گزشتہ ایک دہائی سے یہ بات عام ہے کہ موبائل فون، ٹی وی اور کمپیوٹر کی نیلی روشنی ہماری نیند کو خراب کرتی ہے لیکن حالیہ تحقیق اس تصور سے اتفاق نہیں کرتی اور نیند میں خلل کی کچھ اور وجوہات بتاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب اسمبلی میں سرکاری و نجی اسکولز میں موبائل فون پر پابندی کی قرارداد منظور
ایک تجربے کے دوران رپورٹر نے نیند بہتر بنانے کے لیے انتہائی اقدامات کیے جن میں نیلی روشنی روکنے والے چشمے پہننا، کمرے کو مکمل اندھیرے میں رکھنا اور صرف موم بتی کی روشنی استعمال کرنا شامل تھا۔ تاہم نتائج سے یہ واضح نہیں ہوا کہ صرف نیلی روشنی ہی نیند میں بڑی رکاوٹ ہے۔
ماہرین کیا کہتے ہیں؟
اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے ماہرِ نفسیات جیمی زائٹزر کے مطابق عام حالات میں موبائل فون یا اسکرین سے نکلنے والی روشنی اتنی کم ہوتی ہے کہ یہ نیند پر بڑا اثر نہیں ڈالتی۔
تحقیق کے مطابق نیند میں تاخیر زیادہ سے زیادہ چند منٹ (تقریباً 9 منٹ) ہو سکتی ہے اور سورج کی روشنی کے مقابلے میں موبائل اسکرین کی روشنی انتہائی کم ہوتی ہے۔
نیند میں خلل کی اصل وجہ
اصل مسئلہ صرف روشنی نہیں بلکہ ہمارا اسکرین کا استعمال اور رات کا طرزِ زندگی ہے۔
مزید پڑھیے: ٹوائلٹ میں اسمارٹ فون کا استعمال صحت کے لیے خطرہ قرار، نئی تحقیق میں انکشاف
ماہرین کے مطابق نیند خراب ہونے کی بڑی وجوہات یہ ہو سکتی ہیں کہ رات دیر تک موبائل استعمال کرنا، ذہنی طور پر متحرک رہنے والا مواد دیکھنا، دن بھر کم قدرتی روشنی لینا اور غیر متوازن روزمرہ روٹین نیند میں خلل کی وجوہات میں شامل ہیں۔
ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ نیند کے لیے سب سے اہم چیز دن میں زیادہ روشنی اور رات میں کم روشنی ہے۔
مزید پڑھیں: بچے اسکرینز پر بڑھ رہے ہیں، ای پی آئی اسٹڈی میں تشویشناک اعداد و شمار
تحقیق سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ صرف موبائل کی نیلی روشنی کو نیند خراب ہونے کا مرکزی سبب قرار دینا درست نہیں۔ اصل مسئلہ ہماری مجموعی لائف اسٹائل اور اسکرین کے ساتھ رویہ ہے۔














