7 اپریل کو جب دنیا تباہی کے دہانے پر تھی، پاکستان کی بروقت مداخلت کے سبب امریکا نے ایران کے ساتھ 2 ہفتے کی جنگ بندی پر اتفاق کیا تو عالمی مارکیٹ میں 2.9 فیصد اِضافہ دیکھنے میں آیا جس کا مطلب 3 ہزار ارب ڈالر سے زیادہ کا اضافہ ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کی کوششوں نے نہ صرف عالمی امن بلکہ عالمی معیشت کو بھی بچایا جس کا اعتراف عالمی ماہرینِ معیشت بھی کررہے ہیں۔
کل سے پاکستان میں مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہونے جا رہا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا پاکستان کی اِس کامیابی کو جہاں تیسری عالمی جنگ سے بچانے کی سعی کے طور پر مان رہا ہے تو کہیں کہیں اِسے پاکستان کا سفارتی کو بھی کہا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران امریکا مذاکرات: پاکستان ماضی میں کب کب عالمی سفارتکاری کا مرکز بنا؟
جنگ بندی کے اعلان کے ساتھ ہی خام تیل کی قیمتوں میں 3 سے 5 فیصد کمی واقعی ہوئی جس کا بنیادی سبب جیو پولیٹیکل رِسک پریمیئم کی قیمت ختم ہونا تھا۔ لیکن سب سے بڑا فیکٹر جو دیکھنے میں آیا وہ امریکی اسٹاک مارکیٹ ایس اینڈ پی 500 انڈیکس میں تھا جس میں اور دنیا بھر کی مارکیٹس میں 2.9 فیصد اضافہ ہوا، جس کا مطلب 3 ہزار 600 ارب ڈالر سے زیادہ اضافہ تھا جس کے بعد پاکستان کی کوششوں کو عالمی سطح پر خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے نہ صرف ایک ممکنہ تباہ کن تصادم کو ٹالا بلکہ عالمی معیشت کو بھی بڑے نقصان سے بچایا۔ اُن کی بروقت اور مؤثر سفارتکاری نے یہ ثابت کیا کہ پاکستان صرف ایک علاقائی طاقت نہیں بلکہ عالمی امن کا ایک ذمہ دار شراکت دار ہے۔
جنگ بندی کی خبر نے فوری طور پر اعتماد بحال کیا، جس کا واضح اظہار ایس اینڈ پی 500 سمیت عالمی منڈیوں میں تیزی کی صورت میں سامنے آیا۔ یہ اضافہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ امن کس طرح معیشت کو سہارا دیتا ہے۔
پاکستان کا کردار یہاں صرف ایک ثالث کا نہیں بلکہ ایک اسٹیبلائزر یعنی استحکام فراہم کرنے والی قوت کا بھی تھا، ایک ایسا ملک جو کشیدگی کو کم کرکے عالمی نظام کو متوازن رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
اس پیشرفت کا سب سے مثبت پہلو یہ ہے کہ پاکستان کے لیے ایک نیا بیانیہ ابھر رہا ہے، ایک ایسا ملک جو امن کی طاقت سے تنازعات کو ہوا دینے کے بجائے انہیں ختم کرنے میں کردار ادا کرتا ہے۔
چیف ایکویٹی اسٹریٹجسٹ، این ایل آئی ریسرچ انسٹیٹیوٹ، ٹوکیو نے بین الاقوامی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہاکہ اس بار معاملہ صرف امریکا کی طرف سے یا ٹرمپ کی جانب سے یکطرفہ اعلان نہیں تھا۔ یہ حقیقت کہ پاکستان ثالث کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے، اسے ایک خاص حد تک ساکھ فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ میرا خیال ہے کہ اس بات کی بڑھتی ہوئی امید موجود ہے کہ اگر یہ صورتحال ان دو ہفتوں کے بعد بھی اسی طرح جاری رہی تو یہ مؤثر طور پر ایک حقیقی جنگ بندی میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کا ثالثی کردار: عالمی وقار میں اضافہ اور معاشی خوشحالی کی نئی نوید
جنوبی افریقہ میں سیٹاڈل کے چیف اکانومسٹ مارٹن ایکرمین کہتے ہیں کہ جنگ بندی اعلان کے بعد مارکیٹ کا ری ایکشن یہ بتاتا ہے کہ کامیاب امن مذاکرات اور پائیدار امن کس مثبت طریقے سے عالمی مارکیٹ، عالمی پیداوار اور مہنگائی کی رفتار پر اثرانداز ہوتا ہےـ











