اسلام آباد مذاکرات کی کامیابی کے نمایاں پہلو

اتوار 12 اپریل 2026
author image

خرم شہزاد

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پوری دنیا کا میڈیا اس وقت جے ڈی وینس کے ایک جملے کی بنیاد پر اسلام آباد مذاکرات کو ناکام قرار دینے پر تلا ہوا ہے۔

یہ جملہ ہے کہ ہم معاہدہ کیے بغیر واپس جا رہے ہیں اور یہ امریکا سے زیادہ ایران کے لیے بری خبر ہے۔

لیکن جو جملے وینس، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی اور پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے بیانات سے پورا میڈیا اور تبصرہ نگار نظر انداز کر رہے ہیں وہ یہ نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ تمام فریق مذاکرات کی کم از کم ایک اور نشست کے لیے تیار ہو رہے ہیں۔

اس اگلی نشست کی تیاری کو جے ڈی وینس نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ ’ہم یہاں سے ایک انتہائی سادہ تجویز، افہام و تفہیم کے ایک طریقہ کار کے ساتھ جا رہے ہیں جو ہماری حتمی اور بہترین پیشکش ہے۔ ہم دیکھیں گے کہ آیا ایرانی اسے قبول کرتے ہیں یا نہیں‘۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا پیچا!

اسماعیل بقائی نے اس بات کو ایسے کہا ہے کہ ’یہ مذاکرات 40 روزہ جنگ کے بعد بے اعتمادی اور شکوک و شبہات کے ماحول میں ہوئے۔ فطری طور پر یہ توقع نہیں رکھی جا سکتی تھی کہ محض ایک ملاقات میں کوئی معاہدہ طے پا جائے۔ کسی نے ایسی توقع نہیں کی تھی‘۔

’سفارت کاری کبھی ختم نہیں ہوتی، یہ قومی مفادات کے تحفظ کا ایک ذریعہ ہے۔‘

 مذاکرات میں ایرانی وفد کی سربراہی کرنے والے محمد باقر قالیباف اس کو یوں بیان کرتے ہیں:

’میرے ساتھیوں نے مختلف تجاویز پیش کیں تاہم مخالف فریق مذاکرات کے اس دور میں ایرانی وفد کا اعتماد جیتنے میں ناکام رہا۔ امریکا کو ہمارے اصولوں کے بارے میں اندازہ ہو گیا ہے، اب فیصلہ انہوں نے کرنا ہے کہ وہ ہمارا اعتماد حاصل کر سکتے ہیں کہ نہیں‘۔

اور اسحاق ڈار اس بارے میں یہ کہتے ہیں:

’پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کرتا رہے گا اور امید ہے کہ دونوں فریق جنگ بندی کے لیے اپنا عزم جاری رکھیں گے‘۔

مزید پڑھیے: گل پلازہ کی آگ سے بننے والے دائرے

ان تمام بیانات کا ایک ہی مطلب ہے کہ اسلام آباد مذاکرات کا بنیادی ہدف حاصل کر لیا گیا ہے۔ یہ ہدف تھا کہ 47 سال سے ایک دوسرے کے شدید دشمن امریکا اور ایران کو آمنے سامنے بٹھا کر ان کے بیچ تنازعات حل کروانے کا کوئی راستہ نکالا جائے اور ان دونوں ممالک کے قائدین نے 24 گھنٹوں کے مذاکرات کے دوران اپنے مسائل کے حل کا یہ راستہ نکالا ہے کہ ایک دوسرے پر اعتماد کو بڑھایا جائے اور بات چیت کا دروازہ کھلا رکھا جائے۔

اس بات کی تصدیق جے ڈی وینس نے بھی کی ہے، باقر قالیباف نے بھی اور اسماعیل بقائی نے بھی۔

یہ بات سچ ہے کہ ان مذاکرات کے نتیجے میں کوئی معاہدہ طے نہیں پایا لیکن درحقیقت معاہدہ طے پانا ابھی بہت بعد کی بات ہے۔

ان مذاکرات کی کامیابی ان کا انعقاد ہی ہے۔ کیونکہ اس کا مقصد مستقبل کے مذاکرات اور معاہدے کے لیے راہ ہموار کرنا تھا اور تمام فریقین اس بات پر متفق ہیں کہ وہ مستقبل میں اس طرح کی مزید نشستوں کے لیے رضامند ہیں اسی لیے وہ ایک دوسرے سے اعتماد سازی کے مزید مطالبات کر رہے ہیں اور ایک روڈ میپ کی تجاویز دے رہے ہیں۔

تاہم جہاں توقعات ہیں کہ فریقین جنگ بندی پر قائم رہیں گے اور مستقبل میں اس طرح کے مذاکرات میں حصہ لیں گے وہاں خدشات بھی ہیں کہ صدر ٹرمپ جیسا شخص کوئی بھی ایسا قدم اٹھا سکتا ہے جس سے اعتماد سازی کی یہ فضا دوبارہ شک و شبے میں بدل جائے۔

لیکن جتنے عمدہ طریقے سے ہفتے کا دن گزرا ہے اور جس بہترین انداز سے گفتگو ہوئی ہے اس کو مدنظر رکھتے ہوئے فی الحال ٹرمپ اور نیتن یاہو کے منفی عنصر کو نظر انداز ہی کرنا چاہیے کیونکہ عملی طور پر مذاکرات کی یہ ابتدائی نشست کامیابی پر اختتام پذیر ہوئی ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان ایئر فورس مضبوط ترین فضائی قوت بننے کی راہ پر، 3 سال میں 32 اسٹیلتھ J-35 فائٹر طیارے شامل ہوں گے

اگر آپ نے جے ڈی وینس کے نور خان ایئر بیس اسلام آباد سے واپسی کے مناظر دیکھے ہوں تو آپ کو اندازہ ہوا ہو گا کہ جہاز پر سوار ہونے سے قبل بھی پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی ان کو رخصت کرتے ہوئے اس انداز میں ان سے بات چیت کر رہے تھے جیسے وہ انہیں یہ قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہوں کہ مذاکرات کا عمل جاری رہنا چاہیے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ امن کا یہ عمل ابھی جاری ہے، پاکستان نے اس کا آغاز کر دیا ہے اور اب یہ آگے بڑھے گا۔

البتہ یہ ضرور ہے کہ اسحاق ڈار اور سید عاصم منیر کی سفارت کاری اور مذاکرات کاری کی صلاحیتوں کا اصل امتحان اب شروع ہوا ہے کہ وہ امن کے اس عمل کو منطقی انجام تک کیسے پہنچاتے ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp