توانائی بحران کے پیش نظر وفاقی حکومت نے شہریوں کی ذاتی گاڑیوں کے لیے پیٹرول کے استعمال کو محدود کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، جس کے تحت ماہانہ بنیاد پر مخصوص کوٹہ مقرر کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں مجبوراً عوام پر منتقل کرنا پڑیں، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد عالمی سطح پر پیدا ہونے والی صورتحال کے اثرات پاکستان پر بھی پڑے ہیں، جس کے باعث حکومت مختلف اقدامات پر غور کررہی ہے۔
اس منصوبے کے تحت پیٹرول پمپس پر ڈیجیٹل فیول منیجمنٹ سسٹم متعارف کرایا جائے گا، جس کے ذریعے شہری مقررہ حد سے زیادہ پیٹرول حاصل نہیں کر سکیں گے۔
حکام کے مطابق اس نظام کے نفاذ کے لیے پیٹرول پمپس پر جدید موبائل ڈیوائسز فراہم کی جائیں گی، جن کی مالیت 36 ہزار روپے فی ڈیوائس ہوگی، جبکہ ان کی خریداری کے اخراجات آئل مارکیٹنگ کمپنیاں برداشت کریں گی۔
نیشنل آئی ٹی بورڈ موبائل فونز خرید کر اوگرا کے ذریعے متعلقہ کمپنیوں اور فیول اسٹیشنز تک پہنچائے گا، جبکہ پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کی تیار کردہ ایپ کے ذریعے اس نظام کی نگرانی کی جائے گی۔
میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس حوالے سے اوگرا کو آئل کمپنیوں کو موبائل ڈیوائسز کی خریداری کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں، جبکہ منصوبے کی تفصیلات حتمی منظوری کے لیے کابینہ ڈویژن کو ارسال کر دی گئی ہیں۔
مزید پڑھیں: پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اداکارہ سجل علی نے عوام سے کیا اپیل کی؟
حکام کے مطابق نیشنل آئی ٹی بورڈ نے موبائل ڈیوائسز کے معیار اور کارکردگی کی تصدیق بھی کر دی ہے، اور حکومت جلد ہی پیٹرول کوٹہ کی مقدار کا باضابطہ اعلان کرے گی۔












