امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران پاکستان کی جانب سے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوشش پر بعض عرب حلقوں کی جانب سے تنقید سامنے آئی ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کا یہ اقدام خطے میں امن کے قیام کے لیے نہایت اہم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی امریکا اور ایران میں ثالثی: خیبرپختونخوا کے عوام کیا کہتے ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق کچھ عرب صحافیوں اور پالیسی ماہرین کا مؤقف ہے کہ کوئی ملک بیک وقت اتحادی اور ثالث نہیں ہو سکتا اور چونکہ پاکستان کے عرب ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں اس لیے اسے غیر جانبدار رہنے کے بجائے ایک فریق کا ساتھ دینا چاہیے۔
ماہرین اس سوچ کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ ایک پیچیدہ صورتحال کو’ہمارے ساتھ یا ہمارے خلاف‘ کے فارمولے تک محدود کرنے کے مترادف ہے جو خطے میں مزید کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق بعض عرب ممالک امریکا اور اسرائیل کے ساتھ ممکنہ طور پر جنگ میں شامل ہونے کی تیاری کر رہے ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ پاکستان بھی ان کا ساتھ دے۔
مزید پڑھیے: پوری دنیا پاکستان کی ثالثی کی معترف، عمران خان نیتن یاہو اور مودی کی زبان بول رہے ہیں: عباد اللہ
تاہم مبصرین سوال اٹھاتے ہیں کہ جب امریکا اور اسرائیل پہلے ہی ایران کے خلاف وسیع پیمانے پر کارروائیاں کر چکے ہیں تو مزید جنگ سے کیا حاصل ہوگا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق کسی بھی جنگ میں اختتام جنگ کی حکمت عملی نہایت اہم ہوتی ہے اوار اگر اس پر توجہ نہ دی جائے تو پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں رہتا
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر خطے کے ممالک اس تنازع میں مزید الجھتے ہیں تو اس کے نتیجے میں طویل المدتی دشمنی اور عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے، جبکہ بالآخر خطے کے عرب ممالک ، ایران، ترکیہ اور پاکستانی کو ایک ساتھ رہنا ہی ہے۔
پاکستان کے مؤقف کو واضح کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ملک کو جنگوں کا تجربہ ہے اور وہ خطے میں ایک قابلِ قبول اور باعزت سیاسی حل کی تلاش میں ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق تاریخ یہ سبق دیتی ہے کہ شکست خوردہ فریق کی تذلیل مزید تنازعات کو جنم دیتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ ایسا حل تلاش کیا جائے جو تمام فریقین کے لیے قابلِ قبول ہو۔
مزید پڑھیں: ایران امریکا تنازع: پاکستان کی ثالثی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، چین
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں خطے کے ممالک کو جنگ کے بجائے استحکام اور امن پر توجہ دینی چاہیے کیونکہ طویل تنازع سب کو کمزور کر سکتا ہے جبکہ ایک متوازن سیاسی حل ہی دیرپا امن کی ضمانت بن سکتا ہے۔














