انڈونیشیا میں میانمار کے صدر کے خلاف نسل کشی کا مقدمہ دائر

پیر 6 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

میانمار کے صدر من آنگ ہلائنگ کے خلاف انڈونیشیا میں پیر کے روز ایک فوجداری مقدمہ دائر کر دیا گیا ہے، جس میں ان پر روہنگیا نسلی گروہ کے خلاف نسل کشی کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

یہ شکایت میانمار سے فرارہونیوالی روہنگیا نژاد یاسمین اللہ اور انڈونیشیا کی اہم شخصیات کی جانب سے دائر کی گئی، جن میں سابق اٹارنی جنرل اور ملک کی بڑی اسلامی تنظیم محمدیہ کے چیئرمین شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: چین نے میانمار فراڈ اسکیمز سے منسلک 11 افراد کو موت کی سزا دے دی

ان کے مطابق استغاثہ کو روہنگیا کی جبری بے دخلی اور فوجی حکومت کی جانب سے قتل و غارت کے شواہد فراہم کیے جائیں گے، جبکہ انڈونیشین پروسیکیوٹرز نے اس مقدمے کو قبول کرلیا ہے۔

میانمار، آسیان کا رکن ہے، تاہم 2021 میں من آنگ ہلائنگ کی قیادت میں ہونے والی فوجی بغاوت کے بعد خطے میں اس کے تعلقات کشیدہ ہو گئے ہیں۔

اس بغاوت کے نتیجے میں ملک خانہ جنگی اور شدید انسانی بحران کا شکار ہے، جبکہ بڑی تعداد میں روہنگیا مسلمان بے گھر ہو کر پناہ گزین کیمپوں میں منتقل ہو چکے ہیں۔

دنیا کے سب سے بڑے مسلم اکثریتی ملک انڈونیشیا میں آسیان کا ہیڈکوارٹر بھی واقع ہے، اور یہ ان ممالک میں شامل ہے جہاں روہنگیا افراد کشتیوں کے ذریعے پناہ لینے پہنچتے ہیں۔

مزید پڑھیں: بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں روہنگیا کیس، میانمار کٹہرے میں

من آنگ ہلائنگ کی سربراہی میں 2017 میں میانمار کی فوج نے ایک بڑا آپریشن شروع کیا جس کے نتیجے میں کم از کم 7 لاکھ 30 ہزار روہنگیا اپنے گھروں سے نکل کر ہمسایہ ملک بنگلہ دیش منتقل ہونے پر مجبور ہوئے۔

متاثرین نے قتل، اجتماعی زیادتی اور گھروں کو جلانے جیسے سنگین جرائم کے واقعات بیان کیے۔

مزید پڑھیں: میانمار فوج کی فائرنگ بنگلہ دیشی طالبہ جاں بحق، ٹیکناف میں مظاہرے پھوٹ پڑے

درخواست گزار یاسمین اللہ نے اس پیش رفت کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پہلی بار ہے کہ انڈونیشیا کے نئے تعزیراتی قانون کے تحت ایسا مقدمہ باضابطہ طور پر سنا گیا ہے، جو روہنگیا عوام کی انصاف کی جدوجہد میں ایک اہم سنگ میل ہے۔

مدعیان کے مطابق انڈونیشیا کا قانون عالمی دائرہ اختیارکی اجازت دیتا ہے، جس کے تحت سنگین جرائم کو متاثرین کی قومیت یا وقوعہ کے مقام سے قطع نظر سنا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب ایک اور مسلم اکثریتی ملک گیمبیا نے بھی جنوری میں اقوام متحدہ کی اعلیٰ عدالت میں یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ میانمار نے روہنگیا مسلمانوں کو نشانہ بنا کر ان کی زندگی اجیرن بنا دی، اور ان کے خلاف نسل کشی کی۔

تاہم میانمار کی حکومت ہمیشہ ان الزامات کی تردید کرتی آئی ہے، جبکہ فوجی حکومت کی جانب سے اس تازہ مقدمے پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

مزید پڑھیں: میانمار میں آن لائن فراڈ سینٹرز سے 38 پاکستانیوں سمیت کئی غیرملکی بازیاب، وطن واپسی کی تیاریاں شروع

یاد رہے کہ من آنگ ہلائنگ گزشتہ ہفتے پارلیمانی ووٹ کے ذریعے صدر منتخب ہوئے، جب فوجی حمایت یافتہ جماعت نے دسمبر اور جنوری کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔

مذکورہ انتخاب کو مغربی حکومتوں نے غیر شفاف قرار دیا ہے، 2021 کی فوجی بغاوت کے بعد سے ملک بھر میں احتجاج اور مزاحمت کا سلسلہ جاری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

تونسہ میں ایچ آئی وی بحران، غیر تربیت یافتہ افراد سے انجیکشن لگوانے کا انکشاف

بحیرہ انڈمان میں کشتی ڈوبنے کا ہولناک واقعہ، 250 سے زائد افراد لاپتا ہونے کا خدشہ

امریکی سفارتکار زکری ہارکن رائیڈر کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات

خیبرپختونخوا: سرکاری ملازمین کی حکومتی اجازت کے بغیر غیرملکیوں سے شادی پر پابندی، نئے رولز جاری

ورلڈ کوانٹم ڈے: نئی ٹیکنالوجی کے چیلنج پر ادارے تیار، ڈیٹا کو لاحق خطرات میں اضافہ

ویڈیو

پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے لیے مزید کیا سکتا ہے؟

پاکستان میں بھارتی مواد چلانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، عوام کی رائے

پچھلے 13 سالوں میں پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا میں کرپشن کے سوا کچھ نہیں کیا، آفتاب شیرپاؤ

کالم / تجزیہ

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا

سمندری ناکہ بندی اور فیصلہ کن گھڑی میں پاکستان کا ثابت قدم کردار