امریکا کے ایران کیخلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں میں تیزی، ایشیائی اسٹاک مارکیٹیں گر گئیں

پیر 13 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی مندی کا رجحان سامنے آیا ہے۔

برینٹ کروڈ، جو عالمی معیار سمجھا جاتا ہے، اتوار کے روز 8 فیصد سے زائد اضافے کے بعد 103 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا۔ یہ پہلی بار ہے کہ قیمت دوبارہ 100 ڈالر کی نفسیاتی حد سے اوپر گئی ہے، اس سے قبل گزشتہ ہفتے قیمتیں 92 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی تھیں۔

یہ بھی پڑھیے:  ہم ایران کے ساتھ بہت گہرے مذاکرات میں ہیں، ہر صورت کامیاب ہوں گے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکی بحریہ آبنائے ہرمز میں ایران کے داخل یا خارج ہونے والے تمام بحری جہازوں کو روک دے گی۔ یہ اقدام امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی مذاکرات کی ناکامی کے بعد سامنے آیا ہے۔

تاہم بعد ازاں امریکی سینٹرل کمانڈ نے وضاحت کی کہ ناکہ بندی صرف ان جہازوں تک محدود ہوگی جو ایران سے متعلق ہوں گے، جبکہ دیگر بین الاقوامی جہازوں کی آمد و رفت جاری رہے گی۔ ناکہ بندی کا اطلاق پیر کے روز سے ہوگا۔

آبنائے ہرمز عالمی توانائی سپلائی کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً پانچواں حصہ تیل اور گیس گزرتی ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی اور حملوں کے بعد اس راستے پر بحری آمد و رفت میں نمایاں کمی آئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: اسلام آباد امن مذاکرات:ٹرمپ کا بیشتر نکات پر پیشرفت کا اعلان، ایران اگلی نشستیں و رابطے جاری رکھنے پر تیار

اعداد و شمار کے مطابق جنگ سے قبل روزانہ تقریباً 130 جہاز گزرتے تھے، تاہم حالیہ دنوں میں یہ تعداد کم ہو کر صرف 17 رہ گئی ہے۔

دوسری جانب ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی مندی دیکھی گئی، جاپان کا نکیئی 225 انڈیکس 0.9 فیصد جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی ایک فیصد سے زائد گر گیا۔ امریکی اسٹاک فیوچرز میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp