کیا سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کو گورنر پنجاب بنایا جارہا ہے؟

جمعرات 9 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سوشل میڈیا پر حالیہ دنوں میں یہ افواہیں گردش کررہی تھیں کہ سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی جلد پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر کے گورنر پنجاب کے عہدے پر فائز ہو سکتے ہیں، تاہم یہ دعوے حقیقت سے کوسوں دور نکلے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے ان خبروں کی واضح اور دوٹوک انداز میں تردید کی گئی ہے، جبکہ چوہدری پرویز الٰہی کے قریبی خاندانی ذرائع نے بھی اس امر کی تصدیق کی ہے کہ وہ بدستور پاکستان تحریک انصاف سے وابستہ ہیں اور اپنی جماعت کے ساتھ مکمل وفاداری کے ساتھ قائم ہیں۔

مزید پڑھیں: محمود اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی تقرری، پرویز الٰہی بھی بول پڑے

پاکستان پیپلز پارٹی مرکزی پنجاب کے جنرل سیکریٹری حسن مرتضٰی نے ان افواہوں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہاکہ پارٹی اپنے موجودہ گورنر سردار سلیم حیدر کی جگہ کسی اور کو لانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔

انہوں نے کہاکہ ایسی افواہیں پھیلا کر سیاسی انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو ناکام ہوگی۔

پرویز الٰہی کے قریبی خاندانی ذرائع نے بھی بتایا کہ یہ خبریں جھوٹی اور پروپیگنڈا ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ چوہدری پرویز الٰہی اور ان کے بیٹے مونس الٰہی نے مشکل حالات میں بھی پی ٹی آئی کا ساتھ نہیں چھوڑا، اب کیوں چھوڑیں گے۔

خاندانی ذرائع کے مطابق مخالفین جان بوجھ کر ایسی افواہیں پھیلا رہے ہیں تاکہ پارٹی کے اندر انتشار پیدا ہو سکے، لیکن یہ کوششیں ناکام رہیں گی۔

2022 میں چوہدری پرویز الٰہی پی ٹی آئی کی حمایت سے دوبارہ وزیر اعلیٰ پنجاب بنے

چوہدری پرویز الٰہی 2022 میں پی ٹی آئی کی حمایت سے پنجاب کے دوبارہ وزیراعلیٰ بنے تھے۔ 2023 میں عمران خان نے انہیں پی ٹی آئی کا مرکزی صدر مقرر کیا، جس کے بعد انہوں نے اپنی جماعت مسلم لیگ ق کے 10 ارکان اسمبلی سمیت پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔

اس دوران ان پر پنجاب اسمبلی میں غیر قانونی بھرتیوں، ترقیاتی منصوبوں میں کرپشن، منی لانڈرنگ اور 9 مئی کے واقعات سے متعلق متعدد مقدمات درج کیے گئے اور انہیں لاہور ان کے گھر کے باہر سے گرفتار بھی کیا گیا تھا۔

پرویز الٰہی قریباً ایک سال جیل میں رہے، جہاں ایک کیس میں ضمانت ملنے پر دوسرے کیس میں گرفتار کر لیا جاتا تھا۔ تاہم بالآخر تمام مقدمات میں ضمانت ملنے کے بعد وہ رہا ہوئے۔

رہائی کے بعد چوہدری پرویز الٰہی نے سیاسی طور پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور پارٹی کے کسی بڑے معاملے میں فعال طور پر شریک نہیں ہوئے۔ ان کے خاندان کے کاروباری مفادات پر بھی 2023 کے بعد دباؤ بڑھایا گیا، مگر وہ پی ٹی آئی کا حصہ بنے رہے۔

پی پی پی کے ساتھ پرانا تعلق اور حالیہ پیشکش کی تردید

2012 میں ق لیگ کے ساتھ پیپلز پارٹی کے اتحاد کے دوران پرویز الٰہی کو ڈپٹی وزیراعظم کا عہدہ دیا گیا تھا۔ حالیہ افواہوں میں یہ بھی کہا جا رہا تھا کہ پی پی پی کی اعلیٰ قیادت نے انہیں متعدد بار شمولیت کی دعوت دی اور اس بار گورنر پنجاب کا عہدہ بھی آفر کیا گیا۔

قریبی ذرائع کے مطابق پرویز الٰہی کو ایسی کوئی پیش کش نہیں کی گئی، اگر کی بھی جاتی تو وہ اس آفر کو قبول نہ کرتے۔

انہوں نے بتایا کہ چوہدری پرویز الٰہی کا مؤقف ہے، کہ چپ کاروزہ عصر کے وقت کیوں توڑوں؟۔

مزید پڑھیں: مسلم لیگ ن کو ووٹروں کے بغیر الیکشن لڑنے کی عادت پڑ گئی، چودھری پرویز الٰہی

انہوں نے واضح کیاکہ وہ گورنر پنجاب بننے کا نہ تو کوئی اردہ رکھتے ہیں اور نہ ہی ان کی کوئی ایسی خواہش ہے نہیں، وہ پی ٹی آئی کا حصہ ہیں اور پی ٹی آئی میں ہی رہیں گے۔

یہ افواہیں صرف پروپیگنڈے کا حصہ ہیں۔ پرویز الٰہی فی الحال پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ وابستہ ہیں اور عدالتوں میں مختلف مقدمات کا سامنا کررہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وزن نارمل ہونے کے باوجود دل کو خطرہ، کمر کا گھیر اہم علامت قرار

’ہمیں مدد کی ضرورت نہیں‘ سے ’غیرملکی مدد قبول‘، نیپال کا سیلاب پر مؤقف بدل گیا

چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا پاکستان آرڈیننس فیکٹری کا دورہ، دفاعی پیداوار اور خود انحصاری پر بریفنگ

بھارت سندھ طاس معاہدے سے یکطرفہ طور پر نہیں نکل سکتا، پاکستانی سفیر کا بھارتی سفیر کو کرارا جواب

افغانستان میں بھوک، خشک سالی اور بے گھری سے ذہنی صحت کو سنگین خطرات، اقوام متحدہ

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں