ایران امریکا ثالثی کے بعد بیرونی قوتیں پاکستان میں عدم استحکام کی کوششیں کررہی ہیں: سفارتکار ضمیر اکرم

بدھ 10 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کے سابق سفیر، کئی اہم ممالک اور اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے سفارتکار ضمیر اکرم نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی میں پاکستان کے کردار کو لے کر بعض غیر ملکی قوّتیں پاکستان میں عدم استحکام کی کوششیں کررہی ہیں، اس میں کوئی حیرانی کی بات نہیں۔

’وی نیوز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ایک طرف آپ بھارت کا رویہ دیکھیں وہ ہمارے اس کردار سے بڑے ناخوش ہیں اور پہلے بھی وہ پاکستان کی دشمنی میں یہاں دہشتگردی کو فروغ دیتے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: امریکا اور ایران کے درمیان جاری ثالثی کے عمل میں بتدریج پیشرفت ہو رہی ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف

’افغانستان کی سرزمین اور طالبان رجیم کو استعمال کرتے ہوئے وہ ایسا کرتے رہے ہیں۔ ’دوسرا بھارت اور اسرائیل کے درمیان بہت زیادہ قریبی تعلقات ہیں اور پاکستان میں عدم استحکام کی سرگرمیاں یقینناً اسرائیل کی ایما پر اور بھارت اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہو رہی ہیں۔‘

’ایران امریکا کشیدہ صورتحال زیادہ دیر نہیں چل سکتی‘

سفارتکار ضمیر اکرم نے کہاکہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدہ صورتحال کسی کے حق میں نہیں ہے اور میرا نہیں خیال کہ یہ زیادہ دیر چل سکتی ہے۔ صرف اسرائیل جیسا ملک چاہے گا کہ یہ صورتحال طویل ہو، لیکن دونوں کے درمیان معاہدہ ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگنی چاہیے۔

انہوں نے کہاکہ اسرائیل کی کوششوں کے باوجود ایران امریکا معاہدے کا اِمکان اس وجہ سے موجود ہے کیونکہ دونوں فریقین یہ چاہتے ہیں۔

ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ دِنوں میں جو فوجی کشیدگی بڑھی ہے، ان کے خیال میں ایسا نہیں کہ اِس کشیدگی میں امریکا بھی شامل ہو جائے گا۔

انہوں نے کہاکہ امریکا کی کوشش یہ ہے کہ جنگ بندی کے بعد کوئی معاہدہ ہو جائے اور پاکستان اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کررہا ہے لیکن اسرائیل کی کوشش یہ ہے کہ اس پراسیس کو کسی طریقے سے ختم کروا دیا جائے تاکہ معاہدہ نہ ہو پائے۔

’اسرائیل کی اِن کوششوں کا ایک حصہ تو وہ ہے جس میں وہ لبنان پر حملے کررہا ہے، اور دوسرا حصہ وہ ہے جس میں وہ امریکا میں لابنگ کررہے ہیں۔‘

انہوں نے کہاکہ نیویارک ٹائمز کی بڑی اہم خبر ہے کہ اسرائیل نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ امریکی مذاکرات کاروں کی جاسوسی کی جائے تاکہ ان مذاکرات کاروں پر اثرانداز ہوا جا سکے۔ اِس سارے پراسیس میں سب سے بڑی رکاوٹ اسرائیل ہے، لیکن اس سب کے باوجود ایران اور امریکا دونوں یہ چاہتے ہیں کہ معاہدہ ہو جائے لیکن دیکھنا یہ پڑے گا کہ اسرائیل امریکا کے فیصلوں پر کس قدر اثرانداز ہو سکتا ہے۔

کیا امریکا کی مدد کے بغیر اسرائیل اس جنگ کو جاری رکھ سکتا ہے؟

اس سوال کے جواب میں سفارتکار ضمیر اکرم نے کہاکہ اسرائیل اکیلا جنگ جاری نہیں رکھ سکتا لیکن اسرائیل کی امریکا میں بہت بڑی لابی ہے، وہاں کی سیاسی تنظیموں اور میڈیا پر ان کا بڑا اثر و رسوخ ہے جس کو اِس وقت استعمال کیا جا رہا ہے، لیکن دیکھنا یہ ہے کہ امریکا اسرائیل کے رویے کو کب تک برداشت کرے گا۔

انہوں نے کہاکہ امریکا کی جانب سے اسرائیل پر دباؤ آنا چاہیے، تاکہ جس طرح کی حرکتیں وہ لبنان میں کررہا ہے بند کرے۔ اسرائیل، لبنان اور امریکا کے درمیان معاہدہ بھی ہو چکا ہے، اس معاہدے کو آگے بڑھنے کا موقع ملنا چاہیے۔

امریکی کانگریس، امریکی عوام صدر ٹرمپ مخالف، کیا امریکی صدر کی فیصلہ سازی متاثر ہو سکتی ہے؟

اس سوال کے جواب میں سفارتکار ضمیر اکرم نے کہا کہ امریکی عوام اور امریکی کانگریس میں صدر ٹرمپ کی کافی مخالفت ہے۔ اس جنگ کے شروع میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ اِس کے مقاصد ہیں کہ ایران میں رجیم چینج کی جائے، ایران کی جوہری و میزائل صلاحیت ختم کی جائے، ایرانی پراکسیز کو ختم کیا جائے، لیکن امریکا یہ تینوں مقاصد حاصل نہیں کر سکا۔

’اس کے برعکس امریکا میں مہنگائی کی شرح بڑھنے سے صدر ٹرمپ کی اپروول ریٹنگ کم ہوئی ہے اور صدر ٹرمپ کا ووٹ بینک (میک امیریکا گریٹ اگین۔میگا) وہ بھی کم ہوا ہے کیونکہ اس کی بنیاد یہ تھی کہ امریکا پرائی جنگوں میں ملوث نہیں ہو گا۔ صدر ٹرمپ پر اِس جنگ کو جلد سے جلد ختم کرنے کا دباؤ ہے لیکن انہیں ایک فیس سیونگ حل چاہیے جس میں وہ اپنے لوگوں کو یہ بتا سکیں کہ اِس جنگ سے اُنہوں نے یہ حاصل کیا ہے۔‘

انہوں نے کہاکہ ابھی تک مذاکرات اس مرحلے پر نہیں پہنچے، کئی مسائل حل ہو چکے کئی رہتے ہیں لیکن اِس دوران اسرائیل کی کوششیں ہیں کہ وہ اِس سارے پراسیس کو ختم کروا دے۔

پاکستان کی ثالثی کوششیں کس سمت میں جا رہی ہیں؟

اس سوال کے جواب میں سفارتکار ضمیر اکرم نے کہاکہ اس وقت پاکستان کے علاوہ کوئی ایسا ملک نہیں جس نے ثالثی کی کوششیں کی ہوں۔ ہم نے جنگ بندی سے اب تک جو کوششیں کی ہیں ان کو سب سراہ رہے ہیں۔ امریکا بھی پاکستان پر انحصار کررہا ہے۔

’بطور ثالث ہم نے فریقین کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کیا ہے اور ساتھ میں ہم دونوں فریقین کو اپنی طرف سے مشورے بھی دے رہے ہیں لیکن مسئلہ شاید یہاں پھنسا ہوا ہے کہ ایران کی افزودہ یورینیم کو کہاں رکھا جائے اور ایران کا سب سے مسئلہ یہ ہے کہ ان کے منجمد اثاثے کیسے غیر منجمند ہوں۔‘

مزید پڑھیں: امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی پر پاکستان کی تعریف، امریکی کانگریس میں قرارداد پیش

انہوں نے کہاکہ اِن تمام مسائل کی بنیاد فریقین کے درمیان عدم اعتمادی کی فضا ہے، ہمارے وزیرِ داخلہ تجاویر لے کر جاتے ہیں، لیکن سارا دارومدار ہے کہ صدر ٹرمپ کب تک اسرائیل کے دباؤ کو برداشت کر سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp