بلوچستان حکومت نے غیر رجسٹرڈ اور اوپن ٹرانسفر لیٹر پر چلنے والی موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کی روک تھام کے لیے صوبے بھر میں فیول پاس سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: کوئی بھی سرکاری ریلیف بلوچستان میں تاخیر سے کیوں ملتا ہے؟
اس اقدام کا مقصد گاڑیوں کی ملکیت کو شفاف بنانا اور پیٹرول کی غیر قانونی خرید و فروخت کے ساتھ جرائم کی روک تھام کو یقینی بنانا ہے۔
محکمہ ایکسائز بلوچستان کے اعلامیے کے مطابق ڈائریکٹر جنرل ایکسائز کی ہدایت پر صوبے بھر میں ایسی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے جو تاحال اپنے اصل مالکان کے نام منتقل نہیں کی گئیں یا اوپن ٹرانسفر لیٹر پر چل رہی ہیں۔
اعلامیے میں شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر محکمہ ایکسائز سے رجوع کر کے اپنی گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ٹرانسفر کا عمل مکمل کریں تاکہ نئے نظام کے تحت فیول پاس حاصل کیا جا سکے۔
مزید پڑھیے: بلوچستان کے بعد خیبرپختونخوا میں بھی انرجی ایمرجنسی نافذ، مارکیٹس اور کمرشل مراکز کے اوقات کار تبدیل
ڈی جی ایکسائز کے مطابق فیول پاس صرف گاڑی کے اصل مالک کے شناختی کارڈ کی بنیاد پر جاری کیا جائے گا۔ اس اقدام سے پیٹرول کی خریداری کو گاڑی کے اصل مالک سے منسلک کیا جائے گا جس سے غیر قانونی استعمال اور سمگلنگ کے امکانات کم ہوں گے۔
انہوں نے بتایا کہ ضلع بھر میں ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے عملے کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ اس حوالے سے آگاہی مہم چلائیں اور شہریوں کو مکمل رہنمائی فراہم کریں تاکہ وہ بروقت اپنی گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ٹرانسفر مکمل کر سکیں۔
فیول پاس کیسے حاصل کیا جا سکے گا؟
محکمہ ایکسائز کے مطابق شہریوں کو سب سے پہلے اپنی گاڑی یا موٹر سائیکل کو اپنے نام منتقل کرانا ہوگا۔
اس کے بعد اصل مالک کے شناختی کارڈ اور گاڑی کی رجسٹریشن دستاویزات کی بنیاد پر محکمہ ایکسائز سے فیول پاس جاری کیا جائے گا جس کے ذریعے پیٹرول حاصل کیا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں: مارکیٹیں رات 8 بجے بند، بلوچستان میں حکومتی کفایت شعاری فیصلوں پر عملدرآمد شروع
ڈی جی ایکسائز نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ قانون کی پاسداری کرتے ہوئے اپنی گاڑیوں کو فوری طور پر اپنے نام منتقل کروائیں اور محکمہ کے ساتھ تعاون کریں بصورت دیگر خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔











