اے آئی اب صرف آواز سن کر کینسر کی نشاندہی کر سکتا ہے، نئی تحقیق میں انکشاف

پیر 6 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مصنوعی ذہانت انسانی آواز میں چھپے ایسے باریک اشاروں کو شناخت کر سکتی ہے جو مختلف بیماریوں، خصوصاً گلے کے کینسر کی ابتدائی علامات ظاہر کر سکتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق گلے کے کینسر، جسے وائس باکس کینسر بھی کہا جاتا ہے، دنیا بھر میں ایک سنگین طبی مسئلہ ہے۔ اکثر مریض دیر سے تشخیص کی وجہ سے پیچیدگیوں کا شکار ہو جاتے ہیں کیونکہ موجودہ تشخیصی طریقے جیسے اینڈوسکوپی اور ٹشو بایوپسی نہ صرف تکلیف دہ ہیں بلکہ ہر جگہ فوری طور پر دستیاب بھی نہیں ہوتے۔

یہ بھی پڑھیے: ٹی وی پر یوٹیوب دیکھنے کا انداز بدل گیا، اے آئی اسسٹنٹ والا نیا فیچر متعارف

امریکی ماہرین کی ایک ٹیم نے ‘بریج ٹو اے آئی وائس’ منصوبے کے تحت ہزاروں آوازوں کی ریکارڈنگز کا تجزیہ کیا۔ اس تحقیق میں آواز کے مختلف پہلوؤں جیسے پچ، آواز کی شدت میں معمولی تبدیلیاں اور شور کے تناسب کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ مرد افراد میں آواز کے مخصوص پیٹرنز، خصوصاً ہارمونک ٹو نوائز ریشو اور پچ میں تبدیلیاں، گلے کے کینسر یا ابتدائی رسولیوں کی نشاندہی میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ تاہم خواتین کے ڈیٹا میں ابھی واضح نتائج سامنے نہیں آئے، جس کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ نتائج مستقبل میں ایسے نظام کی بنیاد بن سکتے ہیں جو صرف آواز سن کر ابتدائی مرحلے میں بیماریوں کی نشاندہی کر سکے۔ محققین کا کہنا ہے کہ بڑے ڈیٹا سیٹس اور کلینیکل ٹیسٹنگ کے بعد آئندہ چند برسوں میں اس ٹیکنالوجی کے ابتدائی طبی استعمال ممکن ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: ایف آئی اے کا مطلوب ملزمان کی گرفتاری کیلئے اے آئی سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ

یہ پیش رفت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ مصنوعی ذہانت صحت کے شعبے میں تشخیص کے طریقوں کو مزید تیز، آسان اور مؤثر بنا سکتی ہے، جس سے بروقت علاج اور بہتر نتائج حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp