امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے تازہ سوشل میڈیا بیانات میں اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان منعقد ہونے والے امن مذاکرات کو اہم سفارتی پیشرفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ زیادہ تر نکات پر دونوں فریقین کے درمیان اتفاق رائے سامنے آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد امن مذاکرات:ٹرمپ کا بیشتر نکات پر پیشرفت کا اعلان، ایران اگلی نشستیں و رابطے جاری رکھنے پر تیار
بیانات کے مطابق ٹرمپ نے پاکستان کی قیادت، خصوصاً وزیراعظم شہباز شریف اور اعلیٰ عسکری قائد فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا شکریہ ادا کیا کہ ان کی کوششوں سے مذاکرات کا انعقاد ممکن ہوا۔
انہوں نے کہا کہ مختصر وقت میں بڑی پیش رفت ایک اہم سفارتی کامیابی ہے۔
ٹرمپ کے مطابق اگرچہ بیشتر نکات پر پیش رفت ہوئی تاہم ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ اب بھی سب سے بڑا اور حل طلب مسئلہ ہے جس پر حتمی اتفاق نہیں ہو سکا۔
بیانات میں یہ بھی کہا گیا کہ دونوں وفود کے درمیان بات چیت کے دوران اعتماد اور پیشہ ورانہ تعلقات میں بہتری آئی اور مذاکراتی ماحول مجموعی طور پر مثبت رہا۔
ان کے مطابق یہ اشارہ بھی موجود ہے کہ اگر جنگ بندی برقرار رہتی ہے تو سفارتی عمل آگے بڑھ سکتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے بحری ناکہ بندی کے حوالے سے دیے گئے اشاروں کو بعض تجزیہ کاروں نے دباؤ کی حکمت عملی قرار دیا ہے جس کا مقصد ایران پر مزید سفارتی دباؤ ڈالنا بتایا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کو اسلام آباد میں اہم امن مذاکرات کی میزبانی پر فخر ہے، وفاقی وزیر احسن اقبال
مجموعی طور پر ان بیانات میں یہ تاثر دیا گیا ہے کہ مذاکرات نے فریقین کے درمیان خلا کو کافی حد تک کم کیا ہے اور اگرچہ اختلافات برقرار ہیں، تاہم سفارتی حل کے لیے دروازہ اب بھی کھلا ہے۔












