امریکا اور ایران کے مابین حالیہ کشیدگی میں پاکستان کا مصالحتی کردار نہ صرف علاقائی امن کے لیے ناگزیر ثابت ہو رہا ہے، بلکہ یہ ملک کے لیے ایک عظیم تزویراتی اور معاشی موقع بن کر ابھرا ہے۔
پاکستان کی سافٹ پاور اور غیر جانبدارانہ پالیسی نے اسے جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان ایک مستحکم ’معاشی پل‘ کی حیثیت دے دی ہے، جس سے تمام قومی شعبوں میں بہتری کی قوی امید پیدا ہو گئی ہے۔
مزید پڑھیں: پاک فرانس وزرائے خارجہ رابطہ، لبنان جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر تشویش
عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد اور توانائی کا حصول
معاشی ماہر شہریار بٹ کے مطابق، اس مثبت سفارتی کردار کے نتیجے میں امریکا اور مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات میں خوشگوار تبدیلی آئی ہے۔ اس پیش رفت سے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے اداروں سے آسان شرائط پر مالی معاونت ملنے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔
انکا ماننا ہے کہ اگر یہ کوششیں کامیاب ہوئیں تو عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں مستحکم ہوں گی، جس سے پاکستان کا درآمدی بل کم اور مہنگائی میں واضح کمی آئے گی۔ ایران پر پابندیوں میں ممکنہ نرمی پاک ایران گیس پائپ لائن کی تکمیل کا راستہ کھول دے گی، جو ملک کے توانائی بحران کا سب سے سستا حل ہے۔
سرمایہ کاری میں 30 فیصد اضافے کا امکان
معاشی تجزیہ کار جنید خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت اور بڑھتے ہوئے سفارتی اثر و رسوخ کو اگر سیاسی استحکام کا ساتھ مل جائے، تو 2026 کے اختتام تک ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی شرح میں 25 سے 30 فیصد تک اضافے کا روشن امکان ہے۔
افرادی قوت اور تعمیراتی شعبے کی بحالی
اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز ایسوسی ایشن کے سابق نائب صدر محمد عدنان پراچہ نے پاکستان کے نیوٹرل کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے خطے میں ہماری ساکھ بلند ہوئی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جنگی بادل چھٹنے کے بعد خلیجی ممالک میں پاکستانی افرادی قوت کی طلب دوبارہ بڑھے گی، جو حالیہ تناؤ کی وجہ سے متاثر ہوئی تھی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر حکومت تعمیراتی شعبے میں پرکشش مراعات دے تو بیرونِ ملک مقیم پاکستانی اپنا سرمایہ ملک واپس لا سکتے ہیں۔
سونے کی قیمتوں میں استحکام اور برآمدات کا فروغ
آل پاکستان جیولرز مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے صدر محمد ارشد کے مطابق، اس ثالثی نے پاکستان کے لیے عالمی معاشی دروازے کھول دیے ہیں۔ جنگ کا ماحول ختم ہونے سے سونے کی قیمتیں مستحکم ہوں گی اور پاکستانی جیولری کی ایکسپورٹ میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے مائن اینڈ منرلز (معدنیات) کی صنعت میں بھی بھاری سرمایہ کاری کی پیش گوئی کی ہے۔
مزید پڑھیں: جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے، پاکستانی مندوب کی وضاحت
لائیو اسٹاک، زراعت اور SIFC کا کلیدی کردار
پاکستان ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن کے صدر شاکر عمر گجر نے لائیو اسٹاک کو پاکستان کا چھپا ہوا خزانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کو گوشت کی برآمدات کے لیے نئے معاہدے متوقع ہیں۔
انہوں نے SIFC (اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل) کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ زرعی شعبے میں عالمی سرمایہ کاری لانے کے لیے بہترین کام کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دنیا کی فوڈ سیکیورٹی کا ضامن بن کر ایک معاشی قوت کے طور پر ابھر سکتا ہے، بشرطیکہ ہم اس سرمایہ کاری کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔













