ایران، اسرائیل جنگ کے اثرات کم کرنے کی کوشش، جنوبی کوریا کا شہریوں کو بڑا ریلیف

جمعہ 10 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران ، اسرائیل جنگ کے بعد حالات کے پیشِ نظر جنوبی کوریا نے اپنی معیشت اور عوام کو مہنگائی کے طوفان سے بچانے کے لیے 17.3 ارب ڈالر (26.2 کھرب وون) کے بھاری بھرکم اضافی بجٹ کی تجویز پیش کردی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جنگِ ایران کے باعث خام تیل کی قیمتیں 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں

ایشیا کی چوتھی بڑی معیشت ہونے کے ناطے جنوبی کوریا اپنی تیل کی ضروریات کا تقریباً 70 فیصد حصہ مشرقِ وسطیٰ سے درآمد کرتا ہے، جس کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے نے ملک میں مہنگائی کے شدید خطرات پیدا کردیے ہیں۔

جنوبی کوریا کی وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق اس ہنگامی بجٹ کا بڑا حصہ یعنی 10.1 کھرب وون خاص طور پر تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات کو زائل کرنے کے لیے مختص کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ حکومت نے عوامی سطح پر ریلیف فراہم کرنے کے لیے 4.8 کھرب وون مختص کیے ہیں جس کے تحت شہریوں کو ان کی آمدنی اور رہائشی علاقے کے لحاظ سے 65 ڈالر سے لے کر 400 ڈالر تک کے مالیاتی واؤچرز دیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کا شام حکومت کو ساڑھے 16 لاکھ بیرل خام تیل فراہم کرنے کا اعلان

تاہم واضح کیا گیا ہے کہ ملک کے سب سے زیادہ آمدنی والے 30 فیصد افراد اس امدادی سہولت کا حصہ نہیں ہوں گے تاکہ وسائل کا رخ صرف ضرورت مند طبقے کی طرف رہے۔

کاروباری شعبے کے تحفظ کے لیے بھی اس بجٹ میں خطیر رقم رکھی گئی ہے جس میں سے 2.6 کھرب وون مشرقِ وسطیٰ کے تنازع سے براہِ راست متاثر ہونے والی کمپنیوں کو دیے جائیں گے جبکہ 5 کھرب وون آئل ریفائنریز کو ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے خرچ ہوں گے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ نوجوانوں اور کم آمدنی والے افراد کی مدد کے لیے بھی 2.8 کھرب وون علیحدہ سے رکھے گئے ہیں تاکہ جنگی حالات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشی دباؤ کو کم سے کم کیا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں: جی 7 ممالک کا اہم فیصلہ، خام تیل کی قیمت میں نمایاں کمی

جنوبی کوریا کی جانب سے یہ اقدامات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں عدم استحکام کی وجہ سے عالمی سپلائی چین اور توانائی کی قیمتیں شدید دباؤ کا شکار ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp