہم کے تحت وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سیکیورٹی خدشات کے باوجود اپنا پروٹوکول کم کر دیا ہے اور سیکیورٹی میں بھی کمی کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بعض دیگر وزرا نے بھی اپنے پروٹوکول میں کمی کی ہے اور اگر کسی وزیر یا مشیر کے پاس غیر ضروری پروٹوکول موجود ہے تو اسے بھی ختم کر دینا چاہیے۔

ٹرام سروس

صوبائی وزیر نے بتایا کہ مئی کے مہینے میں لاہور میں ٹرام بس سروس شروع کی جائے گی۔

مزید پڑھیں: ’ٹرام کیا ہمارے پاس تو سڑکیں نہیں‘، لاہور میں ٹرام چلنے پر اہل کراچی احساس محرومی کا شکار

تفصیل سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس ٹرام میں تقریباً 300 مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش ہوگی اور اسے نہر، مال روڈ اور گلبرگ کے علاقوں میں چلانے کی تجویز ہے جبکہ اس کے روٹس پر غور جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ ٹرام خودکار طریقے سے بھی چل سکتی ہے تاہم ابتدائی طور پر اسے ڈرائیور کے ذریعے ہی چلایا جائے گا۔

ای ٹیکسی اسکیم

ای ٹیکسی اسکیم کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ اب تک 70 گاڑیاں فراہم کی جا چکی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اس اسکیم کے تحت ڈھائی لاکھ افراد نے درخواستیں دیں جن میں سے جانچ پڑتال کے بعد 70 افراد کو ای ٹیکسی فراہم کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 300 افراد نے ڈاؤن پیمنٹ جمع کروا دی ہے جبکہ 300 سے زائد افراد جزوی ادائیگی کر چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ 750 گاڑیوں کا آرڈر کنفرم ہو چکا ہے اور جون تک 1100 ای ٹیکسیز شہریوں کو فراہم کر دی جائیں گی۔

بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اگر کسی کو پنجاب حکومت کے مقررہ رنگ پر اعتراض ہو تو وہ 5 سال بعد اقساط مکمل ہونے پر اپنی گاڑی کی برانڈنگ یا رنگ تبدیل کروا سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: مریم نواز کے لیے 10 ارب روپے مالیت کا نیا طیارہ خرید لیا گیا، سوشل میڈیا پر شدید تنقید

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ جب تک اقساط مکمل نہیں ہوتیں تب تک گاڑیاں پنجاب حکومت کی برانڈنگ کے ساتھ ہی چلائی جائیں گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بغیر نوٹیفیکیشن پڑھے بیکری بند کروانا اے سی صاحبہ کو مہنگا پڑگیا

مغربی ہواؤں کا نیا سلسلہ داخل، ملک بھر میں بارشیں، آندھی اور ژالہ باری کی پیشگوئی

ترکیہ کی آئینی عدالت کے صدر کا دورۂ پاکستان، عدالتی تعاون کا معاہدہ طے پانے کا امکان

آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے برطانیہ کا بڑا اقدام، 35 ممالک کا اجلاس طلب

شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 8 خوارج ہلاک

ویڈیو

سعودی عرب سے ترسیلات اور حجاز مقدس سے متعلق شہریوں کے خیالات

حج اور عمرہ کی یادیں جو آنکھوں کو نم کر دیں

پیغام پاکستان بیانیہ، محراب و منبر کی اصلاح اور عدالتی انصاف شدت پسندی ختم کر سکتا ہے: علّامہ عارف الواحدی

کالم / تجزیہ

’میں نے کہا تھا ناں کہ پھنس جائیں گے؟‘

ہز ماسٹرز وائس

ایران یا سعودی عرب: پاکستان کو مشکل فیصلہ کرنا پڑ سکتا ہے؟