میانمار کے صدر من آنگ ہلائنگ کے خلاف انڈونیشیا میں پیر کے روز ایک فوجداری مقدمہ دائر کر دیا گیا ہے، جس میں ان پر روہنگیا نسلی گروہ کے خلاف نسل کشی کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
یہ شکایت میانمار سے فرارہونیوالی روہنگیا نژاد یاسمین اللہ اور انڈونیشیا کی اہم شخصیات کی جانب سے دائر کی گئی، جن میں سابق اٹارنی جنرل اور ملک کی بڑی اسلامی تنظیم محمدیہ کے چیئرمین شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چین نے میانمار فراڈ اسکیمز سے منسلک 11 افراد کو موت کی سزا دے دی
ان کے مطابق استغاثہ کو روہنگیا کی جبری بے دخلی اور فوجی حکومت کی جانب سے قتل و غارت کے شواہد فراہم کیے جائیں گے، جبکہ انڈونیشین پروسیکیوٹرز نے اس مقدمے کو قبول کرلیا ہے۔
میانمار، آسیان کا رکن ہے، تاہم 2021 میں من آنگ ہلائنگ کی قیادت میں ہونے والی فوجی بغاوت کے بعد خطے میں اس کے تعلقات کشیدہ ہو گئے ہیں۔
Myanmar's new president Min Aung Hlaing faces genocide complaint in Indonesia https://t.co/7p3qycQoqv https://t.co/7p3qycQoqv
— Reuters (@Reuters) April 6, 2026
اس بغاوت کے نتیجے میں ملک خانہ جنگی اور شدید انسانی بحران کا شکار ہے، جبکہ بڑی تعداد میں روہنگیا مسلمان بے گھر ہو کر پناہ گزین کیمپوں میں منتقل ہو چکے ہیں۔
دنیا کے سب سے بڑے مسلم اکثریتی ملک انڈونیشیا میں آسیان کا ہیڈکوارٹر بھی واقع ہے، اور یہ ان ممالک میں شامل ہے جہاں روہنگیا افراد کشتیوں کے ذریعے پناہ لینے پہنچتے ہیں۔
مزید پڑھیں: بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں روہنگیا کیس، میانمار کٹہرے میں
من آنگ ہلائنگ کی سربراہی میں 2017 میں میانمار کی فوج نے ایک بڑا آپریشن شروع کیا جس کے نتیجے میں کم از کم 7 لاکھ 30 ہزار روہنگیا اپنے گھروں سے نکل کر ہمسایہ ملک بنگلہ دیش منتقل ہونے پر مجبور ہوئے۔
متاثرین نے قتل، اجتماعی زیادتی اور گھروں کو جلانے جیسے سنگین جرائم کے واقعات بیان کیے۔
مزید پڑھیں: میانمار فوج کی فائرنگ بنگلہ دیشی طالبہ جاں بحق، ٹیکناف میں مظاہرے پھوٹ پڑے
درخواست گزار یاسمین اللہ نے اس پیش رفت کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پہلی بار ہے کہ انڈونیشیا کے نئے تعزیراتی قانون کے تحت ایسا مقدمہ باضابطہ طور پر سنا گیا ہے، جو روہنگیا عوام کی انصاف کی جدوجہد میں ایک اہم سنگ میل ہے۔
مدعیان کے مطابق انڈونیشیا کا قانون عالمی دائرہ اختیارکی اجازت دیتا ہے، جس کے تحت سنگین جرائم کو متاثرین کی قومیت یا وقوعہ کے مقام سے قطع نظر سنا جا سکتا ہے۔
A criminal complaint under the legal principle of universal jurisdiction against Min Aung Hlaing on charges of genocide is going to start at the Prosecutor’s Office in Jakarta, Indonesia, today. Read more in today's daily briefing: https://t.co/1wp2YqFkqU pic.twitter.com/1Duq5dTA7m
— DVB English News (@DVB_English) April 6, 2026
دوسری جانب ایک اور مسلم اکثریتی ملک گیمبیا نے بھی جنوری میں اقوام متحدہ کی اعلیٰ عدالت میں یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ میانمار نے روہنگیا مسلمانوں کو نشانہ بنا کر ان کی زندگی اجیرن بنا دی، اور ان کے خلاف نسل کشی کی۔
تاہم میانمار کی حکومت ہمیشہ ان الزامات کی تردید کرتی آئی ہے، جبکہ فوجی حکومت کی جانب سے اس تازہ مقدمے پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
مزید پڑھیں: میانمار میں آن لائن فراڈ سینٹرز سے 38 پاکستانیوں سمیت کئی غیرملکی بازیاب، وطن واپسی کی تیاریاں شروع
یاد رہے کہ من آنگ ہلائنگ گزشتہ ہفتے پارلیمانی ووٹ کے ذریعے صدر منتخب ہوئے، جب فوجی حمایت یافتہ جماعت نے دسمبر اور جنوری کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔
مذکورہ انتخاب کو مغربی حکومتوں نے غیر شفاف قرار دیا ہے، 2021 کی فوجی بغاوت کے بعد سے ملک بھر میں احتجاج اور مزاحمت کا سلسلہ جاری ہے۔














