صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران جنگ بندی کے حوالے سے قوم سے خطاب کیوں نہیں کیا؟ تفصیلات سامنے آگئیں

ہفتہ 11 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا میں وائٹ ہاؤس نے ایران کے ساتھ حالیہ جنگ بندی کے اعلان پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ممکنہ ٹیلی ویژن خطاب کا منصوبہ زیر غور لانے کے بعد اسے ترک کر دیا۔ امریکی حکام کے مطابق اس فیصلے کی بنیادی وجہ جنگ بندی معاہدے کی نازک اور غیر واضح صورتحال تھی۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر کے قریبی مشیروں کو خدشہ تھا کہ اس مرحلے پر قوم سے خطاب کرنے سے جنگ بندی کو ضرورت سے زیادہ کامیاب ظاہر کیا جا سکتا ہے، جبکہ حقیقت میں اس کے کئی اہم پہلو ابھی تک طے نہیں پائے۔ صدر ٹرمپ خطاب کرنے کے خواہاں تھے، تاہم سینیئر مشیروں نے انہیں قائل کیا کہ مکمل وضاحت کے بغیر خطاب کرنا قبل از وقت ہوگا۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے اس تاثر کی تردید کی کہ یہ معاملہ صدر کی سطح تک پہنچا۔

یہ بھی پڑھیے: ایران نے جنگ بندی کی درخواست کردی، فیصلہ آبنائے ہرمز کھولے جانے پر کریں گے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

صدر ٹرمپ نے جنگ بندی کا اعلان اچانک سوشل میڈیا کے ذریعے کیا، جو ایک غیر متوقع پیش رفت تھی، کیونکہ اس سے قبل انہوں نے ایران کے خلاف سخت کارروائی کی دھمکیاں دی تھیں۔ اس اچانک پالیسی تبدیلی کو امریکی خارجہ حکمت عملی میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔

ادھر ایران نے آبنائے ہرمز کی بندش برقرار رکھی ہوئی ہے، جس کے باعث عالمی توانائی کی سپلائی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف عالمی منڈیوں بلکہ آئندہ مذاکرات پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: امریکا اور ایران کے اسلام آباد میں امن مذاکرات عالم اسلام کے لیے فخر کا باعث ہے، وزیراعظم شہباز شریف

دوسری جانب اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات کا آغاز آج سے ہورہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی کمی بدستور موجود ہے، جس کے باعث پائیدار امن کا حصول ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp