دنیا کے امیر ترین افراد میں شامل ایمیزون کے بانی جیف بیزوس کے حوالے سے ایک حیران کن رپورٹ سامنے آئی ہے، جس کے مطابق ان کی سالانہ تنخواہ امریکا میں کام کرنے والے ایک عام تعمیراتی مزدور سے بھی کم ہے۔
رپورٹ کے مطابق دنیا کے تیسرے امیر ترین شخص جیف بیزوس کی سالانہ تنخواہ محض 81,400 ڈالر ہے، دلچسپ بات یہ ہے کہ 1990 کی دہائی کے آخر سے اب تک ان کی تنخواہ میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا کے تیسرے امیر ترین شخص کی دوسری شادی پر کتنے ڈالرز خرچ ہوں گے؟
ایمازون کےجیف بیزوس، جن کے مجموعی اثاثوں کی مالیت تقریباً 225 سے 259 ارب ڈالر کے درمیان بتائی جاتی ہے، اپنی دولت کا بڑا حصہ تنخواہ سے نہیں بلکہ ایمیزون میں موجود اپنے حصص سے حاصل کرتے ہیں۔
1994 میں ایک چھوٹے سے آن لائن بک اسٹور سے آغاز کرنے والے بیزوس نے اسے دنیا کی سب سے بڑی ای کامرس کمپنی بنا دیا ہے، جس کی وجہ سے کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں اضافے کے ساتھ ہی ان کی دولت میں اربوں ڈالر کا اضافہ ہوتا رہتا ہے۔
واضح رہے کہ جیف بیزوس 2021 میں سی ای او کے عہدے سے دستبردار ہو گئے تھے اور اب وہ کمپنی کے ایگزیکٹو چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا کے امیر ترین شخص لیری ایلیسن کون ہیں؟
انہوں نے پہلے بھی ایک انٹرویو میں واضح کیا تھا کہ وہ اپنی تنخواہ جان بوجھ کر کم رکھتے ہیں کیونکہ کمپنی میں ان کی ملکیت ہی ان کے لیے سب سے بڑا مالی فائدہ ہے۔
تاہم، ایمیزون ان کے کاروباری دوروں اور سیکیورٹی پر سالانہ تقریباً 16 لاکھ ڈالر سے زائد کے اخراجات برداشت کرتی ہے، جیف بیزوس اس وقت دنیا کے تیسرے امیر ترین شخص بن چکے ہیں۔













