روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ ایک ٹیلیفونک گفتگو میں مشرق وسطیٰ کے تنازع کے پرامن حل کے لیے ثالثی کی پیشکش کردی۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد امن مذاکرات:ٹرمپ کا بیشتر نکات پر پیشرفت کا اعلان، ایران اگلی نشستیں و رابطے جاری رکھنے پر تیار
صدر پیوٹن نے خطے میں دیرپا امن کے حصول کے لیے سیاسی اور سفارتی حل تلاش کرنے میں مدد دینے کی آمادگی ظاہر کی۔
روسی حکومت کے بیان میں کہا گیا کہ صدر پیوٹن نے زور دیا کہ وہ اس تنازع کے منصفانہ اور دیرپا حل کے لیے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے اور ثالثی کی کوششوں میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
قبل ازیں پاکستان کی میزبانی میں امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں بھی اچھی پیشرفت سامنے آئی۔ وہ مذاکرات 21 گھنٹے سے زائد جاری رہے اور تمام فریقین نے اشارہ دیا کہ سفارتی رابطے جاری رہیں گے۔
اسلام آباد امن مذاکرات کے دور کے اختتام پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا کہ اسلام آباد میں پاکستان کی ثالثی سے ہونے والے مذاکرات زیادہ تر معاملات پر مثبت رہے تاہم جوہری مسئلے پر کوئی پیشرفت نہیں ہو سکی۔
مزید پڑھیں : اسلام آباد مذاکرات: پاکستان کا کردار قابل تعریف، اعتماد کی بحالی امریکا کی ذمہ داری، محمد باقر قالیباف
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے پاکستان کی سہولت کاری سے ہونے والے مذاکرات کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر محتاط مگر مثبت انداز میں ردعمل دیا تاہم ساتھ ہی امریکا پر بداعتمادی کا اظہار بھی کیا۔














