امریکا کے شہر نیو یارک کے میئر ظہران ممدانی نے اپنے پہلے 100 دنوں کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حکومت کا آغاز شہری سہولیات کی بہتری اور مہنگائی میں کمی کے وعدوں پر پیش رفت کے ساتھ ہوا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ظہران ممدانی، جو نیو یارک کے پہلے مسلم میئر ہیں، نے کہا کہ ان کی ترجیحات میں بچوں کی دیکھ بھال، رہائشی مسائل اور روزمرہ شہری سہولیات کی بہتری شامل ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی انتظامیہ نے ابتدائی مرحلے میں ہزاروں ڈے کیئر نشستیں بڑھانے کا منصوبہ شروع کیا ہے تاکہ کم آمدنی والے خاندانوں کو ریلیف دیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیے: ظہران ممدانی کی نیو یارک میں اسٹیٹ ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز
رپورٹ کے مطابق ممدانی کے دور میں شہری انفراسٹرکچر پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے اور شہر بھر میں ایک لاکھ سے زائد گڑھے (پاتھولز) بھرے جا چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چھوٹے مسائل حل کرنا شہری حکومت پر عوام کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے ضروری ہے۔
تاہم انہیں شدید تنقید کا بھی سامنا ہے، خاص طور پر ٹیکس پالیسیوں اور مہنگائی کم کرنے کے طریقہ کار پر اختلافات سامنے آئے ہیں۔ کچھ ناقدین کا کہنا ہے کہ امیروں پر زیادہ ٹیکس لگانے سے کاروبار اور سرمایہ شہر سے باہر جا سکتے ہیں۔
ممدانی نے کہا کہ نیو یارک جیسے مہنگے شہر میں رہائش اور بچوں کی دیکھ بھال کے اخراجات عام شہریوں کو سب سے زیادہ متاثر کر رہے ہیں، اس لیے حکومت کو ہر ممکن اقدام کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے: نیویارک میئر کے لیے امیدوار ظہران ممدانی اور امریکی صدر ٹرمپ آمنے سامنے
ان کے مطابق شہری حکومت کی کامیابی صرف بڑے منصوبوں سے نہیں بلکہ روزمرہ مسائل کے حل سے بھی جڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت گڑھوں جیسے بنیادی مسائل حل نہیں کر سکتی تو عوام بڑے وعدوں پر کیسے اعتماد کریں گے۔
میئر کے پہلے 100 دنوں کو جہاں کچھ حلقے اصلاحات کا آغاز قرار دے رہے ہیں، وہیں سیاسی اختلافات اور معاشی پالیسیوں پر بحث بھی تیز ہو گئی ہے۔













