اسلام آباد میں واٹر ہارویسٹنگ سسٹم لازمی قرار، 6 ماہ کی مہلت

جمعرات 19 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے شہر کے تمام رہائشیوں کے لیے نیا حکم جاری کرتے ہوئے ہدایت دی ہے کہ وہ 6 ماہ کے اندر اپنی رہائشی اور کمرشل عمارتوں میں واٹر ہارویسٹنگ سسٹم نصب کریں، بصورت دیگر سخت کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:سی ڈی اے اور نیشنل پریس کلب کے زیراہتمام شجر کاری مہم، ماحول دوست درخت لگائے گئے

سی ڈی اے حکام کے مطابق اس نظام کے ذریعے عمارتوں اور چھتوں سے بارش کا پانی جمع کر کے زمین میں واپس پہنچایا جائے گا تاکہ پانی کے ذخائر کو محفوظ بنایا جا سکے۔ نئی پالیسی کے تحت یہ سسٹم نئی تعمیر ہونے والی عمارتوں کے نقشوں میں شامل کرنا بھی لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔

یہ ہدایت صرف گھروں اور کمرشل عمارتوں تک محدود نہیں بلکہ فارم ہاؤسز، سرکاری عمارتوں، کھیل کے میدانوں اور دیہی علاقوں پر بھی لاگو ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی کی منظوری کس نے دی؟ سی ڈی اے عدالت کو بتادیا

حکام کا کہنا ہے کہ 6 ماہ کی مہلت ختم ہونے کے بعد سی ڈی اے کی ٹیمیں گھر گھر جا کر معائنہ کریں گی۔ ہدایات پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف بھاری جرمانے سمیت سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

روسی ’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف برطانوی کارروائی، بھارتی کپتان کو 10 سال قید کا سامنا

جو روٹ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ کیچز پکڑنے والے فیلڈر بن گئے

نوجوانوں کی مزاحمت نے مودی کو ’جن زی‘ بننے پر مجبور کردیا، سوشل میڈیا مہم مذاق بن گئی،برطانوی میڈیاکی رپورٹ

ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے عالمی نظامِ صحت میں انقلابی تبدیلی کی پیش گوئی کردی

الاسکا میں امریکی فضائیہ کے ریڈار مرکز کے قریب طیارہ تباہ، 8 افراد ہلاک

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘