زمین کے شمالی نصف کرے میں موسم کی تبدیلی کے دوران ایک غیر معمولی موسمی صورتحال سامنے آ گئی ہے، جہاں قطبی گرداب اپنے آخری ‘موسمی’ مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ اس تبدیلی کے باعث اپریل 2026 کے دوران بھی سردی کی نئی لہروں اور برفباری کے امکانات برقرار رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق قطبی گرداب کا ایک کمزور مگر فعال حصہ اب بھی نچلی فضائی تہہ میں موجود ہے جو شمالی امریکا اور مشرقی کینیڈا کے اوپر مرکوز ہے۔ یہی نظام آرکٹک کی ٹھنڈی ہوا کو جنوب کی طرف دھکیل رہا ہے، جس کے باعث امریکا کے شمالی اور مشرقی حصوں میں درجہ حرارت معمول سے کم ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: سعودی عرب: موسم بہار کی بارشوں نے قدرتی مناظر کو یکسر تبدیل کردیا، شہری لطف اندوز ہونے لگے
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال اس بڑے موسمی نظام کے ٹوٹنے کے آخری مرحلے کا حصہ ہے جو گزشتہ سردیوں میں شروع ہوا تھا۔ جیسے جیسے بہار کا موسم آگے بڑھ رہا ہے، فضائی دباؤ اور درجہ حرارت کے فرق میں تبدیلی اس گرداب کو کمزور کر رہی ہے، تاہم اس کے اثرات اب بھی جاری ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شمالی امریکا میں ایک طرف سرد ہوائیں موجود ہیں جبکہ وسطی اور جنوبی علاقوں میں نسبتاً گرم مغربی اور جنوبی ہوائیں داخل ہو رہی ہیں، جس سے درجہ حرارت میں واضح فرق پیدا ہو گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ناسا کا آرٹیمس 2 مشن سیدھا چاند کی جانب کیوں نہیں جارہا؟ تفصیلات سامنے آگئیں
یورپ میں بھی مجموعی طور پر ٹھنڈا رجحان دیکھا جا رہا ہے، جہاں شمالی اور مشرقی علاقوں میں وقفے وقفے سے سرد ہواؤں کا امکان ہے، جبکہ بعض حصوں میں عارضی طور پر گرم ہوائیں بھی آ سکتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اپریل کے آخری حصے میں فضائی نظام میں مزید تبدیلی متوقع ہے، جس سے موسم کا یہ غیر معمولی اتار چڑھاؤ جاری رہ سکتا ہے۔













