اسلام آباد ہائیکورٹ نے دارالحکومت میں درختوں کی کٹائی کے خلاف اہم حکم جاری کرتے ہوئے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو اتاترک ایونیو پر درخت کاٹنے سے روک دیا ہے۔
ہائیکورٹ نے بدھ کے روز سی ڈی اے کو ایکسپریس چوک سے آغا خان روڈ تک اتاترک ایونیو پر درختوں کی کٹائی سے روکتے ہوئے متعلقہ فریقین سے جواب طلب کرلیا۔
مذکورہ عدالتی حکم جسٹس خادم حسین سومرو نے عائشہ مظفر کی درخواست پر سماعت کے دوران جاری کیا، جس میں سڑک کی توسیع کے منصوبے کے لیے جاری درختوں کی کٹائی کو چیلنج کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں واٹر ہارویسٹنگ سسٹم لازمی قرار، 6 ماہ کی مہلت
درخواست گزار کے وکیل مدثر لطیف عباسی نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ سی ڈی اے 15 جنوری 2026 کے عدالتی حکم کی کھلی خلاف ورزی کر رہی ہے، جس میں وفاقی دارالحکومت میں درختوں کی کٹائی سے روک دیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ٹریفک مسائل کے حل کے لیے درخت کاٹنا اور سڑکیں چوڑی کرنا ایک “غیر پائیدار حکمت عملی” ہے۔
وکیل کے مطابق، گرین کور ختم کر کے سڑکیں کھولنا ٹریفک کا حل نہیں، اس منصوبے کے تحت 55 سے زائد بڑے اور درجنوں چھوٹے درختوں کو کاٹنے کا ارادہ تھا۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی کی منظوری کس نے دی؟ سی ڈی اے عدالت کو بتادیا
انہوں نے حکومتی پالیسی میں تضاد کی بھی نشاندہی کی کہ ایک طرف ماحولیاتی تحفظ کے نام پر پیٹرول پر لیوی عائد کی جا رہی ہے جبکہ دوسری جانب ایسے منصوبوں پر اربوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں جو ماحول کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
دلائل سننے کے بعد عدالت نے مذکورہ سڑک پر کسی بھی قسم کی درختوں کی کٹائی سے سی ڈی اے کو روک دیا اور تمام فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ منگل تک جواب جمع کرانے کی ہدایت کی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ مقدمہ اسلام آباد میں بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی کے خلاف دائر ایک پرانی درخواست سے جڑا ہے، جس میں شکرپڑیاں سمیت مختلف علاقوں میں ہزاروں درختوں کی کٹائی کو چیلنج کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: پیپر ملبری کی کٹائی یا ماحول کا تحفظ؟ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں بحث گرم
درخواست کے مطابق حالیہ برسوں میں خاص طور پر پیپر ملبری کے درختوں کی بڑے پیمانے پر کٹائی سے ماحولیاتی آلودگی، حیاتیاتی تنوع میں کمی اور فضائی معیار کی خرابی جیسے مسائل پیدا ہوئے۔
درخواست میں بتایا گیا کہ 2025 کے دوران شہر بھر میں تقریباً 29 ہزار پیپر ملبری کے درخت کاٹے گئے، جن میں سے تقریباً 8,700 درخت شکرپڑیاں میں تھے، جنہیں مبینہ طور پر پولن الرجی کے مسئلے کے حل کے لیے ہٹایا گیا۔













