وفاقی آئینی عدالت کا بڑا فیصلہ، 1985 سے جاری جائیداد تنازع ختم

جمعہ 3 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی آئینی عدالت نے 1985 سے جاری ایک طویل جائیداد تنازع کا فیصلہ سناتے ہوئے مقدمہ نمٹا دیا، جبکہ عدالت نے واضح کیا ہے کہ متعدد فورمز پر کیس ہارنے کے بعد کسی فریق کو دوبارہ دعویٰ دائر کرنے کا حق حاصل نہیں ہوتا۔

چیف جسٹس امین الدین خان نے اس حوالے سے تحریری فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ جو فریق 3 مختلف فورمز پر مقدمہ ہار چکا ہو، اسے دوبارہ اسی معاملے پر دعویٰ دائر کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ مزید کہا گیا کہ اپنی غلطی یا سستی کی بنیاد پر ہارا ہوا کیس دوبارہ کھولنے کا حق بھی نہیں دیا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھیں:سپریم کورٹ: گجرات قتل کیس میں سزائے موت عمر قید میں تبدیل

عدالت نے رجسٹرڈ سرکاری دستاویزات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قانون کے تحت رجسٹرڈ کاغذات کو درست اور قابلِ اعتبار تصور کیا جائے گا اور محض شک یا الزامات کی بنیاد پر انہیں غلط قرار نہیں دیا جا سکتا۔ فیصلے میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ رجسٹریشن ایکٹ کے مطابق کسی بھی دستاویز کو تیار ہونے کے 6 ماہ کے اندر رجسٹر کروانا لازمی ہے۔

وفاقی آئینی عدالت نے مزید بتایا کہ مذکورہ اپیل 27ویں آئینی ترمیم سے قبل سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھی، جسے بعد ازاں موجودہ قانونی دائرہ اختیار کے تحت نمٹایا گیا۔ عدالت کے اس فیصلے کو قانونی ماہرین کی جانب سے ایک اہم نظیر قرار دیا جا رہا ہے، جس سے مستقبل میں اسی نوعیت کے مقدمات کے فیصلوں میں رہنمائی ملے گی۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ

دوسری جانب سپریم کورٹ نے اسلام آباد کے سیکٹر E-12 میں واقع پلاٹ کے 26 سالہ پرانے تنازع کو ختم کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور مدعی کا دعویٰ خارج کر دیا۔ یہ فیصلہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل بینچ نے سنایا، جبکہ جسٹس شاہد بلال حسن نے تحریری فیصلہ جاری کیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ صرف معاہدے کی بنیاد پر ملکیت کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔ قانون شہادت کے تحت معاہدے کے گواہان کو عدالت میں پیش کرنا لازمی ہے، بصورت دیگر عدالت منفی تاثر لے گی۔ فیصلے میں کہا گیا کہ گواہ پیش نہ کرنے کا مطلب یہ سمجھا جائے گا کہ وہ مدعی کے حق میں نہیں تھے۔

یہ بھی پڑھیں:’ایسا فیصلہ دیں گے جو پاکستان کو ہلا کر رکھ دے گا‘، باپ کے قاتل بیٹے کی اپیل پر سپریم کورٹ کے ریمارکس

سپریم کورٹ نے مزید قرار دیا کہ عدالت صرف اس بنیاد پر ریلیف دینے کی پابند نہیں کہ دعویٰ قانون کے مطابق ہے، بلکہ کیس کے مجموعی حالات و واقعات کو مدنظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ سی ڈی اے کے ریکارڈ میں موجود تھرڈ پارٹی حقوق کی منتقلی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے عالمی نظامِ صحت میں انقلابی تبدیلی کی پیش گوئی کردی

الاسکا میں امریکی فضائیہ کے ریڈار مرکز کے قریب طیارہ تباہ، 8 افراد ہلاک

نواز شریف کا لاہور کے مختلف علاقوں کا دورہ، ترقیاتی کاموں اور تزئین و آرائش کا جائزہ

ایران جنگ میں نیا محاذ، ٹرمپ کا آبنائے ہرمز پر امریکی ملکیت کا دعویٰ، تہران کا سخت جواب

امریکی سینیٹر کوری بُوکر کا پاکستان کے کردار کا اعتراف، مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے اہم قرار

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘