پاکستان کی کامیاب ثالثی کے بعد بھارت میں افسوس و مایوسی کا ماحول چھا گیا ہے بھارتی تجزیہ کار پاکستان کی سفارتی کامیابی پر تعریف کرنے پر مجبور ہو گئے جبکہ اسی دوران نریندر مودی کو بھارتی عوام کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
ناقادین نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مودی پاکستان کو عالمی تنہائی میں لے جانا چاہتے تھے لیکن اس کے برعکس انہوں نے بھارت کو ہی بین الاقوامی طور پر الگ تھلگ کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’دنیا میں امن قائم کرنے کے لیے شکریہ‘، جنگ بندی کے بعد بھارت میں پاکستان کی تعریف، مودی پر شدید تنقید
اب جب مذاکرات کے دوسرے دور کا امکان پیدا ہو گیا ہے تو بھارتی صارف اشوک سوائن نے سماجی رابطوں کی سایٹ ایکس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ پاکستان جلد ہی ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی کرنے جا رہا ہے اور بھارتیوں کے دل جلنے والے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ بھارتی میڈیا میں ایک بار پھر شدید بے چینی دیکھنے میں آئے گی۔
Pakistan is soon going to host the 2nd round of Islamabad Talks between Iran and the US. It will give 2nd round of heartburn to the Indian media.
— Ashok Swain (@ashoswai) April 13, 2026
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کا امکان پیدا ہو گیا ہے اور یہ مذاکرات بھی ممکنہ طور پر پاکستان میں ہوسکتے ہیں۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی خبر کے مطابق اس پیش رفت سے باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ فریقین جنگ بندی ختم ہونے سے قبل کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے نئے براہِ راست مذاکرات پر غور کر رہے ہیں جبکہ دوسرے ذرائع کے مطابق اس کے لیے پاکستان نے دوبارہ میزبانی کی پیشکش بھی کردی ہے۔














