پاکستان نے پولیو کے خاتمے کے لیے سال کی دوسری ملک گیر ویکسینیشن مہم کا آغاز کر دیا جس کا مقصد 5 سال سے کم عمر کے 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں پولیو کے خلاف جاری مہم کے مثبت نتائج، رواں سال صرف ایک کیس رپورٹ ہوا
یہ مہم 19 اپریل تک جاری رہے گی جس دوران 4 لاکھ سے زائد فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز گھر گھر جا کر بچوں کو ویکسین فراہم کریں گے۔
مذکورہ مہم پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور اسلام آباد سمیت ملک بھر میں جاری ہے تاکہ دور دراز اور حساس علاقوں کے بچوں تک بھی رسائی یقینی بنائی جا سکے۔
مہم کے دوران بچوں کی مجموعی صحت اور قوتِ مدافعت بہتر بنانے کے لیے وٹامن اے کے سپلیمنٹس بھی دیے جا رہے ہیں۔ یہ اقدام افغانستان کے ساتھ مشترکہ تعاون کے تحت کیا جا رہا ہے تاکہ سرحد پار وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
پولیو پروگرام کے سربراہ انور الحق کے مطابق پاکستان نے اس بیماری کے خلاف نمایاں پیش رفت کی ہے۔ سنہ 2026 میں پولیو وائرس 87 میں سے صرف 23 اضلاع میں رپورٹ ہوا ہے جبکہ 2025 میں یہ 82 اضلاع تک پھیل چکا تھا۔
مزید پڑھیے: خیبر پختونخوا: ہنگو میں پولیو سیکیورٹی ٹیم پر فائرنگ، پولیس اہلکار شہید، 4 زخمی
اسی طرح ماحولیاتی نمونوں میں وائرس کی موجودگی بھی نمایاں طور پر کم ہو کر 651 سے کم ہو کر 40 تک آ گئی ہے۔ تاہم چیلنجز اب بھی برقرار ہیں۔ 2025 میں ملک بھر میں 31 پولیو کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ سنہ 2026 میں اب تک سندھ کے ضلع سجاول سے ایک کیس سامنے آیا ہے۔ ماہرین کے مطابق جب تک وائرس کہیں بھی موجود ہے ہر بچہ خطرے میں رہتا ہے۔
وزیرِاعظم کی پولیو کے خاتمے کی فوکل پرسن عائشہ رضا فاروق کا کہنا ہے کہ پاکستان پولیو کے خاتمے کے قریب تر پہنچ چکا ہے لیکن یہ مرحلہ سب سے زیادہ اہم ہے۔ ان کے مطابق پولیو ایک لاعلاج مگر مکمل طور پر قابلِ روک بیماری ہے جو عمر بھر کی معذوری کا سبب بن سکتی ہے۔
عائشہ رضا نے کہا کہ مہم کا مقصد ہر بچے کو ویکسین کے 2 قطرے پلا کر اس بیماری کے خلاف مدافعت پیدا کرنا ہے تاکہ ملک کو مکمل خاتمے کی منزل کے قریب لایا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہر بچے کی ویکسینیشن ہی وائرس کو روکنے کا محفوظ اور مؤثر طریقہ ہے اور والدین سے اپیل کی گئی کہ وہ ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔
اسی طرح پہلی خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری نے بھی ملک بھر کے خاندانوں سے اپیل کی کہ وہ اس قومی مہم میں بھرپور حصہ لیں تاکہ ہر بچہ اس خطرناک بیماری سے محفوظ رہ سکے۔
مزید پڑھیں: پولیو مہم: کتنے بچے ویکسینیشن سے رہ گئے، وجوہات کیا تھیں؟
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت پولیو کے خلاف جدوجہد کے انتہائی اہم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور اب وہ وقت آ گیا ہے جب ہر بچے تک رسائی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔














