پاکستان کا ثالثی کردار: عالمی وقار میں اضافہ اور معاشی خوشحالی کی نئی نوید

جمعہ 10 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا اور ایران کے مابین حالیہ کشیدگی میں پاکستان کا مصالحتی کردار نہ صرف علاقائی امن کے لیے ناگزیر ثابت ہو رہا ہے، بلکہ یہ ملک کے لیے ایک عظیم تزویراتی اور معاشی موقع بن کر ابھرا ہے۔

پاکستان کی سافٹ پاور اور غیر جانبدارانہ پالیسی نے اسے جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان ایک مستحکم ’معاشی پل‘ کی حیثیت دے دی ہے، جس سے تمام قومی شعبوں میں بہتری کی قوی امید پیدا ہو گئی ہے۔

مزید پڑھیں: پاک فرانس وزرائے خارجہ رابطہ، لبنان جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر تشویش

عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد اور توانائی کا حصول

معاشی ماہر شہریار بٹ کے مطابق، اس مثبت سفارتی کردار کے نتیجے میں امریکا اور مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات میں خوشگوار تبدیلی آئی ہے۔ اس پیش رفت سے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے اداروں سے آسان شرائط پر مالی معاونت ملنے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔

انکا ماننا ہے کہ اگر یہ کوششیں کامیاب ہوئیں تو عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں مستحکم ہوں گی، جس سے پاکستان کا درآمدی بل کم اور مہنگائی میں واضح کمی آئے گی۔ ایران پر پابندیوں میں ممکنہ نرمی پاک ایران گیس پائپ لائن کی تکمیل کا راستہ کھول دے گی، جو ملک کے توانائی بحران کا سب سے سستا حل ہے۔

سرمایہ کاری میں 30 فیصد اضافے کا امکان

معاشی تجزیہ کار جنید خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت اور بڑھتے ہوئے سفارتی اثر و رسوخ کو اگر سیاسی استحکام کا ساتھ مل جائے، تو 2026 کے اختتام تک ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی شرح میں 25 سے 30 فیصد تک اضافے کا روشن امکان ہے۔

افرادی قوت اور تعمیراتی شعبے کی بحالی

اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز ایسوسی ایشن کے سابق نائب صدر محمد عدنان پراچہ نے پاکستان کے نیوٹرل کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے خطے میں ہماری ساکھ بلند ہوئی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جنگی بادل چھٹنے کے بعد خلیجی ممالک میں پاکستانی افرادی قوت کی طلب دوبارہ بڑھے گی، جو حالیہ تناؤ کی وجہ سے متاثر ہوئی تھی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر حکومت تعمیراتی شعبے میں پرکشش مراعات دے تو بیرونِ ملک مقیم پاکستانی اپنا سرمایہ ملک واپس لا سکتے ہیں۔

سونے کی قیمتوں میں استحکام اور برآمدات کا فروغ

آل پاکستان جیولرز مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے صدر محمد ارشد کے مطابق، اس ثالثی نے پاکستان کے لیے عالمی معاشی دروازے کھول دیے ہیں۔ جنگ کا ماحول ختم ہونے سے سونے کی قیمتیں مستحکم ہوں گی اور پاکستانی جیولری کی ایکسپورٹ میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے مائن اینڈ منرلز (معدنیات) کی صنعت میں بھی بھاری سرمایہ کاری کی پیش گوئی کی ہے۔

مزید پڑھیں:  جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے، پاکستانی مندوب کی وضاحت

لائیو اسٹاک، زراعت اور SIFC کا کلیدی کردار

پاکستان ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن کے صدر شاکر عمر گجر نے لائیو اسٹاک کو پاکستان کا چھپا ہوا خزانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کو گوشت کی برآمدات کے لیے نئے معاہدے متوقع ہیں۔

انہوں نے SIFC (اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل) کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ زرعی شعبے میں عالمی سرمایہ کاری لانے کے لیے بہترین کام کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دنیا کی فوڈ سیکیورٹی کا ضامن بن کر ایک معاشی قوت کے طور پر ابھر سکتا ہے، بشرطیکہ ہم اس سرمایہ کاری کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

تونسہ میں ایچ آئی وی بحران، غیر تربیت یافتہ افراد سے انجیکشن لگوانے کا انکشاف

بحیرہ انڈمان میں کشتی ڈوبنے کا ہولناک واقعہ، 250 سے زائد افراد لاپتا ہونے کا خدشہ

امریکی سفارتکار زکری ہارکن رائیڈر کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات

خیبرپختونخوا: سرکاری ملازمین کی حکومتی اجازت کے بغیر غیرملکیوں سے شادی پر پابندی، نئے رولز جاری

ورلڈ کوانٹم ڈے: نئی ٹیکنالوجی کے چیلنج پر ادارے تیار، ڈیٹا کو لاحق خطرات میں اضافہ

ویڈیو

پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے لیے مزید کیا سکتا ہے؟

پاکستان میں بھارتی مواد چلانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، عوام کی رائے

پچھلے 13 سالوں میں پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا میں کرپشن کے سوا کچھ نہیں کیا، آفتاب شیرپاؤ

کالم / تجزیہ

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا

سمندری ناکہ بندی اور فیصلہ کن گھڑی میں پاکستان کا ثابت قدم کردار