کوئٹہ میں تیزاب حملے کا شکار ہونے والی خاتون ڈاکٹر ماہ نور ناصر کے والد حبیب اللہ ناصر نے سوشل میڈیا پر اپنی بیٹی کے رشتے کے حوالے سے گردش کرنے والی خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے انہیں مکمل طور پر بے بنیاد اور من گھڑت قرار دے دیا ہے۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حبیب اللہ ناصر نے واضح کیا کہ ملزم ہمایوں شاہ کی جانب سے ڈاکٹر ماہ نور ناصر کے لیے کوئی رشتہ موصول نہیں ہوا، اور اس حوالے سے کیے جانے والے تمام دعوے حقیقت سے عاری ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ایسی غیر مصدقہ خبروں اور افواہوں پر بالکل یقین نہ کریں۔
یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب حملہ: بلوچستان میں خواتین کے خلاف تشدد کی صورتحال سنگین، اعدادوشمار کیا بتاتے ہیں؟
حبیب اللہ ناصر نے صحافتی اقدار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حقائق کی تصدیق کے بغیر خبریں نشر کرنا ایک انتہائی غیر ذمہ دارانہ عمل ہے۔ ذمہ دار صحافت کا بنیادی تقاضا یہی ہے کہ کوئی بھی خبر نشر کرنے سے پہلے متعلقہ فریق کا مؤقف اور تصدیق لازمی حاصل کی جائے۔
انہوں نے میڈیا اداروں کو متنبہ کیا کہ خاندان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والی جھوٹی خبروں کے خلاف وہ قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپیل کی کہ میڈیا ہاؤسز ایسے حساس معاملے میں سنسنی خیزی کے بجائے ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔
یہ بھی پڑھیں: تیزاب گردی کی شکار ڈاکٹر ماہ نور کی حالت اب کیسی ہے؟
یاد رہے کہ کوئٹہ میں تیزاب حملے میں شدید زخمی ہونے والی خاتون ڈاکٹر ماہ نور ناصر اس وقت کراچی کے ایک نجی اسپتال میں زیرِ علاج ہیں، جہاں ان کی پہلی سرجری کامیابی سے مکمل کرلی گئی ہے۔ سرجری کے دوران متاثرہ حصوں سے مردہ جلد کو ہٹا دیا گیا ہے۔
اہلِ خانہ کے مطابق آپریشن کے بعد ڈاکٹر ماہ نور کی حالت پہلے سے بہتر ہے، تاہم تیزاب کے زخموں کے باعث انفیکشن کا خطرہ اب بھی برقرار ہے، جس کے پیشِ نظر انہیں آئسولیشن میں رکھا گیا ہے۔
ڈاکٹروں کی ٹیم کے مطابق مریضہ کا علاج مرحلہ وار سرجریز کے ذریعے کیا جا رہا ہے، جس میں متاثرہ جلد کو ہٹانے کے ساتھ ساتھ نئی جلد کی پیوندکاری (اسکن گرافٹنگ) بھی شامل ہے۔ اس سلسلے میں منگل کو پہلی سرجری کی گئی جو 8 گھنٹوں سے زائد وقت تک جاری رہی۔
یہ بھی پڑھیں: لیڈی ڈاکٹر پر تیزاب گردی کے اندوہناک واقعے کے خلاف کوئٹہ میں احتجاج، ماہرہ خان بھی بول پڑیں
پلاسٹک سرجنز نے ڈاکٹر ماہ نور کے چہرے پر معمولی گرافٹنگ کا عمل مکمل کرلیا ہے، تاہم فی الحال کوئی بڑی (میجر) سرجری نہیں کی گئی۔ پلاسٹک سرجنز اور آنکھوں کے ماہر سرجنز پر مشتمل ٹیم نے مریضہ کا تیسری بار مکمل طبی معائنہ کیا ہے اور مختلف ٹیسٹ بھی کیے گئے ہیں۔
حکومتِ بلوچستان اور حکومتِ سندھ متاثرہ ڈاکٹر اور ان کے اہلخانہ سے مسلسل رابطے میں ہیں اور علاج کے تمام مراحل کی سرکاری سطح پر نگرانی کی جارہی ہے۔














